بنگلہ دیش کے انتخابات

جولائی 2024  میں  طالب علموں کے احتجاج کے  نتیجے میں آنے والی تبدیلی کے بعد  نگران حکومت نے پہلی مرتبہ انتخابات منعقد کرائے ہیں۔ انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے تین سو ارکان پر مشتمل  پارلیمنٹ ’جتیہ سنگساد‘ میں دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔ جماعت اسلامی دوسری بڑی پارٹی کے  طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔

الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کے مطابق عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 209 جبکہ جماعتِ اسلامی نے 68 نشستیں حاصل کی ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی این سی پی نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔  واضح رہے  نیشنل سٹیزین پارٹی  2024 کے احتجاج کی قیادت کرنے والے طالب علم لیڈروں نے قائم کی تھی۔ تاہم اس نئی پارٹی نے صرف تیس نشستوں پر انتخاب لڑا لیکن ان میں سے چھے پر کامیاب ہوئی ہے۔ نئی پارٹی کے طور پر مبصرین کے نزدیک یہ کامیابی  بری نہیں ہے لیکن  حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کو نیا سیاسی رخ دینےوالی تحریک کے لیڈروں کی  انتخابی کارکردگی سے یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انقلاب کا نعرہ  ہیجانی کیفیت میں تبدیلی تو لاسکتا ہے لیکن  یہ کسی پائیدار عوامی رائے کا اظہار نہیں ہوتا۔  بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے۔

یہ انتخابات اس لحاظ سے قابل ذکر سمجھے جارہے ہیں کہ ایک بڑی پارٹی نے پارلیمنٹ میں  دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔ اس طرح بحران کا شکار یہ چھوٹا سا ملک استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ بی این پی کے لیڈر طارق رحمان جو ممکنہ  طور سے آئیندہ وزیر اعظم  ہوں گے، بھی اپنی انتخابی مہم میں اس  سچائی کا اعتراف کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان  کی پہلی ترجیح امن و امان کی بحالی اور صنعتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا تاکہ لوگوں کو روزگار میسر ہو اور   انہیں بروقت تنخواہ مل سکے۔  تاہم سیاسی استحکام کی خواہش اور اس کا حصول دو مختلف چیزیں ہیں۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں واضح  ہوسکے گا کہ طارق رحمان کس حد تک استحکام اور امن و امان کے بارے میں اپنے وعدے اور خواہش پر عمل کرپاتے ہیں۔ وہ  اٹھارہ  برس جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد  دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئے تھے تاکہ عوامی لیگ کے  بغیر منعقد ہونے والے انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ وہ بیگم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں جو عوامی لیگ کی حسینہ شیخ کے ہمراہ گزشتہ چالیس سال تک بنگلہ دیش کی سیاست پر حاوی رہی  تھیں۔ تاہم جولائی 2024 کے احتجاج کے نتیجے میں حسینہ شیخ کو بھارت میں سیاسی پناہ لینا پڑی جبکہ بیگم ضیا کو جیل سے رہائی ملی تو  ان کی صحت  نے انہیں سرگرم سیاسی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اپنے بیٹے طارق رحمان کی وطن واپسی کے دو ہفتے بعد  30 دسمبر 2025 کو ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے بعد طارق رحمان نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور اب وزیر اعظم بننے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کے انتخابات ان معنوں میں قابل تعریف ہیں کہ یہ بڑی حد تک پر امن رہے اور ان  میں ساٹھ  فیصد کے لگ بھگ ووٹروں نے حصہ لیا۔  گزشتہ انتخابات میں   ووٹنگ  میں حصہ لینے والوں کی شرح 42 فیصد تھی۔ اس طرح جمہوری نظام پر عوام کی اکثریت نے اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس عمل کا یہ پہلو بھی خوش آئیند ہے کہ انتخابات  کے بعد تمام  پارٹیوں نے انتخابی نتائج کو قبول کیا ہے۔ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت اسلامی نے بعض تحفظات کے باوجود   انتخابات میں اپنی شکست  تسلیم  کرلی ہے۔ تاہم ان انتخابات کی اس کمزوری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ    پندرہ سال تک ملک پر حکومت کرنے والی حسینہ شیخ کی پارٹی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی لیے حسینہ شیخ نے  ان انتخابات کو ’ڈھونگ‘ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کو انتخابات جیسے سیاسی عمل میں حصہ لینے سے روکنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہوتا کہ اس پارٹی کی عوامی قبولیت موجود نہیں ہے ۔ بلکہ یہ کسی ملک کی  انتظامیہ  کی  اس کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک مخصوص سیاسی طاقت کا سامنا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی ، اس لیے پابندی کے ذریعے اسے انتخابی عمل سے باہر  کردیا جاتا ہے۔  حسینہ شیخ نے اپنے دور میں جماعت اسلامی پر پابندی لگائی ہوئی تھی لیکن یہ پابندی اٹھنے کے بعد جماعت اسلامی پارلیمنٹ کی قابل  ذکر تعداد  میں سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔  بنگلہ دیش کے متعدد  مبصر اگرچہ امید کررہے ہیں کہ عوامی لیگ کے بغیر ملک کا سیاسی نظام مستحکم ہوجائے گا۔ لیکن ایک تو جمہوری  نقطہ نظر اور  آزادی اظہار کے  حوالے سے یہ غلط طریقہ ہے۔ دوسرے  عوام کے اس طبقے کی مایوسی میں اضافہ ہوگا جنہیں ایک بڑی جماعت پرپابندی لگا کر یا تو انتخابی عمل سے باہر کردیا گیا یا پھر کسی ایسے متبادل کی  طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا گیا جو ان کا پہلا چوائس نہیں تھا۔

