ذکر ایک اہم شخصیت کی بیماری کا

قیاس آرائی کو فسادِ خلق کے خوف سے سرکار مائی باپ نے سنگین جرم بنا دیا ہے۔ اس کے مرتکب صحافی یا سوشل میڈیا پر متحرک صحافی نما تبصرہ فروش عبرت کا نشانہ بنائے جائیں گے۔ مجھ جیسے قلم گھسیٹ تو ویسے ہی پیدائشی بزدل ہیں۔ کونے میں بیٹھ کر دہی کھانے کے عادی۔

صحافی ہونے کی تہمت مگر ذات کے ساتھ چپک گئی ہے۔ عمر کے اس حصے میں اس سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ اپنے ٹیلی فون پر نصب واٹس ایپ لہٰذا جب بھی کھولتا ہوں تو ایسے پیغامات دیکھنے کو ملتے ہیں جو ”حساس“ موضوعات پر قیاس آرائی کو اْکساتے ہیں۔ لاحول پڑھتے ہوئے ان سے جند چھڑا لیتا ہوں۔ بدھ کی صبح اٹھا تو ایک نہایت ذہین اور مہربان دوست نے ایک مختصر پیغام بھیج رکھا تھا۔ موصوف انگریزی زبان پر قابلِ رشک گرفت کے حامل ہیں۔ ان کے بھیجے پیغام کی ندرت اردو میں منتقل کرنا ممکن نہیں۔ کوشش کرنے میں لیکن کوئی حرج بھی نہیں۔ پیغام کا عنوان تھا: ”ڈیل (سمجھوتے ) کے چار مراحل“ کسی کی بیماری کو اس کا پہلا مرحلہ قرار دینے کے بعد ذکر ہوا پہلے ہسپتال، اس کے بعد گھر منتقلی اور بالآخر ”پروازِ آزادی“ ۔ چاروں مراحل کو یک سطری فقروں میں بیان کردینے کے بعد سوال اٹھایا گیا کہ ”آج ہم ڈیل کے کون سے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں؟“

مذکورہ پیغام دیکھتے ہی ذہن میں سوال اٹھنا چاہیے تھا کہ کون سی ”ڈیل“ کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ مگر ذہن میں اٹھا ہی نہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ روایتی ہی نہیں بلکہ صرف سوشل میڈیا ہی کو توجہ سے دیکھنے والوں کے اذہان میں بھی یہ سوال نہیں اٹھے گا۔ شاعر نے کہہ رکھا ہے کہ ”سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں“ اور سمجھنے والوں کو علم ہے کہ ان دنوں کس کی بیماری کا تسلسل اور فکر مندی سے ذکر ہو رہا ہے۔ بیماری کی خبر آنے کے بعد ”موثر اور غیر موثر“ کی بحث میں اُلجھے بغیر بیمار ہوئے شخص کے وکیل کو ”عدالت کا دوست“ مقرر کرتے ہوئے عالی جناب چیف جسٹس صاحب نے قیدی کی ”حالتِ زار“ کا جائزہ لینے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھجوا دیا۔ ان کی لکھی رپورٹ بدھ کے روز چیف جسٹس صاحب کو بھجوا دی جائے گی۔ ہم رعایا کو اس کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا یا نہیں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایک اہم شخصیت کی بیماری اور ”حالتِ زار“ کا ذکر مگر شروع ہو گیا ہے۔ لفظ ”حالتِ زار“ کا استعمال اپنے تئیں سننے والے کے دل میں پریشانی اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ ”عدالت کے دوست“ کی جانب سے قیدی کی ”حا لتِ زار“ کے بارے میں لکھی رپوٹ کس جانب لے جائے گی؟ اس کے بارے میں قیاس کے گھوڑے دوڑانا اقتدار و اختیار کے مراکز شمار ہوتے دفاتر کی راہداریوں کے لئے شودر قرار پائے دو ٹکے کے رپورٹر کی ”اوقات“ نہیں۔

