امریکی جارحیت کے سامنے کون بند باندھے گا؟
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 16 / فروری / 2026
امریکی وزیر خارجہ نے میونخ سیکورٹی کانفرنس میں دنیا کو امریکی طریقے سے تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اگر دوست ممالک اس کام میں اس کا ساتھ نہیں دیتے تو امریکہ تن تنہا بھی یہ کام کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یورپ کو اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ ایک مضبوط اور طاقت ور یورپ کا حامی ہے۔
حیرت انگیز طور پر اس تقریر کے بعد یورپی لیڈروں نے کھڑے ہوکر اور تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔ یورپی مبصرین کے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال اسی سکیورٹی کانفرنس میں نائب صدر جے ڈی وینس نے بیشچر مسائل کا ذمہ دار یورپ کو قرار دیتے ہوئے سخت پھٹکار کی تھی۔ ان کا لب و لہجہ غیر سفارتی اور درشت تھا۔ اس کے مقابلے میں مارکو روبیو نے سفارتی شائستگی سے بات کی اور یورپ کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپ مشترکہ اقدار پر یقین رکھتے ہیں اس لیے ان کا اشتراک اور تعاون فطری ہے۔ یورپی لیڈر ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کی نرم خوئی کو دریں حالات کافی سمجھتے ہوئے خوش ہورہے ہیں کہ اس رویہ سے مزید بات چیت کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے اقتدار کے ایک سال کے دوران ثابت کیا ہے کہ جن مشترکہ انسانی وجمہوری اقدار کا حوالہ دیاجاتاہے، درحقیقت انہیں پامال کیا جارہا ہے۔ گزشتہ ماہ وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے منتخب صدر کو اغوا کرکے امریکہ لانا اور اس ملک کے تیل پر ناجائز طور سے تسلط جمانے کا اعلان ، باہمی احترام کے ان عالمگیر اصولوں کے خلاف ہے جس پر یورپ کے جمہوری لیڈر ناز کرتے ہیں۔
یوکرین کے سوال پر جو یورپ کے لیے بڑی حد تک زندگی اور موت کا سوال ہے کیوں کہ ولادیمیر پیوتن کی صدارت میں روسی حکومت یورپ کے خلاف توسیع پسندانہ عزائم سے انکار نہیں کرتی۔ یورپ کو اندیشہ ہے کہ اگر یوکرین میں روس کو من مانی کرنے کا موقع دیا گیا تو وہ یوکرین کے بعد دیگر یورپی ممالک کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے برعکس صدر ٹرمپ پیوتن کی ’عظمت اور دانشمندی‘ کے گن گاتے ہیں اور یوکرین کو اپنے علاقے روس کے حوالے کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں تاکہ اس جنگ کو بند کرایا جاسکے۔ اس تلخ تجربہ پر ہی موقوف نہیں ہے۔ جس بنیاد پر یوکرین کی جنگ یورپی لیڈروں کے لیے زندگی اور موت کا سوال بنی ہوئی ہے، گرین لینڈ پر تسلط کا دعویٰ کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے بعینہ اسی طرز عمل کا ثبوت دیا ہے۔ روس تو شاید کبھی بھی یورپ کی طرف پیش قدمی کا قصد نہ کرے لیکن نیٹو کے حلیف اور ڈنمارک و یورپ کے دیرینہ دوست ہونے کے باوجود ٹرمپ حکومت کسی بھی طرح گرین لینڈ پر قبضہ ضروری قرار دیتی ہے۔ اگرچہ یورپی لیڈر یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ ٹرمپ نے سفارتکاری کے ذریعے اس معاملہ پر نرم رویہ اختیار کیا ہے لیکن یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی کے مترادف ہی ہوسکتا ہے کیوں کہ صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھ گرین لینڈ پر قبضے کی ضرورت بیان کرتے رہتے ہیں۔
ایک گرین لینڈ تک ہی محدود نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے اب خلیج فارس میں ایران کے خلاف بھاری بھر کم بحری بیڑا جمع کرکے تہران میں حکومت تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دینا شروع کیا ہے۔ کسی خود مختار ملک کے خلاف ایسا جارحانہ رویہ تمام متفقہ عالمی اصولوں اور ممالک کی خود مختاری کے احترام کے خلاف ہے۔ اس لیے مارکو روبیو کا یہ دعویٰ بے بنیاد اور دھوکہ دہی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ امریکہ اور یورپ مشترکہ اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔ یورپی لیڈروں نے ماضی میں بھی امریکہ کی خوشنودی کے لیے افغانستان اور عراق کی جنگوں میں حصہ لیا تھا جو تمام عالمی ضابطوں کے خلاف تھیں۔ اور اب بھی امریکی جارحانہ پالیسیوں پر یورپ کی خاموشی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں بلکہ قیادت کی کمزوری اور باہمی حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکامی کی وجہ سے دیکھنے میں آرہی ہے۔
