بنگلہ دیش میں ہائبرڈ جمہوری ماڈل
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- ہفتہ 14 / فروری / 2026
بنگلہ دیش کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی دو تہائی اکثریت سے کامیابی کے بعد پارٹی صدر اور ملک کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان نے قومی اتحاد پر زور دیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کی شاندار کامیابی کے موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاسی سوچ اور راستے مختلف ہو سکتے ہیں۔ مگر قومی مفاد میں ہمیں متحد رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا قومی اتحاد ہماری طاقت اور انتشار کمزوری ہے۔ طارق رحمان کو انتخابات میں کامیابی پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ دنیا بھر کے راہنماؤں سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ایک طویل عرصہ بنگلہ دیش کی حکمران اور بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی لگا کر انتخابات میں حصہ لینے سے محروم کر دیا گیا تھا۔ عوام کے پاس انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لئے صرف دو آپشن تھے۔ نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت اور جماعت اسلامی کی قیادت میں دو انتخابی اتحاد مد مقابل تھے۔ ملک میں ایک بڑے ووٹ بینک کی نمائیندہ جماعت عوامی لیگ کو ووٹ ڈالنے کا آپشن عوام کو نہیں دیا گیا۔
کیا طارق رحمان کی قیادت میں بننے والی بی این پی کی حکومت بنگلہ دیش میں قومی یکجہتی کی فضا واپس لانے میں کامیاب ہو سکے گی۔ عوامی لیگ کے کروڑوں حامیوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کے بعد قومی یکجہتی کو کیسے حاصل کیا جا سکے گا۔ کیا طارق رحمان کا یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ ملکی مفاد میں ہمیں متحد رہنے کی ضرورت ہے۔
بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کے اتار چڑھاؤ اتنے سادہ اور آسان نہیں ہیں۔ 1971 میں معرض وجود میں آنے کے بعد بنگلہ دیش میں منتخب سول آمرانہ حکومتیں اور غاصب فوجی حکمران جمہوریت اورجمہوری روایات کی دھجیاں اڑاتے رہے ہیں۔
اگست 1975 کو بنگلہ دیش کے بانی اور وزیراعظم شیخ مجیب الرحمان کے فوجی افسروں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کے بعد بنگلہ دیش کا سیاسی سفر دشوار گزار راہوں سے اٹا ہوا ہے۔ شیخ مجیب کے قتل کے بعد اپریل 1977 میں جنرل ضیاالرحمان ایوان صدارت میں براجمان ہو گیا۔مئی 1981 میں آرمی افسروں کے ایک گروپ نے صدر جنرل ضیا الرحمان کو قتل کر دیا۔ بعد ازاں جنرل ارشاد نے مارچ 1982 کو اقتدار پر قبضہ کر لیا اور 1983 کو ملک کا صدر بن بیٹھا۔ شدید عوامی احتجاج کے بعد صدر جنرل ارشاد کو دسمبر 1990 میں مستعفیٰ ہونا پڑا تھا۔ بنگلہ دیش میں 1990 سے 2024 کے درمیان عوامی لیگ کی حسینہ واجد اور نیشنلسٹ پارٹی کی خالدہ ضیا باری باری ملک کی وزیر اعظم منتخب ہوتی رہیں۔دونوں جماعتوں کی حکمرانی کا دور سیاسی کھینچا تانی، احتجاج اور انتقامی سیاست سے عبارت رہا ہے۔
حسینہ واجد 2008 سے 2024 تک بنگلہ دیش کی طویل ترین منتخب وزیراعظم رہیں۔ مگر حسینہ واجد کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو ریاستی تشدد کا بے دریغ نشانہ بنایا جاتا رہا۔ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاکے علاوہ متعد سیاسی مخالفین کو طویل عرصہ جیلوں میں ڈالے رکھا۔ آمرانہ ہتھکنڈوں کے خلاف شدید عوامی احتجاج کے نتیجہ میں حسینہ واجد کو اگست 2024 میں حکومت چھوڑ کر ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیاگیا۔ حسینہ واجد حکومت کے اپوزیشن کے خلاف جابرانہ ہتھکنڈوں نے ملک کو بظاہر سیاسی استحکام تو دیا۔ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر بھی گامزن کر دیا تھا۔ مگر ریاستی جبر اور انتقامی سیاست کے زیر اثر سیاسی سمندر کی سطح کے نیچے پلنے ہونے والے طوفان نے سطح پر رونما ہوتے ہی سیاسی استحکام کے پرخچے اڑا دیئے اور ملک کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا۔
حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو انتخابات سے دور رکھ کر قومی اتحاد اور پائیدار سیاسی استحکام کی خواہش کو عملی جامع پہناناجوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔عوامی لیگ حکومت کی سیاسی مخالفین کے خلاف جابرانہ پالیسیوں نے ملک کے عوام کو متحارب گروہوں میں تقسیم کئے رکھا تھا۔ بنگلہ دیش کے طاقتور حلقوں نے عوامی لیگ کو انتخابات سے باہر دھکیل کر اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام سے قبل اورقیام کے بعد کی تاریخ کے صفحے ریاستی جبر کے خلاف پر تشدد عوامی احتجاج سے بھرے پڑے ہیں۔ حالیہ انتخابات نے مستقبل میں سیاسی استحکام اور قومی اتحاد کے راستے میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ ان حالات میں متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کو اقتدار میں آتے ہی بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
طارق رحمان کو ملک میں قومی اتحاد اور سیاسی استحکام کا راستہ ہموار کرنے کے لئے عوامی لیگ سے بات چیت کے دروازے کھولنے کی طرف قدم بڑھانے چاہئیں۔طاقتور حلقوں کو خوش رکھنے اور ان کا تعاون حاصل کرکے سیاسی استحکام لایا جا سکتا ہے اور نہ قومی اتحاد کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ ایک بڑی سیاسی جماعت کو سیاسی عمل سے دور رکھ کر اور ہائبرڈ جمہوری ماڈل کی طرف قدم بڑھا کر بنگلہ دیش کو نئے بحرانوں کی جانب دھکیل دیا جائے گا۔