سرکاری خطابات کا سلسلہ
- تحریر فیضان عارف
- ہفتہ 14 / فروری / 2026
بچپن میں جب میں نے پہلی بار سرسید احمد خان کا نام سنا تو مجھے لگا کہ”سر“ کا لفظ سید احمد خان کے نام کا حصہ ہے، جس طرح علامہ اقبال کے نام کے ساتھ بھی سر کا لفظ لکھا جاتا تھا۔ پرائمری سے مڈل سکول تک پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ”سر“ ایک خطاب یا ٹائیٹل ہے جو برطانیہ کے شاہی خاندان کی طرف سے بادشاہ یا ملکہ عطا کرتی ہے۔
یہ اعزاز اُن قابل قدر شخصیات کو دیا جاتا ہے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کارہائے نمایاں کرتے یا انجام دیتے ہیں۔ سید احمد خان کو سر کا خطاب ان کی تعلیمی اور سماجی خدمات کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ انہیں یہ اعزاز ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے 1888 میں ملاتھا، علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان 1869 میں لندن کی سیر و سیاحت کے لئے برطانیہ آئے تھے اور ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ تک یہاں قیام کیا۔ اس سفر میں ان کے بیٹے بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ سرسید نے اپنے اس سفر کی یاداشتوں اور مشاہدات کو ”سفر نامہ مسافران لندن“ کے نام سے ایک کتاب میں یکجا کر کے شائع کیا تھا۔
علامہ اقبال کو سر کا خطاب 1922 میں کنگ جارج پنجم کے دور حکومت میں ملا تھا۔ شاعر مشرق کو ان کے شاعرانہ اور دانشورانہ خیالات اور تصنیفات پر اس ٹائیٹل سے نوازا گیا تھا۔ ”سر“ کا خطاب نائٹ ہڈ بھی کہلاتا ہے۔ اس ٹائیٹل کی ابتدا کئی صدیوں پہلے رومن ایمپائر میں ہوئی۔ پہلے پہل یہ اعزاز صرف ان بہادر اور جنگجو سپہ سالاروں اور کمانڈرز کو دیا جاتا تھا جو کسی جنگ یا معر کے میں شجاعت کا مظاہرہ کرتے یادشمن کی فوج پر یلغار کر کے اُنہیں پسپا کر دیتے تھے۔ برطانیہ میں گیارھویں صدی کے دوران اس ٹائیٹل کو متعارف کرایا گیا جن دلیر لوگوں کو یہ اعزاز ملتا تھا وہ ’نائٹ‘ کہلاتے تھے۔ 1297 میں اسی اعزاز کو”سر“ کا نام بھی دیا گیا جن خواتین کو نائٹ ہڈ کے اعزاز سے سرفراز کیا جاتا ہے وہ ’ڈیم‘ کہلاتی ہیں۔ سر انگریزی زبان کالفظ ہے جو بنیادی طور پر فرانسیسی زبان سے انگلش کا حصہ بنا۔ یہ لفظ عام طور پر احترام اور توقیر کے لئے بولا جاتا ہے۔ اردو زبان میں اس کا ترجمہ عام طور پر عزت مآب یا جناب عالی کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات کی اکثریت اپنے اساتذہ کو سر کہہ کر مخاطب کرتی ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں ہر سال درجنوں افراد کو نائٹ ہڈ کے اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔ اس وقت برطانیہ سمیت پوری دنیا میں تقریباً تین ہزار ایسے لوگ بقید حیات ہیں جن کو ملکہ برطانیہ یا بادشاہ کی طرف سے سر یا ڈیم کا خطاب مل چکا ہے۔
جن افراد کی نائٹ ہڈ کے اعزاز سے قدر افزائی کی جاتی ہے، عام طور پر ان کے رنگ نسل یا مذہبی وابستگی کا حوالہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ صرف اُن کی کار کردگی، قابلیت اور اہلیت کو پر کھا جاتا ہے۔ جن برٹش پاکستانیوں کو سر کا خطاب مل چکا ہے اُن میں سب سے نمایاں نام سر انور پرویز اور سر صادق خان میئر آف لندن کا ہے۔ ان دو شخصیات کے علاوہ پروفیسر شکیل قریشی بھی نائٹ ہڈ کے ٹائیٹل سے نوازے جا چکے ہیں۔ سر انور پرویز کا شمار لندن میں برطانیہ کے امیر ترین برٹش پاکستانیوں میں ہوتا ہے۔ 15 مارچ 1935 کو پیدا ہونے والے محمد انور پرویز 21 سال کی عمر میں راولپنڈی سے لندن آئے تھے۔ انہوں نے پاکستان میں ٹیلی فون آپریٹر کی ملازمت چھوڑ کر برطانیہ ہجرت کی تھی۔ یہاں آکر وہ کئی سال تک بریڈفورڈ میں ایک بس کنڈ کٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ 1961 میں انہوں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر لندن میں گروسری شاپ سے کاروبار کا آغاز کیا۔ چند ماہ بعد انہوں نے وسطی لندن کے علاقے ارلز کورٹ میں اپنی ایک دکان کھولی۔ یہ دکان در اصل ایک ایشین سٹور تھا جہاں انڈیا اور پاکستان کے تارکین وطن کے لئے ضرورت کی اشیا فروخت کی جاتی تھیں۔ انور پرویز کو یہ کارو بار بہت راس آیا اور پھرا نہوں نے اسی کاروبار کو ہول سیل بزنس میں تبدیل کر دیا۔ 1976 میں انہوں نے لندن کے علاقے ایکٹن میں پہلے ہول سیل وئیر ہاؤس کا آغاز کیا جس کا نام بیسٹ وے رکھا گیا۔ بیسٹ وے گروپ کے پورے یونائیٹڈکنگڈم میں ویئر ہاؤس ہیں جہاں 28 ہزار لوگ ملازم ہیں۔ بیسٹ وے کی سالانہ آمدنی کا تخمینہ تقریباً4 سو ملین پاؤنڈ ہے۔ یہ گروپ پاکستان میں بینکنگ، سیمنٹ بنانے اور پراپرٹی کا بزنس بھی کرتا ہے۔ سر انور پرویز کو سن دو ہزار میں حکومت پاکستان کی طرف سے ہلال پاکستان کا اعزاز بھی مل چکا ہے۔
