نجر زمین میں پھول نہیں اُگتے

میں نے ملک صاحب سے کہا آپ اتنے پیچھے کیوں بیٹھ گئے، صف اول میں بیٹھیں، آپ کی عزت کا تقاضا یہی ہے۔ کہنے لگے،پروفیسر صاحب آخر رہے ناں پروفیسر کے پروفیسر، بھلا آگے بیٹھنے کا عزت سے کیا تعلق ہے۔ کیا میں یہاں سے وہاں جا کر عزت والا ہو جاؤں گا۔ کیا عزت کرنا اور ملنا اتنا ہی آسان ہے؟

 میں نے کہا ملک صاحب دیکھا تو یہی گیا ہے۔ اگلی قطار والے زیادہ معززین کہلاتے ہیں۔ یہ سن کر کہنے لگے،عزت ذلت کے ایسے کھوکھلے معیار اُن معاشروں کا شیوہ ہوتے ہیں جہاں عزت و ذلت کے حقیقی معیار ناپید ہو جائیں۔وی آئی پی بننے کا خبط بھی اسی خرابی کی ایک کڑی ہے اگر اگلی صف میں جگہ ہے تو ضرور آگے جانا چاہئے لیکن نہیں ہے تو پھر اسے اپنی عزت کے کھو جانے کا عمل نہیں سمجھنا چاہئے۔ ملک صاحب نے اپنی جگہ سے اُٹھنا تھا نہ اُٹھے۔ مجبوراً میں بھی اُن کے ساتھ بیٹھ گیا۔

تھوڑی دیر گزری تھی کہ ملک صاحب کے پاس لوگ جوق در جوق آنے لگے۔ملک صاحب کو جاننے والوں میں سے جن کی نظر بھی اُن پر پڑتی تھی، ہاتھ ملانے اور سلام کرنے پہنچ جاتا تھا۔ کئی ایک یہ اصرار بھی کرتے کہ اگلی نشستوں پر آ جائیں مگر ملک صاحب معذرت کر لیتے۔ کچھ دیر بعد ملک صاحب نے میری طرف دیکھا،آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال کیا، میں خاموش رہا تو کہنے لگے تمہیں سمجھانے کے لئے بتا رہا ہوں کہ پیچھے بیٹھ کے بھی میری وہی عزت ہے جو آگے بیٹھ کر ہوتی۔ بلکہ اُس صورت میں کم ہو جاتی جب منتظمین کسی دوسرے کو اٹھا کے مجھے بٹھاتے۔

میں ملک صاحب کے عمل اور باتوں سے بہت متاثر  ہوا، لیکن ساتھ ہی مجھے ایک اور صاحب یاد آ گئے،اُن کا رویہ اِس حوالے سے بہت جارحانہ ہے۔اُن کی خواہش ہوتی ہے جب وہ تقریب کے لئے ہال میں داخل ہوں تو ہر طرف تھرتھلی مچ جائے۔اگلی نشستوں میں جگہ ہو نہ ہو، اُن کے لئے نشست ضروری ہوتی ہے، نہ ہو تو ہنگامہ برپا کر دیتے ہیں یا ناراض ہو کر واک آؤٹ کر جاتے ہیں۔ اتفاق ہے کہ میری اُن سے بھی یادِ اللہ ہے، ایک دن میں اُن کے پاس بیٹھا تھا کہ کچھ لوگ کسی تقریب کا دعوت نامہ لائے۔ انہوں نے کہا اس تقریب میں میرا کردار کیا ہے، منتظمین نے کہا آپ چونکہ شہر کے معززین میں شامل ہیں اس لئے آپ کا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے پوچھا مجھے سٹیج پر بٹھاؤ گے تو آؤں گا۔ میری عزت کا سوال ہے۔منتظمین نے کہا چیئرمین سے پوچھ کر بتائیں گے اور چلے گئے۔

میں نے پوچھا کیا یہ اتنا ضروری ہے کہ سٹیج پر بیٹھنے کی شرط رکھی جائے، کیا یہ احساسِ کمتری نہیں۔ وہ تھوڑے غصے میں آ گئے اور کہا تم بہت احمق آدمی ہو تمہیں پتہ نہیں کس ملک میں رہ رہے ہو۔ یہاں کوئی کسی کی عزت نہیں کرتا بلکہ عزت کرانی پڑتی ہے۔میں نے کہا حضور، یہ کرانی پڑتی ہے،آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا اِس کا مطلب یہ ہے جس طرح تھانیدار ڈنڈے کے زور پر انہیں عزت کراتا  ہے، وہ جائز ہے، کوئی بدمعاش کوئی وڈیرا، کوئی سرمایہ دار، کوئی افسر گر ظلم ڈھا کر اپنی عزت کراتا ہے تو اسے درست سمجھا جائے؟ زبردستی کسی کو کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہماری عزت کرے؟ وہ تھوڑے غضب ناک ہوئے، پھر کہنے لگے اچھا تم بتاؤ اِس ملک میں عزت کرانے کا اور کیا طریقہ ہے۔میں نے کہا آپ اچھے کام کریں،لوگوں کے مسئلے حل کریں، ایمانداری سے زندگی گزاریں، کسی کو تکلیف نہ دیں۔ لوگ آپ کی عزت کریں گے۔ اتنے میں تقریب کا ایک منتظم آیا اور اُس نے کہا جناب سٹیج پر آپ کی کرسی موجود ہو گی۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں آ جاؤں گا۔

