امریکہ کے لیے ایران پر حملہ آسان نہیں ہوگا!
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 11 / فروری / 2026
صدر آصف علی زرداری نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی جنگی کارروائی خطرناک ہوگی اور اس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکے گا۔ اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانہ کی طرف سے انقلاب کی 47 ویں سالگرہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر پاکستان کا یہ بیان پاکستان کی سرکاری پالیسی کے عین مطابق ہے۔ پاکستان نے دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ کم کرنے میں سہولت کاری کی کوشش کی ہے۔ خوش قسمتی سے مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں اس معاملہ پر اتفاق رائے موجود ہے ۔ وہ پاکستان، ترکیہ اور آذر بائیجان کے ساتھ مل کر خطے میں استحکام اور امن کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم ایک طرف تہران میں سخت گیر مذہبی حکومت موجود ہے جو تمام تر اندیشوں کے باوجود زیادہ مراعات دینے پر آمادہ نہیں ہے کیوں کہ تہران کے لیڈر امریکہ کے سامنے کمزور سکھائی نہیں دینا چاہتے۔ گو کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں یا یورنیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پر اپنی پوزیشن تبدیل کی ہے لیکن وہ اپنے لب و لہجہ سے ایرانی عوام کو یہ دکھانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ایران، امریکہ سے مرعوب یا خوفزدہ نہیں ہؤا بلکہ ایک باوقار ریاست کے طور پر اس کے سامنے سینہ سپر ہے۔
اسی لیے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک تازہ بیان میں ایران کی جوہری تنصیبات کے معائینہ پر لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ مغربی میڈیا میں یہ خبر آج ایک ایسے مثبت اشارے کے طور پر پیش کی گئی کہ ایران ، امریکہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کا خواہاں ہے۔ دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی وفود نے گزشتہ جمعہ کو عمان میں براہ راست بات چیت کی تھی اور پھر اپنی قیادت سے مشاورت کے لیے وقفہ کیا گیا تھا۔ مذاکرات کا دوسرا دور کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔ تاہم اس سے پہلے دونوں طرف سے جاری ہونے والے بیانات میں ملے جلے اشارے موجود ہیں۔ اس لیے مبصرین کے لیے یہ کہنا مشکل ہورہا ہے کہ کیا امریکہ علاقے میں اپنا بحری بیڑا متعین کرنے کے بعد شدت پسندی سے معاملات آگے بڑھائے گا یاخطے میں امن اور علاقے میں اپنے حلیف ممالک کی خوشنودی کے لیے افہام و تفہیم سے معاملات طے کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔
ایرانی لیڈروں کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ 1979 کے انقلاب کے بعد اس کا سرکاری بیانیہ امریکہ مخالفت میں تیار کیا گیا تھا اور امریکہ کو ’شیطان بزرگ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ ایرانی لیڈر امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے علاوہ دنیا بھر میں تمام خرابیوں اور ناانصافیوں کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ البتہ تبدیل شدہ حالات میں ایرانی لیڈروں کے پاس کسی بھی طرح امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس لیے ایک طرف تہران سے مثبت اشارے موصول ہوتے ہیں تو دوسری طرف بین السطور یہ دعویٰ کرنے کی کوشش بھی کیا جاتی ہے کہ ایران مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی قومی خود داری پر سودے بازی نہیں کرے گا۔ یہ بیانیہ درحقیقت ایران میں اس گروہ کو مطمئن اور خوش کرنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے جو ابتر معاشی حالات اور عوام کی شدید بے چینی میں بھی سیاسی طور سے موجودہ رجیم کا حامی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے بیانات ایرانی عوام میں قوم پرستی کا جذبہ بھی ابھارتے ہیں ۔ یوں ایرانی لیڈر یہ باور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حال ہی میں شدید اور خوں ریز احتجاج کے بعد بہر حال وہ ’امریکہ کے سامنے ڈٹے رہنے‘ کا تاثر دے کر ایرانی عوام کی ہمدردیاں سمیٹ سکتے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا تازہ بیان اسی الجھن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف وہ جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور سے دست بردار ہونے کا اعلان کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کا حصول نہیں چاہتا ور ہم اس کی تصدیق کرنے کو بھی تیارہیں‘۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ ’یورپ اور امریکہ نے جو بداعتمادی کی دیوار کھڑی کر دی ہے اس کے بعد ان مذاکرات کے مؤثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ایران زیادہ مطالبات کے سامنے سر نہیں جھکائے گا‘۔ حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اس بات کا اعادہ کررہے ہیں کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم وہ اس کے ساتھ ہی ناکامی کی صورت میں ایران کو سخت کارروائی کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ گزشتہ رات ہی انہوں نے فوکس نیوز کودیے گئے انٹرویو میں اس بات کو دہرایا ہے۔