سر صادق خان (میئر آف لندن) کو جون 2025 میں نائٹ ہڈکا خطاب دیا گیا۔ وہ برطانوی دار الحکومت کے پہلے میئر ہیں جنہیں یہ ٹائیٹل حاصل ہوا ہے۔ 8 اکتوبر 1970 کو لندن میں پیدا ہونے والے صادق خان 2016 سے اس شہر کے میئر منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں، اس عہدے پر فائیز ہونے سے پہلے وہ ٹوٹنگ کے علاقے سے برطانوی پارلیمنٹ کے منتخب رکن تھے اور ٹرانسپورٹ کے منسٹر آف سٹیٹ بھی رہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک کونسلر کے طور پر کیا تھا۔ صادق خان کے والد 1968 میں پاکستان سے برطانیہ آئے تھے یہاں آکر انہوں نے ایک طویل مدت تک بس ڈرائیور کے طور پر کام کیا۔ صادق خان سمیت اُن کے آٹھ بچے ہیں۔ سر صادق خان نے یو نیورسٹی آف نار تھ لندن سے ایل ایل بی اور یونیورسٹی آف لا سے ایل پی سی کی تعلیم حاصل کی۔ ہاؤس آف کا منز کا رکن بننے سے پہلے تک وہ ایک سولیسٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں 2018 میں ستارہ امتیاز کا سرکاری ایوارڈ عطا کیا۔ سر صادق خان واحد برطانوی سیاستدان ہیں جو نہ صرف تین بار لندن کے میئر منتخب ہوئے بلکہ اور بہت سے اہم سیاسی عہدوں پر فائیز رہے۔ گزشتہ برس جب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے صادق خان کے بارے میں نازیبا الفاظ کے ذریعے اپنے تاثرات کا اظہار کیا تو لندن میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت نے امریکی صدر کے بیان کی مذمت کی۔ صادق خان کا بار بار لندن کا میئر منتخب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شہر کے ووٹر انہیں اُن کے رنگ ونسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ کارگردگی کی وجہ سے منتخب کرتے ہیں۔
سرشکیل قریشی ایک نامور برٹش پاکستانی فزیشن ہیں جو این ایچ ایس کے کائز اینڈ سینٹ تھامس فاونڈیشن ٹرسٹ میں کارڈیالوجسٹ کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ چھوٹی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ پاکستان سے یو کے آئے اور انہوں نے میڈیکل کی تعلیم یونیورسٹی آف مانچسٹر سے مکمل کی۔ رائل لیور پول یو نیورٹی ہاسپٹل سے تربیتی مراحل طے کرنے کے بعد انہوں نے بچوں میں دل کی بیماریوں پرتحقیق کو اپنا موضوع بنایا اس ضمن میں (CONQENITAL HEART DISEASE) پر ان کی ریسرچ اور طریقہ علاج کو آزمایا اور بہت سے بچوں اور مریضوں کی زندگیوں کو بچایا گیا۔ ڈاکٹر پروفیسر شکیل قریشی بہت سے فلاحی اداروں اور چیریٹیز کے میڈیکل بور ڈز کے لئے رضا کارانہ خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ وہ ایک بہت قابل، ذہین اور انسان دوست شخصیت ہیں۔ وہ2013 تک یورپین پیڈ یاٹرک کارڈیالوجسٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے ہیں، 2004 میں ا نہیں حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز اور 2022 میں ملکہ برطانیہ نے نائٹ ہڈ کے ذریعے اُن کی تحقیقی اور فلاحی خدمات کا اعتراف کیا۔ نواب آف بہاول پور سر صادق عباسی کے علاوہ پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ سرظفراللہ خان، پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو بھی نائٹ ہڈکا ٹائیٹل دیا گیا تھا۔
2007 میں جب شاتم رسول سلمان رشدی کو ملکہ برطانیہ کی طرف سے نائٹ ہڈ یعنی سر کا خطاب دیا گیا توپوری دنیا کے مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا۔ اسی طرح جب سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو نائٹ ہڈ کا اعزاز دیا گیا تو انسانی حقوق کی علمبر دار کئی عالمی تنظیموں نے کہا کہ جس شخص نے امریکی صدر کے ساتھ مل کر عراق پر جنگ مسلط کی اور لاکھوں بے گناہوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا اُسے سرکا خطاب دینے کی بجائے عدالت کے کٹہرے میں طلب کر کے احتساب کیا جانا چاہیئے۔
دنیا کے بہت سے ممالک کی حکومتیں یا شاہی خاندان قابل قدر لوگوں کو ان کی خدمات اور کار کردگی پرسرکاری اعزازات دیتی ہیں۔ ایوارڈز کے لئے نامزدگی کے وقت میرٹ کوضرور پیش نظر رکھا جاتا ہے تاکہ ان اعزازات کی توقیر برقرار رہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر سال جو سرکاری ایوارڈز دیئے جاتے ہیں اُن کے لئے میرٹ اور کرائی ٹیریا کیا ہے؟ اس بارے میں قارئین ہی میری معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ارباب اختیار توان ایوارڈز کو ریوڑیاں سمجھ کر بانٹتے ہیں۔