صدر ٹرمپ کا امریکہ دنیا میں جو نئے اصول متعارف کرانا چاہتا ہے، ان میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی بالادستی کو مستحکم کرنے کے علاوہ فلسطینیوں کو ہمیشہ کے لیے ان کے ان بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ہے جو اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں میں مانے گئے ہیں اور یورپی ممالک جن پر اصرار کرتے رہے ہیں۔ مارکو روبیو نے میونخ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اقوم متحدہ کو ناکام اور ناقص ادارہ قرار دیا اور کہا کہ اگر یہ ادارہ فعال ہوتا تو غزہ کی جنگ بند کرائی جاتی۔ اعلیٰ عسکری و سفارتی ماہرین اور یورپی لیڈروں کے سامنے اس قسم کا دعویٰ سفید جھوٹ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ لیکن یورپی لیڈر ناقص اور کمزور حکمت عملی کی وجہ سے امریکی وزیر خارجہ کو جواب دینے کی بجائے تالیاں بجاکر ان کی تقریر کا استقبال کرنے پر مجبور تھے۔ حالانکہ مارکو روبیو کو بتایا جاسکتا تھا کہ اقوام متحدہ ناکام نہیں ہوئی بلکہ امریکہ جان بوجھ کر اسے ناکام بنانے پر تلا ہؤا ہے۔ امریکہ اس عالمی ادارے کی بیشتر امداد بند کر چکا ہے، اس کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور غزہ میں ا،من کے لیے اتفاق رائے کے باوجود امریکی ویٹو سے تمام اقدمات کا راستہ روکا گیا۔ صدر ٹرمپ اگر کسی ایسے ادارے کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کی خواہش پال رہے ہیں جس میں وہ خود بادشاہ سلامت بن کر بیٹھیں گے اور امریکہ اپنی عسکری طاقت کی بنیاد پر پوری دنیا پر فیصلے ٹھونسنےکا اہتمام کرے گا تو وہ خود بھی خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔ نہ تو امریکہ اب ایسی عالمی نمبرداری کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہے اور نہ ہی دنیا کسی ایک ملک کی بالادستی کو تادیر قبول کرے گی۔ ٹرمپ جیسے عاقبت نااندیش لیڈروں نے اگر حالات بگاڑنے کی مزید کوشش کی تو یہ پورے عالمی نظام کی تباہی کا سبب بنے گی اور عالمی جنگ کا راستہ کھلنے لگے گا۔
صدر ٹرمپ نے ٖغزہ کےبورڈ آف پیس کے ذریعے اس دنیا کا بلیو پرنٹ سامنے لانے کی کوشش کی ہے جو موجودہ امریکی حکومت کے خیال میں عالمی مصالحت کا بہترین ماڈل ہوسکتا ہے۔ لیکن روس و چین کے علاوہ کوئی قابل ذکر مغربی یورپی ملک اس بورڈ کا رکن نہیں بنا۔ پاکستان کے علاوہ دیگر مسلمان ممالک کی اس بورڈ میں حصہ داری کا مقصد بھی یہی ہوسکتا ہے تاکہ اس عمل میں شامل رہ کر اسے مناسب حدود میں رکھنے کی کوشش کی جائے۔ اگر ٹرمپ نے اس بورڈ کو غزہ پر اپنی مرضی ٹھونسنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تو متعدد مسلمان ممالک کے پاس اس سے کنارہ کش ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
اسی تناظر میں مارکو روبیو اور دیگر عہدیداروں نے میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں لیڈروں نے ’ مشترکہ مفادات، عالمی و ریجنل ڈائنامکس اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر گفتگو کی‘۔ دہشت گردی کے سوال پر امریکی تعاون حاصل کرنا پاکستان کی اولین ضرورت ہے کیوں کہ اسے بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اسی طرح ایران کے خلاف امریکی عسکری طاقت کے مظاہرے کے وقت پاکستانی آرمی چیف کا امریکی وزیر خارجہ سے مکالمہ علاقائی استحکام اور امن میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر میونخ کانفرنس کے بعد ابوظہبی پہنچے جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے نائب حکمران اور قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں خطے کی صورتحال اور امن و استحکام پر بھی گفتگو ہوئی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی سلامتی واستحکام پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ میونخ میں امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت کے بعد ابوظہبی میں دیا جانے والا یہ بیان پاکستان کی اس خواہش کا اظہار ہے کہ ایران پر حملہ استحکام کی بجائے انتشار کا سبب بنے گا۔ پاکستان خطے کے زیادہ دے زیادہ ممالک کو اس مقصد سے ساتھ ملانے کی تگ و دو کررہا ہے۔
اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچنے والے ہیں۔ یہ اجلاس صرف غزہ میں مستقل امن ہی کے لیے نہیں بلکہ ایران کے بارے میں امریکی حکمت عملی کے بارے میں بھی اہم ہوگا۔ اگر ٹرمپ طاقت کے زور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی پر اصرار کرتے ہیں تو شاید بورڈ آف پیس اس امریکی پالیسی کا پہلا نشانہ ثابت ہوگا۔ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے بے حد اہم ثابت ہوسکتا ہے۔