پتنگ باز سجنا سے
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- سوموار 16 / فروری / 2026
بہت سی دیگر چیزوں کی طرح پتنگ بازی بھی ہمارے قومی مزاج کا ایک حصہ ہے۔ ایک دور تھا کہ اندرون شہر گھروں کی چھتوں پر کبوتر بازی اور پتنگ بازی کا ہر طرف شور برپا رہتا تھا۔
پھر یہ کھلے میدانوں اور شہروں میں بھی عام ہوئی اور بستت کو ایک تہوار کی طرح منایا جانے لگا۔ جب سے بسنت، تہوار سے خونی کھیل میں تبدیل ہوا حکومت نے اس پر پابندی لگا دی اور کم و بیش دو دہائیوں کے بعد اب پنجاب میں پنجاب کے دل لاہور میں یہ تہوار پورے جوش و خروش سے منایا گیا ہے، جس میں زندہ دلان لاہور نے دل ہوا بو کاٹا کے دل کھول کر نعرے لگائے۔
پنجاب کی وزیر اعلی نے لاہوریوں کی دلچسپی اور باقی شہروں کی بے بسی دیکھتے ہوئے باقی شہروں میں بھی بسنت فیسٹول منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ عوام کی تفریح کے لئے بسنت کے ساتھ ساتھ دیگر ثقافتی میلوں ، کتاب میلوں اور تعمیری کھیلوں کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔
ترلائی اسلام آ باد بم دھماکہ کی وجہ سے لاہور کے باسی اگرچہ اہنے ارمان پورے نہ نکال سکے۔ پھر بھی پتنگ بازی کے نتیجے میں متعدد اموات اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آ ئی ہیں۔ اگرچہ بسنت کی اجازت دینے سے پہلے کئی ایس او پیز اور قواعد و ضوابط جاری کئے گئے تھے مگر ہمارے عوام اصولوں پر عمدارمد کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی لاپرواہ واقع ہوئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس بار موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لئے اسٹیل کے راڈ بھی فراہم کئے جبکہ عوام نے اپنے طور بھی حفاظتی تدابیر اختیار کیں۔
وزیر اعلی پنجاب کا یہ کہنا تھا کہ اداس لوگوں کی اداسی دور کرنے اور انہیں خوشی کے لمحات دینے کے لئے بسنت کی اجازت دی گئی ہے۔ شاید اسی وجہ سے پاکستان کے دیگر شہروں کی طرف سے بھی اداسی دور کرنے کے لئے پتنگ بازی کی پاپندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ گیا کیونکہ ایک طرف تخت لاہور میں اس کی اجازت تھی تو دوسری طرف دیگر شہروں کے شہری بے بسی سے یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ لاہور کی چھتوں، میدانوں اور دالانوں پر بسنت فیسٹول منائے جا رہیے تھے۔ خواتین میں رنگ برنگ بسنتی لباس اور انواع و اقسام کے پکوانوں کے مقابلے تھے تو پتنگ باز سجنے سج دھج کے ساتھ فضا میں رنگ برنگی پتنگیں اڑا رہے تھے۔ نیلا آسمان قوس و قزح کے رنگوں سے سجا تھا تو فضا میں ہر طرف فریحہ پرویز کا گایا ہوا یہ گانا کانوں میں رس گھول رہا تھا کہ: پتنگ باز سجنا سے پتنگ باز بلما سے، آ نکھوں آ نکھوں میں الجھی ڈور لگا پیچا تو مچ گیا شور، کہ دل ہوا بو کاٹا کہ دل ہوا بو کاٹا۔
جس طرح اپریل میں بیساکھی کا تہوار منایا جاتا ہے، گندم کی کٹائی کے ساتھ موسم گرما کی آ مد کا اعلان ہوتا ہے، اسی طرح فروری میں بسنت منا کر گویا موسم بہار کی آ مد اور سردیوں کے جانے کا اعلان ہوتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آ ئی بسنت پالا اڑنت۔ مگر جب سے یار لوگوں نے شیشے اور دھاتی ڈوروں کا استعمال شروع کیا ہے، یہ تہوار ایک خونی کھیل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس پر پاپندی کی وجہ سے عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا تھا۔ اب اگر اسے کچھ لوگوں کی خوشی اور ہنسی بنانے کا ذریعہ بنانا بھی ہے تو دوسرے لوگوں کے لئے یہ رونے اور ماتم کناں ہونے کا سبب نہیں بننا چائیے۔ عوام کو بسنت کی خوشیوں سے زیادہ ان کے مسائل حل ہونے کی دائمی خوشیاں چاہئیں۔ انہیں بجلی کے بلبلاتے بلوں سے اور ہوشربا مہنگائی سے نجات چاہیے۔
وہ زندگی کی بھول بھلیوں اور فکر معاش کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں بقول شاعر:
تو نے دیکھی ہی نہیں گرمی رخسار حیات
ہم نے اس آ گ میں جلتے ہوئے گھر دیکھے ہیں
عوام کو روزگار چائیے
عوام کو امن و امان چاہیے
عوام کو بے گھری سے نجات چاہیے
آج عوام خود کٹی پتنگ کی طرح ادھر سے ادھر ہچکولے کھا رہے ہیں۔ کوئی تو ہو جو اس کی الجھی ہوئی ڈور کو سلجھا کر اسے صحیح طرح سے تناویں ڈالے۔ اچھی سی کنی ڈالے اور تنکے لگا کے اسے اونچا اڑانے کہ عوام بھی اونچی اڑان کے مزے لے سکے۔ ہمارے عوام کی طرح ہمارے سیاستدان بھی کٹی پتنگ بنے ہیں۔ ادھر ادھر ڈولتے پھرتے ہیں۔ ان کی ڈور کبھی کسی کے ہاتھ ہوتی ہے تو کبھی وہ خود اسے الجھا بیٹھتے ہیں۔
عوام کو خوشیاں دینی چائیں مگر کسی دوسرے کے غم اور دکھ کی قیمت پر نہیں۔ بسنت کا تہوار ضرور منایا جائے مگر اسے خونی کھیل بننے سے روکا جائے۔ اصول و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ سب ہونٹوں کے لئے ہنسی اور خوشی کا سامان پیدا کیا جائے۔
بسنت کو ہندوؤں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے لیکن جیسے ہم نے اور بہت سے عالمی دنوں اور تہواروں کو اپنی ثقافت کا حصہ بنا لیا ہے، اب یہ بسنت بھی ہمارے رسوم و رواج میں شامل ہو گیا ہے۔ سو اس تہوار کی خوشی کو کسی اور کے غم کی وجہ بھی نہ بننے دیں۔ پھر بسنت کے رنگ بھلے لگیں گے اور فضا میں دل ہوا بو کاٹا کے نغمے بھی کانوں کو اچھے لگیں گے۔