ایران کی جوہری صلاحیت پر کنٹرول امریکہ اور مغربی ممالک کی دیرینہ سفارتی خواہش رہی ہے ۔ اب ایران اس معاملہ پر معاہدہ کرنے پر آمادہ ہے۔ وہ ایک طرف جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کررہا ہے تو دوسری طرف اب یہ اعلان بھی کردیا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے عالمی انسپکٹر ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ بھی کرسکتے ہیں۔ اگرچہ جون میں جب امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا اور انہیں مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ کیاگیا تھا، اس وقت بھی ایران نے عالمی معائنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی تھی۔ تاہم اب ایران نے بیلسٹک میزائلز کے بارے میں سخت پالیسی اختیار کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام پر بات نہیں ہوسکتی۔ یہ ایران کی خود مختاری اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ، امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران کے ساتھ صرف جوہری صلاحیت کے بارے میں معاہدہ نہ کیا جائے بلکہ اس کے میزائل پروگرام کو بھی بند ہونا چاہئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس وقت واشنگٹن کے دورے پر ہیں اور صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے یہی تجویز دی ہے۔
ایران پر امریکی دباؤکے اس نئے مرحلے میں صدر ٹرمپ درحقیقت صرف جوہری پروگرام پر پابندی ہی کا مطالبہ کررہے تھے۔ انہوں نے پہلے کبھی ایرانی میزائل پروگرام کا حوالہ نہیں دیا لیکن اسرائیل کے مسلسل دباؤ کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اب یہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ ایران کو میزائل پروگرام اور ریجن میں پراکسی گروہوں کے بارے میں بھی وعدے کرنے ہوں گے۔ اسرائیلی دباؤ ہی کے نتیجہ میں صدر ٹرمپ نے بھی یہ کہا ہے کہ ایران کو ’جوہری ہتھیاروں اور بلیسٹک میزائل بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اگر جوہری صلاحیت کے بارے میں کسی قابل قبول معاہدے پر راضی ہوجاتا ہے تو ٹرمپ حکومت شاید میزائل پروگرام پر زیادہ اصرار نہ کرے۔
یوں تو دونوں ملکوں کے لیڈر مذاکرات میں پیش رفت کی بات کرتے ہیں لیکن صدر ٹرمپ کا امریکی فوجی صلاحیت پر غیر ضروری اعتماد اور دھمکی آمیز لب و لہجہ اس بات چیت کو کسی بھی مرحلےپر ناکامی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکومت اگرچہ سرکاری طور سے مذاکرات سے معاملات طے کرنے کی حمایت کرتی ہے اور نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی حملے کے حامی نہیں لیکن امریکہ پر اسرائیلی اثر و رسوخ بھی ایران کے ساتھ بات چیت کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم مذاکرات کی کامیابی کے لئے جو عوامل قابل ذکر ہیں ان میں سعودی عرب اور ترکیہ سمیت متعدد مسلمان ممالک کی سفارت کاری اور چین کا نامعلوم دباؤ شامل ہے۔
عام طور سے ایران کو امریکی دھمکیوں کے تناظر میں چین کے کردار کو فراموش کردیا جاتا ہے۔ چین ، ایرانی تیل کا بڑا گاہک ہے ۔ اس کے علاوہ ایران اس کے لیے اسٹریٹیجک حوالے سے اہم ہے۔ ایران میں امریکہ نواز حکومت پاکستان پر منفی انداز میں اثر انداز ہوسکتی ہے جہاں سرحدی صوبے بلوچستان میں چینی منصوبے روڈ اینڈ بیلٹ کا اہم حصہ پاک چین معاشی راہداری کے نام سے زیر تکمیل ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کیا تھا اور وہاں تیل پیداوار پر تسلط قائم کرکے جنوبی امریکہ میں چینی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے میں دیکھنا ہوگا کہ کیا چین جو براہ راست کسی جنگ میں حصہ نہیں لینا چاہتا، ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی صورت میں کیا طرز عمل اختیار کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ تمام تر جارحیت کے باوجود چین کے رد عمل کو نظر انداز نہیں کرسکیں گے۔ چینی لیڈر چونکہ امریکہ کی طرح دھمکیاں دینے اور دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل نہیں کرتے ، اس لیے ایران پر حملہ کرتے ہوئے امریکہ کو چینی رد عمل کے بارے میں صرف اندازہ ہی قائم کرنا ہوگا۔ یہ اندازہ غلط ثابت ہوگیا تو امریکی جارحیت بہت بڑے علاقائی یا عالمی تنازعہ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ امریکہ بھی شاید ایسے کسی ایڈونچر کے لیے تیار نہ ہو۔
صدر زرداری نے متوازن لب و لہجہ میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پرامن راستہ اختیار کرنے کا جو مشورہ دیاہے، وہ اپنے معانی میں امریکہ کو ایک سنجیدہ مشورہ اور انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور شروع کرتے ہوئے امریکہ اسلام آباد سے آنے والے اشاروں کو نظر انداز نہیں کرسکے گا۔