بنگلہ دیش کے انتخابات اگرچہ جمہوری بنیاد پر منعقد ہوئے ہیں لیکن اس انتخاب میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے والی  بی این پی بھی اپنی مرضی سے آئینی تبدیلیاں نہیں لاسکے گی۔ بلکہ عبوری حکومت نے جو فوج کی براہ راست نگرانی   میں کام کررہی ہے ، ایک چارٹر کے ذریعے متعدد تجاویز کے ایک ایسے منصوبہ پر  بھی عوام سے رائے حاصل کی ہے   جو اب ترامیم کے ذریعے ملکی آئین کا حصہ بنیں گی۔ گویا انتخابات میں دو تہائی اکثریت لینے کے باوجود  بی این پی کے ہاتھ پہلے سے باندھ دیے گئے تھے۔ جس  آئینی چارٹر پر ریفرنڈم کرایا گیا ہے، اس کے مطابق کسی شخص کو دو بار سے زیادہ وزیر اعظم بننے کا حق نہیں ہوگا، صدر کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا ، عدلیہ کو آزادی دی جائے گی، خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور ملک میں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان وجود میں آئے گا جس میں متناسب طریقہ کا کے مطابق ارکان چنیں جائیں گے۔ اس متناسب نمائیندگی کے سوال پر بی این پی اور جماعت اسلامی میں اختلافات موجود ہیں جو ترمیم کرتے ہوئے مشکلات کا سبب بنیں گے۔  ریفرنڈم میں دو تہائی اکثریت سے ووٹروں نے  تجاویز پر مشتمل چارٹر کی حمایت کی ہے۔

یہ خبریں بھی سامنے آئی  ہیں کہ موجودہ  چیف ایگزیکٹو محمد یونس اگرچہ 86 برس کے ہوچکے  ہیں لیکن وہ اب بنگلہ دیش کے صدر بننا چاہتے ہیں۔ ریفرنڈم تجاویز میں  صدر کو زیادہ اختیار دینے کی شق بھی محمد یونس کی سیاسی خواہش پوری کرنے کے لیے شامل کی گئی  تھی۔  اگر وہ اپنی خواہش کے مطابق ملک کے ایسے باختیار صدر بن جاتے ہیں جو منتخب  حکومت کے فیصلوں کو مسترد کرسکے یا کسی منتخب وزیر اعظم کو ہٹا سکے تو بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے۔ صدر کو بااختیار بنانے کی شق بالواسطہ طور سے ملکی اسٹبلشمنٹ کی اس خواہش کا اظہار بھی ہے کہ وہ مستقبل کے سیاسی فیصلوں میں دخیل رہنا چاہتی ہے۔   جمہوری طور سے بھاری اکثریت  سے  جیتنے والی پارٹی اور اس خواہش کے درمیان اگر مناسب توازن تلاش نہ کیا جاسکا  تو جمہوریت کے علاوہ امن و اامان بھی کسی ادھورے خواب کی طرح بکھر سکتا ہے۔

یہ انتخابات پاکستان اور بھارت کے لیے بھی اہم ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت  سابقہ وزیر اعظم حسینہ  شیخ کی حلیف رہی تھی ، اسی لیے انہوں نے اگست  2024 میں حالات بے قابو  ہونے کے بعد بھارت ہی میں پناہ لی تھی۔ بنگلہ دیش میں حسینہ شیخ کو سزا ملنے اور حکومت کی طرف سے ان کی واپسی کے مطالبے کے باوجود  نئی دہلی نے حسینہ شیخ کو ملک بدر نہیں کیا۔ اب وزیر اعظم مودی نے   بی این پی کے  لیڈر طارق رحمان کو انتخابی کامیابی پر مبارک باد دینے کے لیے فون کیا ہے۔  یہ خبریں  بھی سامنے آچکی ہیں کہ بھارتی حکومت جماعت اسلامی سے بھی  رابطے بڑھانے کی کوششیں کررہی ہے۔  دوسری طرف عبوری حکومت کے دور میں ڈھاکہ اور اسلام آباد میں فاصلے کم ہوئے ہیں۔ اس کا  خصوصی مظاہرہ  حال ہی میں  کرکٹ تنازعہ کے دوران بھی دیکھنے  میں آیا جب پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت میں  ٹی  ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان اس تعاون کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہے گا۔ اس لیے نئی حکومت کا طرز عمل  مستقبل کے ریجنل تعلقات کے حوالے سے اہم ہوگا۔

اسی تناظر میں بنگلہ دیش کے چین کے ساتھ تعلقات اور امریکہ کی خواہشات  میں توازن  بھی نئی حکومت کا ایک اہم چیلنج ہوگا۔ طارق رحمان  نے طویل عرصہ برطانیہ میں گزارا ہے۔ ان کا مغربی طاقتوں کی طرف رجحان قابل فہم ہونا چاہئے۔ اس لیے یہ سوال اہم ہوگا کہ  نئی حکومت کی قیادت کرتے ہوئے  کیا وہ بنگلہ دیش  کو  کسی عالمی گروہ بندی سے محفوظ رکھ سکیں گے؟