عمران خان جہاں چاہیں، علاج کرائیں گے: طارق چودھری

  • جمعہ 13 / فروری / 2026

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی تکلیف پر سیاست مجرمانہ کوشش ہے، جیل حکام اور حکومت کے کہنے پر پمز میں علاج ہوا، آئندہ بھی ہرممکن علاج کرائیں گے۔ عمران خان جہاں چاہتے ہیں، انہیں علاج کی اجازت دی جائے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ کسی بھی قیدی کی دیکھ بھال نہ ہورہی ہوتو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں، ہمارے  ان سے صرف سیاسی اختلافات ہیں۔طارق فضل چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہی سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کا رنگ دیا، بانی پی ٹی آئی اپنے جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ عمران  خان  کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، بانی کی تکلیف پر بھی سیاست ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل حکام اور حکومت کے کہنے پرہی پمز ہسپتال میں علاج معالجہ ہوا، ایک سپر سپیشلسٹ نے  ان کی صحت پر ایک رپورٹ مرتب کی، چیف جسٹس آف سپریم کورٹ خود اس کیس کو دیکھ رہے ہیں۔ جہاں کہیں گے بانی کی آنکھ کا معائنہ کرایا جائے گا۔

طارق فضل چودھری نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے،حقائق کوتوڑ مروڑ کر پیش کرنا مجرمانہ غفلت ہے۔ آنکھوں کے بہترین ڈاکٹروں کو دکھایا جائے گا۔ بانی کی آنکھ کا ہر ممکن علاج کرائیں گے، احتجاج پارلیمنٹیرینز کا حق ہے، اس کیس کو سیاسی انداز میں نہ اچھالا جائے اورنہ ہی سیاست کی جائے۔

درین اثنا پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ مرکزی بھی گیٹ بند کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ گیٹ کے باہر بکتر بند گاڑیاں پہنچا دی گئیں۔ اسلام آباد ریڈ زون کو مکمل بند کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہے۔ ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس جانے نہیں دیا جا رہا۔ پولیس نے ممبر اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو ریڈیو پاکستان چوک پر روک لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا دھرنا پرامن ہوگا۔ عمران خان سے ان کے ذاتی معالج اور فیملی کی ملاقات کروائی جائے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا پہلے مجھے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے۔ ملک میں اچھے ڈاکٹرز موجود ہیں ان کا علاج کروانا چاہتے ہیں، اس معاملے کو الجھائے بغیر حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