بنگلہ دیش کے انتخابات میں بی این پی اتحاد نے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی

  • جمعہ 13 / فروری / 2026

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ملک میں منعقد ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔  پارتی نےحکومت بنانے کا اعلان کر دیا جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے 15 فروری کو حکومت بنانے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ بی این پی تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی، جماعت اسلامی نے اچھی حریف پارٹی ہونے کا ثبوت دیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بنگالی نیوز چینل جامونا ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو انتخابات میں بڑی اکثریت مل گئی ہے۔ اب تک غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو300 نشستوں میں سے 212 نشستوں پر کامیابی مل چکی ہے جبکہ جماعت اسلامی اتحاد کو 70 نشستوں پر فتح نصیب ہوئی ہے۔نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ سیٹیں جیت پائی ہے، ووٹوں کی گنتی اب تک جاری ہے، ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا۔ 

بنگلہ دیش کے لوگوں کی صبح کا آغاز اس خبر سے ہوا ہے کہ بی این پی برتری حاصل کر رہی ہے اور اگلی حکومت بنانے کے قریب ہے، بنگلہ دیشی اخبارات نے پہلے ہی بی این پی کی فتح کے امکانات ظاہر کر دیے ہیں، اب بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ بی این پی کے رہنما طارق رحمان ملک کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔چیئرمین بی این پی طارق رحمان دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے، امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان بھی اپنی نشست جیت گئے، اتحادی طالبعلم رہنما ناہید اسلام نے ریکارڈ ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔

بھارت میں  جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی شیخ حسینہ نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دے دیا ہے۔ واضح رہے عوامی لیگ کو انتخابات میں  حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان کی جانب سے طارق رحمان کو بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دے دی ہے۔صدر اور وزیراعظم نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو انتخابات کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ اپنے تاریخی، برادرانہ اور ہمہ جہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نےکہا  ہےکہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں۔ ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے۔ بیان میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دوسری عبادت گاہوں میں جا کر خدا کا شکر ادا کریں۔

دوسری طرف چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا  ہےکہ آئینی حق ادا کرنے میں عوام نے بھرپورحصہ لیا۔بی این پی کی سب سے بڑی حریف جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ ’مخالفت کی سیاست‘ کے بجائے ’مثبت سیاست کے تحت‘ آگے بڑھے گی۔

عالمی مبصرین کا خیال ہے الیکشن کے بعد ملک کی صورت حال میں استحکام آنے کی توقع ہے۔ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی رکھنے والے اسلامی ملک پر قریباً 15 برس تک شیخ حسینہ واجد کی جماعت کی حکومت رہی جس سے عوام کو کافی شکایات بھی رہیں اور اس کے نتیجے میں اگست 2024 میں شدید احتجاجی لہر اٹھی تھی۔