عمران خان کی صحت پر لوگوں کو گمراہ کیا گیا: محسن نقوی

  • منگل 17 / فروری / 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی کی آنکھوں والے مسئلہ پر پراپیگنڈا کیا گیا، پی ٹی آئی کی قیادت سے مسلسل رابطے میں تھے۔ انہوں نے علاج معالجے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

نیوز کانفرنس  میں محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ چار،پانچ دن سے کچھ سیاسی چیزیں چل رہی ہیں۔بانی کی آنکھوں والے مسئلے پر پروپیگنڈا کیا گیا، کہا گیا بانی کی 85فیصد بینائی چلی گئی ہے۔کسی نے کہا بانی کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔ محسن نقوی نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم کو خط لکھا۔ہم پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کے ساتھ رابطے میں تھے، ہم نے کلیئر کیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو آئین وقانون کے مطابق علاج دیں گے۔ ہم نے کہا تھا ایک اپنے ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں، پی ٹی آئی نے کہا ڈاکٹر نہیں خاندان کا ایک فرد کارروائی میں ڈال لیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں چیزیں مان لی گئیں تو کہا گیا کہ بانی کو ایک ہفتے کیلئے ہسپتال منتقل کرادیں۔ ہم نے کہا ڈاکٹرز کی ہدایات پر بانی کو دوہفتے کیلئے بھی اسپتال منتقل کردیں گے۔آئی اسپیشلسٹ نے ساڑھے3بجے بانی کاچیک اپ کیا، ہم نے سرکاری اورپرائیویٹ بہترین ڈاکٹروں کا انتخاب کیا۔ ان کےسیاسی رہنماؤں نے کہا ہم بانی کے علاج ومعالجے سے مطمئن ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ ان کی وجہ سے 3دن میڈیکل چیک اپ نہیں ہوسکا۔ بانی کی صحت پر بھرپورسیاست کی گئی ہے، ان کی نیت ٹھیک ہوتی تو پہلے دن ہی مان جاتے۔ ان کے سارے لیڈرز آن بورڈ ہوتے تھے لیکن علیمہ خان منع کردیتی تھیں۔ یہ اس مسئلے کو کیش کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، ہم نے حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اسپتال لے جاکرانجکشن لگوایا۔ہمارے پاس ہزاروں قیدی ہیں، کیا باقی تمام قیدیوں کو یہ سہولیات ملتی ہیں؟ میں تو چاہتا ہوں صحافیوں کو جیل میں ان کومیسرسہولیات دکھاؤں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اس طرح کا تماشہ بناکر لوگوں کو گمراہ کرنا غیر مناسب اورزیادتی ہے۔سیاسی انتقام کرنا ہو تو سب سے پہلے جیل مینول تبدیل ہوتے ہیں، بانی کو جیل میں بہت زیادہ سہولیات میسر ہیں، گزشتہ چند دنوں سے جو ہورہا ہے اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا۔

محسن نقوی نے کہا کہ کچھ دیر پہلے عدالت کا فیصلہ آیا، ہدایات ملی ہیں کہ امن وامان بحال اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ہم کورٹ کے فیصلے کو یقینی بنائیں گے، کوشش کی گئی کہ اسلام آباد ریڈزون بلاک کیا جائے۔ ہم نے تمام معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھالا، آپ کو احتجاج یا دھاوابولنے کا شوق ہے توخود دیکھ لیجئے گا کہ کیا ہوتا ہے۔یہ مناسب نہیں کہ روز ملک میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، کچھ لوگ صرف اپنی سیاست کے بارے فکر مند ہیں۔کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت سے ہوتا ہے، آپ کی مرضی سے بانی کو اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہر روزکوئی نہ کوئی دہشتگردی کاواقعہ ہورہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ورکرکو بھی سوچنا چاہئے، ورکرز کو سوچنا چاہیے کون لوگ سب چیزیں ڈی ریل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ روزروزکا تماشہ مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ این آر اومیرا سبجیکٹ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو مظلوم دکھا کر دہشتگردی کراتا ہے، بھارت نے دہشتگردی کرانے کیلئے اپنا دفاعی بجٹ 3گنا بڑھایا، دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے، دنیا کو ماننا ہوگا کہ دہشتگردی کہاں سے ہورہی ہے، دہشتگردی ہاتھ سے نکل گئی تو پوری دنیا متاثر ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو باتیں میں کہہ رہا ہوں، وزیراعظم نے بھی یہ باتیں کی تھیں، علی امین گنڈاپور نے جو گفتگو کی اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی کی خوراک میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سب سے زیادہ کوششیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی ہیں۔ واضح رہے سابق وزیر اعظم عمران خان متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور تقریباً ڈھائی سال سے جیل میں ہیں۔

پیر کی رات ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں علی امین گنڈا پور نے کہا ’حلف پر کہہ رہا ہوں کہ محسن نقوی نے اس مسئلے کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔‘ محسن نقوی وہ واحد شخص ہیں جو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سامنے بھی بات کر لیتے ہیں۔ ورنہ یہاں پر میں نے اور نہیں دیکھے (جو فیلڈ مارشل کے سامنے بات کر سکیں)۔ محسن نقوی نے (عمران) خان کے لیے ان سے بھی بات کی۔‘

اینکر ندیم ملک نے سوال کیا کہ کیا محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے فیلڈ مارشل سے بات کی؟ علی امین گنڈا پور کا جواب تھا: ’اس پر جب بھی کبھی بات ہوئی تو محسن نقوی کا رویہ مثبت تھا اور انہوں نے فیلڈ مارشل کے سامنے بھی بات کی۔ جب کہ میں نے کسی اور میں اتنی جرأت نہیں دیکھی۔‘

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بھی مظاہرے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) اور ہاکلہ ڈی آئی خان موٹروے (ایم 14) مختلف مقامات پر بند ہیں۔