قیاس آرائی جرم ہے لیکن خیال آرائی فن کاری۔ خیال آرائی نے اردو میں فارسی زبان کے تخلیق کاروں کو استعاروں کی نعمت سے مالا مال کیا۔ کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ دیتے اور پنجابی محاورے کے مطابق پکڑائی بھی نہ دیتے۔ بے ہنر افراد مگر خیال آرائی کی نعمت سے محروم ہوا کرتے ہیں۔ متحرک رپورٹنگ سے ریٹائر ہوا مجھ جیسا شخص البتہ ماضی کے واقعات یاد کرتے ہوئے آج کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ گاڑی کے بیک مرر سے پیچھے آنے والی ٹریفک پر نگاہ ڈالتے ہوئے آگے بڑھنے کی مشق۔

2007 بہت پرانی بات ہے۔ جن۔ زی کے لئے تو پتھر کا زمانہ تصور ہوگی۔ اس برس کا آغاز ہوتے ہی مگر ان دنوں کے صدر جنرل مشرف کی پیپلز پارٹی کے ساتھ ممکنہ ڈیل کی سرگوشیاں اسلام آباد کے طاقتور ڈرائنگ روموں میں شروع ہو گئی تھی۔ سرگوشیاں جاری تھیں تو بغیر فون کیے ایک آشنا ڈاکٹر اچانک میرے گھر آ گئے۔ انہوں نے صحافی دوست کا دھندا چمکانے کی خاطر انکشاف کیا کہ آصف علی زرداری صاحب کو علاج کے لئے جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر کی دی خبر کی تصدیق کے لئے مگر کوئی رضا مند نہیں تھا۔ میرے لئے اگرچہ یہ حقیقت ہی کافی تھی کہ بغیر فون کیے میرے ہاں آنے والا ڈاکٹر اسی ہسپتال میں تعینات تھا اور اس کو مجھے مصیبت میں ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک قابل اعتماد راوی کے ہوتے ہوئے بھی لیکن میں نے انگریزی اخبار کے لئے لکھے کالم میں اشاروں کنایوں میں ”پیپلز پارٹی کی اہم شخصیت“ کے علاج کی خاطر پمز آنے کا ذکر کر دیا اور بعد ازاں آصف علی زرداری صاحب کی پمز کے ایک خصوصی وارڈ میں باقاعدہ منتقلی بھی ہو گئی۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔

پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف صاحب بھی کسی زمانے میں ”سزا یافتہ قیدی“ ہوا کرتے تھے۔ جیل میں لیکن ان کے ساتھ ”پلیٹ لیٹس“ والا معاملہ ہوا۔ مخالفینِ نواز شریف نے اس کی بھد اڑائی۔ ”باریاں لینے والے چوروں اور لٹیروں“ کے مقابلے میں ”تیسری قوت“ کے طور پر ابھرے عمران خان ان دنوں وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ قومی خزانے سے مبینہ طور پر چرائی دولت کی ”چور اور لٹیرے“ سیاستدانوں سے بازیابی ان کا کلیدی مشن تھا۔ مذکورہ مشن سے جنونی لگن کے مسلسل اظہار کے باوجود نواز شریف صاحب کو جیل سے لاہور کے ایک ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ جب وہ ہسپتال میں تھے تو مولانا فضل الرحمن کراچی سے اپنے لشکر کی صورت جمع ہوئے حامیوں کے ساتھ لاہور پہنچ چکے تھے۔ اپنے ”دوست“ کی عیادت کی خاطر ہسپتال میں ملنے کی سہولت سے مگر محروم رہے۔ لانگ مارچ کے ہنگام میں نواز شریف کی ”مزاج پرسی“ سے گریز نے تاہم فیصلہ کرنے والوں کے دلوں کو مزید نرم کر دیا اور معاملہ بالآخر ان کی لندن منتقلی کی طرف بڑھا۔

گزشتہ چند ہفتوں سے اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحات میں گرفتار ایک اور اہم شخصیت کی بیماری زیر بحث ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ کو ان کی ”حالتِ زار“ کا جائزہ لینے کے لئے ”عدالت کے ایک دوست“ کو اڈیالہ بھجوانا پڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں کیا ہو گا؟ مذکورہ سوال کا جواب دیتے ہوئے مجھے قیاس آرائی سے خوف آتا ہے۔ خیال آرائی بھی بے ہنر کے بس میں نہیں۔ واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہوئے ایک پیغام نے ماضی کی چند یادیں دہرانے کو مجبور کر دیا۔ مجھے ہرگز خبر نہیں کہ کوئی ”ڈیل“ ہو رہی ہے یا نہیں اور اگر ہو بھی رہی ہے تو وہ کون سے مرحلے میں ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)