 وہ چلا گیا تو صاحب بہادر نے کہا دیکھا یہ ہوتا ہے اپنی عزت کرانے کا طریقہ۔ میں نے کہا، مگر ان کی کیا مجبوری  ہے کہ انہوں نے آپ کی شرط مان لی۔کہنے لگے میں جو لفافہ انہیں دے کر آؤں گا وہ اُن کی مجبوری ہے اور یہی اس ملک میں عزت کا معیار ہے۔میں نے اُن کی بات پر غور کیا تو مجھے بہت سی چیزیں صاف نظر آنے لگیں۔ ہمارے معاشرے میں تو ہر کوئی پروٹوکول کا متلاشی ہے۔ کوئی غریب اس سے ماورا ہے اور نہ امیر، کسی قطار میں لگنا پڑ جائے تو ہمیں یوں لگتا ہے جیسے کسی نے ہمیں گٹر میں دھکا دے دیا ہے ۔ہر کام میں پہلے کوئی ایسا بندہ ڈھونڈتے ہیں،جو دروازے سے لے آ کر ہمیں لے جائے، کرسی پیش کرے پھر ہمارا کام کرائے۔

مجھے ایک دوست نے دو روز پہلے فون کیا، کہنے لگے عمرے پر جا رہا ہوں، کہا لاہور ایئر پورٹ پر کوئی واقفیت ہے۔میں نے جھٹ سے مذاق میں کہا کیا جعلی ویزے پر جا رہے ہو۔ غصے سے بولا کیسی باتیں کر رہے ہو،میں عمرہ کرنے جعلی ویزے پر جاؤں گا۔  میں نے پوچھا تو پھر واقفیت کی کیا ضرورت ہے۔کہنے لگا یار رش ہوتا ہے، لمبی لمبی قطاریں، ذرا پروٹوکول لگ جائے تو امیگریشن کے مراحل آسان ہو جائیں گے۔ میں نے کہا یار محسن تم عمرے پر جا رہے ہو اور ابھی سے تمہاری کوشش ہے دوسروں کا حق مار کر میں آگے چلا جاؤں، یہ تو اچھی بات نہیں۔ پھر میں تمہیں یہ بھی بتا دوں،وہاں جدہ ایئر پورٹ پر کوئی پروٹوکول نہیں ملتا، کوئی ایسی حرکت نہیں کرنا، جس پر سعودی تمہیں کان سے پکڑ کر روک لیں۔ کہنے لگا تم آگے کی باتیں چھوڑو لاہور ایئر پورٹ پر پروٹوکول دلواؤ۔ساتھ بیگم بھی ہے میری اُس کے سامنے بھی ٹور بن جائے گی۔ میں نے اُسے کہا کوئی براہِ راست تو واقف نہیں،بہرحال کوشش کرتا ہوں۔ فون بند ہوا تو میں نے سوچا وہ صاحب بہادر بھی ٹھیک کہتے تھے، اس ملک میں عزت زبردستی کرانی پڑتی  ہے کیونکہ ہم سب نظام کے تحت چلنے کی بجائے قطار سے نکل کر چلنا چاہتے ہیں۔

میں نے دو روز پہلے ایک تقریب میں ایسا منظر دیکھا جس کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ اس معاشرے میں ذلت کے معیار لوگوں نے ازخود ایسے بنا رکھے ہیں کہ جن میں عزت ایک عجیب سا ڈھکوسلا بن گئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ شادی کی تقریب میں علاقے کی مسجد کے پیش امام سادہ سے کپڑوں میں آئے،انہیں اکثر لوگ جانتے تھے، سب بیٹھے بیٹھے اُن سے سلام دُعا کرتے رہے۔ کسی نے بڑھ کر انہیں تعظیم نہیں کی،گلے نہیں لگایا،وہ بالآخر ایک خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔سب جانتے تھے کہ وہ انتہائی بھلے مانس انسان اور لالچ و طمع سے عاری شخص تھے مگر اُن کی نظر میں امام صاحب کی بہرحال اتنی عزت نہیں تھی کہ انہیں اُٹھ کر ملا جاتا۔ اتنے میں شہر کا نامی گرامی صنعتکار جس کے بارے میں اَن گنت کہانیاں موجود ہیں، ٹیکس اور بجلی چوری کے حوالے سے کئی مقدمات بھی درج  ہیں، پنڈال میں داخل ہوا۔ وہ جہاں جہاں سے گزرا لوگ ایسے کھڑے ہو کر اُسے سلام کرتے رہے جیسے اس سے بڑا باعزت شخص کوئی نہ ہو۔ کئی ایک نے تو آگے بڑھ کر اسے گھٹنوں کو چھو کر سلام کیا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)