کھیل، قوم اور کردار
- تحریر طارق محمود مرزا
- سوموار 16 / فروری / 2026
قومیں محض بلند بانگ دعوؤں، طویل تقاریر اور سیاسی نعروں سے نہیں بنتیں۔ ان کی تعمیر خاموشی سے روزمرہ زندگی میں کیے جانے والے چھوٹے مگر مسلسل اعمال سے ہوتی ہے ۔
کھیل انہی اعمال میں سے ایک ہے، جو بظاہر معمولی لگتے ہیں مگر قوموں کے جسم، ذہن اور کردار کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس کی زندہ مثال آسٹریلیا ہے، جہاں کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ قومی رویہ اور تہذیبی شعور بن چکا ہے۔ آسٹریلیا میں کھیلوں کی سہولیات ہر سطح پر موجود ہیں۔ اسکولوں کے کشادہ میدان، کمیونٹی اسپورٹس سینٹرز، پبلک جمز، سوئمنگ پولز، واکنگ ٹریکس اور سرسبز پارکس عام دستیاب ہیں۔ ان سہولیات کی فراوانی نے کھیل کو طبقاتی تقسیم سے آزاد کر دیا ہے۔ یہاں امیر و غریب، شہری و دیہی، سب کو یکساں مواقع میسر ہیں۔ اس نظام میں پاکستان سے ہجرت کرکے آنے والی عام فیملی کا بچہ آسٹریلیا کی قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن سکتا ہے اور عثمان خواجہ کے نام سے دنیا میں شہرت و عزت حاصل کر سکتا ہے ۔ یہی مساوات دراصل صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ جب عوامی مقامات پر کھیلنے اور ورزش کرنے کے مواقع برابر ہوں تو لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں صحت مند سرگرمیوں کو فطری طور پر شامل کر لیتے ہیں۔
کھیلوں کے مقابلے یہاں محض اسکور یا ہارجیت تک محدود نہیں رہتے بلکہ اجتماعی جشن کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ میدان تماشائیوں سے بھر جاتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا شہر ایک ہی شوق رکھتا ہو۔ خوشی، نظم و ضبط اور باہمی احترام کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ نوجوان نسل اسی ماحول میں پروان چڑھتی ہے، جہاں کھیل انہیں محنت، برداشت اور ہار جیت کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کا درس دیتے ہیں۔
آسٹریلوی معاشرے کی ایک اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہاں لوگ غیر ضروری بحث، تلخ سیاسی گفتگو اور لاحاصل شور شرابے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے بہتر بنانے پر یقین رکھا جاتا ہے۔ کھیل اور ورزش نہ صرف جسمانی توانائی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ذہنی دباؤ کو بھی کم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چہرے نسبتاً پُرسکون اور رویّے متوازن دکھائی دیتے ہیں۔ متحرک جسم، متوازن خوراک، بروقت نیند اور مسلسل جسمانی سرگرمی بیماریوں کو قریب نہیں آنے دیتی۔ کھیل یہاں دوا بھی ہیں اور دعا بھی، وہ انسان کو نہ صرف زندہ رکھتے ہیں بلکہ خوش بھی رکھتے ہیں۔
اگر آسٹریلیا کی گلیوں، پارکوں اور تعلیمی اداروں پر نظر ڈالی جائے تو ایک واضح منظر سامنے آتا ہے۔ صبح کی اولین کرن کے ساتھ ہی خاندانوں کا رخ میدانوں کی جانب ہوتا ہے۔ بچے، نوجوان اور بزرگ سب ایک ساتھ کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ خصوصاً ہفتے اور اتوار کی صبح پارک رنگوں سے بھرے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں کرکٹ کی گیند فضا میں بلند ہوتی ہے، کہیں نیٹ بال کی ٹیمیں صف آرا ہوتی ہیں، کہیں رگبی کے کھلاڑی دوڑتے نظر آتے ہیں۔ والدین نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ خود بھی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں۔
اعداد و شمار بھی اسی حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ آسٹریلیا میں بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد باقاعدگی سے کسی نہ کسی کھیل میں شریک ہوتی ہے۔ یہ روایت محض جسمانی صحت تک محدود نہیں بلکہ خاندانی ربط اور سماجی ہم آہنگی کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ کھیل کے ذریعے بچے ٹیم ورک، نظم و ضبط، قیادت اور باہمی احترام سیکھتے ہیں۔ یہی اوصاف آگے چل کر قومی کردار کا حصہ بنتے ہیں۔ صحت مند قومیں ہی دلیرانہ فیصلے کرتی ہیں۔ یہاں کھیل پورے خاندان کا روزمرہ حصہ ہیں۔ ویک اینڈز پر میدانوں میں ہر عمر کے افراد نظر آتے ہیں۔ بچے کھیلتے ہیں، والدین واک کرتے ہیں، بزرگ فضا کی تازگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کھیل ان کی زندگی کا لازمی جزو ہے، جو انہیں توازن، خوشی اور باہمی ربط عطا کرتا ہے۔
ایک لکھاری کی حیثیت سے جب میں ان میدانوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو۔ نوجوانوں میں وہ برقی رو دکھائی دیتی ہے جو انہیں بلند مقاصد کے حصول پر آمادہ کرتی ہے۔ خود اعتمادی، خود انحصاری اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا جذبہ انہی میدانوں میں پروان چڑھتا ہے۔ اس کے برعکس وطن عزیز پاکستان میں کھیلوں کی صورتِ حال تشویشناک ہے۔ کھیل کے میدان کم ہوتے جا رہے ہیں اور جو موجود ہیں وہ بھی اکثر عدم توجہی کا شکار ہیں۔ کئی مقامات پر کھیل کے میدانوں پر ناجائز قبضے ہو چکے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کھیل کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، والدین اسے وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں اور معاشرہ مجموعی طور پر جسمانی سرگرمی کو ترجیح نہیں دیتا۔
نتیجتاً کم عمری میں ہی موٹاپا، ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور ذہنی دباؤ عام ہو رہے ہیں۔ جسمانی کمزوری کے ساتھ ساتھ اعتماد کی کمی بھی جنم لیتی ہے۔ جب بچے ٹیم ورک، نظم و ضبط اور باہمی تعاون کے مواقع سے محروم رہتے ہیں تو ان کی شخصیت کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ کھیل نہ ہونے سے معاشرتی سطح پر عدم برداشت، تنہائی اور باہمی بداعتمادی جیسے مسائل بڑھتے ہیں۔ اگر پاکستان اپنے کھیلوں کے نظام کو ازسرِنو منظم کرے، اسکولوں میں کھیل کو لازمی نصاب کا حصہ بنائے، مقامی اسپورٹس کلبوں کو فعال کرے، تربیت یافتہ کوچز مہیا کرے اور کمیونٹی کی سطح پر سہولیات فراہم کرے تو ایک صحت مند اور پُراعتماد نسل تیار کی جا سکتی ہے۔ موبائل اور ٹی وی کم اور میدان زیادہ بنانے کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس قوم کے میدان آباد ہوں، اس کے اسپتال ویران رہتے ہیں۔ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جو دوڑتی ہیں، کھیلتی ہیں اور زندگی کو بوجھ نہیں بلکہ نعمت سمجھتی ہیں۔ اگر ہم صحت، اعتماد اور کردار کو سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل نہیں، گیند دینی ہوگی، انہیں شور وغُل نہیں، میدان دینے ہوں گے۔ کیونکہ مضبوط جسموں سے ہی مضبوط قومیں پروان چڑھتی ہیں۔