عمران خان سے کوئی ڈیل نہیں ہورہی: عطا تارڑ
وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔‘
وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہنا ہے کہ ’عمران خان کی بہترین طبی معاونت کے حساب سے حکومت انہیں جہاں بھی لے جانا ہے بھیجا جائے گا۔ کہاں جائیں گے ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ ‘ عمران خان کی نظر کبھی بھی مکمل صحیح سکس بائی سکس نہیں تھی۔
نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے عطا ترڑ کا کہنا تھا کہ انہیں جلد لے جایا جائے گا۔ پہلے بھی بروقت پمز لے جایا گیا تھا۔ اور فی الحال بہترین معالج فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ذاتی معالجین میں آنکھوں کے ڈاکٹر نہیں ہیں۔ جو بھی ہو گا مریض کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر دیکھنے سے آنکھ کا مسئلہ دکھائی نہیں دے سکتا۔ اس معاملے میں تو مزید تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کی کہ گزشتہ تین ماہ سے انہیں نظر میں کمی کی شکایت ہے حالانکہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی۔ رپورٹ میں وکیل نے لکھا تھا کہ عمران خان اپنی بینائی کم ہونے اور بر وقت طبی امداد نہ ملنے پر واضح طور پر پریشان تھے۔ ملاقات کی دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہتا رہا اور وہ ٹشو سے اسے صاف کرتے رہے۔
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے عظا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جیل میں پر تعیش ماحول حاصل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسی دوسرے قیدی کو کو ٹریڈ میل نہیں دی جاتی۔ اس لیے انہیں ملنے والی سہولیات پر تعیش کہلائیں گی۔
حکومت اور تحریکِ انصاف میں برف پگھنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی ڈیل یا مذاکرات ہو رہے ہیں‘۔ پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے اور اِس کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر مزید لکھا کہ ’اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔‘