الزامات و جوابی الزامات: عمران خان کی پرواہ کسے ہے؟

وزیرداخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان عمران خان کی صحت اور علاج  کے  حوالے سے بحث شدت اختیار کرگئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ  فریقین اس معاملہ میں  انسانی پہلو کی بجائے سیاسی ضرورتوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے صورت حال تشویشناک اور قابل افسوس ہے۔

محسن نقوی نے عمراان خان کے حالیہ طبی معائنہ کو اطمینان بخش  قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اڈیالہ جیل میں   قید عمران خان کے علاج میں تاخیر علیمہ خان اور تحریک انصاف کے لیت و لعل کی وجہ سے ہوئی ہے کیوں کہ وہ ایک کے بعد دوسرا مطالبہ سامنے لاتے رہے ہیں۔  تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی کو طبی معائنہ کے وقت جیل آنے کی دعوت دی گئی تھی لیکن انہوں نے آنے سے گریز کیا لیکن اگلے روز  انہیں  محمود خان اچکزئی اور  علامہ  راجہ ناصر عباس کے ہمراہ عمران خان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں سے بات کرنے کا موقع دیاگیا۔ یہ سب لوگ اس  بریفنگ میں شامل ہوئے بلکہ عمران خان کے ذاتی معالج  بھی اس ملاقات میں شریک تھے اور انہوں نے میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹروں کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ محسن نقوی کا دعویٰ تھا کہ اگرچہ پی ٹی آئی کے لیڈر عمران خان کے علاج معالجے کے بارے میں تعاون پر آمادہ تھے لیکن  علیمہ خان اس میں  رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی ہیں کیوں کہ ان کا کہنا  تھا  کہ ’اگر ہم سب کچھ مان گئے تو یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا‘۔

دوسری طرف تحریک انصاف اور علیمہ خان نے وزیر داخلہ کے بیان کو مسترد کیا ہے اور عمران خان کے علاج کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا ہے۔ علیمہ خان مسلسل اس بات  پر اصرار کررہی ہیں کہ  عمران خان کا معائنہ و علاج ان کے رشتہ داروں اور ذاتی معالجوں کے سامنے ہونا چاہئے۔ اب انہوں نے بشریٰ بی بی کے ذریعے  عمران خان کے ایک پیغام کا  حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے کہلوایا ہے کہ ان کے بلڈ ٹیسٹ کرائے جائیں اور ان کے معالج ان کا معائنہ کریں۔  واضح رہے گزشتہ روز حکومت کے مقرر کردہ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا  معائنہ کیا تھا تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کیا اس موقع پر بھی عمران خان نے اس طبی دیکھ بھال اور علاج پر  پریشانی کا اظہار کیا تھا۔ اگر تحریک انصاف کے چئیرمین  یا خاندان کا ایک فرد حکومت کی دعوت پر اس موقع پر موجود ہوتا تو  بے یقینی  کی موجودہ کیفیت پیدا نہ ہوتی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے معائنہ کے موقع پر پارٹی اور خاندان  کے ایک ایک فرد کو آنے کی دعوت  دی تھی اور اس پر اتفاق رائے ہوگیا۔ لیکن سب باتیں طے ہوجانے کے بعد پیغام دیا گیا کہ عمران خان کو ایک ہفتہ کے لیے ہسپتال داخل کرایا جائے۔   اس طرح معائنہ کے دوران  پارٹی یا خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ علیمہ خان یا تحریک انصاف نے اس بات کی تو کوئی وضاحت نہیں کہ جب کئی  ہفتے کے بعد خاندان اور پارٹی کے ایک ایک فرد کو عمران خان کو دیکھنے اور ان سے ممکنہ طور پر بات کرنے کا موقع مل رہا تھا تو اسے کیوں ضائع کیا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ اس موقع پر موجود ہونے سے  گریز کیا گیا۔ علیمہ خان اب کہتی ہیں کہ انہیں حکومت اور اس کی طرف سے مقرر کیے گئے  معالجین پر  اعتماد نہیں  ہے لیکن وہ اس  بداعتمادی کو دور کرنے کے لیے اپنے کسی عزیز کو  طبی معائنہ کے دوران بھیج سکتی تھیں  تاکہ انہیں بالواسطہ پیغام رسانی کا حوالہ دینے کی بجائے براہ راست معلومات حاصل ہوسکتیں۔

اس میں شبہ   نہیں ہونا چاہئے کہ  حکومت اور اپوزیشن عمران خان  کی صحت پر بھرپور سیاست کررہی ہیں۔  محسن  نقوی کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملہ کو انسانی بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے اور اس پر سیاست نہیں کرنا چاہتی ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کا بھی  کچھ ایسا ہی مؤقف ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دونوں طرف سے اس حوالے سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ تحریک انصاف اور ان کے حامی سیاسی عناصر نے دھرنے اور  شاہراہیں روکنے کا طریقہ اختیار کرکے عمران خان کی صحت کی آڑ میں سیاسی  فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح عمران خان سے محبت کے جوش میں شاید ان کے حامی کوئی طوفان برپا کردیں گے لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بظاہر حکومت اسے اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہی ہے حالانکہ عمران خان کی صحت کے معاملہ میں غیر ضروری تاخیر، مناسب سہولتوں سے انکار اور انہیں ہسپتال  نہ بھیجنے کی ضد کی وجہ سے حکومت  کی نیت کے بارے میں ضرور سوالات اٹھائے جائیں گے۔

اس قضیہ میں بنیادی طور سے دو نکات توجہ طلب ہیں: ایک یہ کہ عمران خان کو کسی بھی قسم کا عارضہ لاحق ہو ، اس کے بارے میں وزرا کے ذریعے بیانات کی بجائے ماہر ڈاکٹروں کی رپورٹ کی صورت میں اطلاع فراہم  ہونی چاہئیں۔ حکومت  اس بات پر خواہ کتنا ہی اصرار کرے کہ عمران خان ایک عام قیدی ہیں لیکن انہیں غیر معمولی سہولتیں دی جارہی ہیں۔ تاہم بیماری کے موقع پر بیان بازی اور عدالتی مداخلت کا انتظار کرنے کی بجائے  ماہرین  کی ایک ٹیم بنائی جاتی   جو ہر روز کی بنیاد  پر ان کی  علالت اور بہتری کے بارے میں ایک اعلامیہ جاری کرتی ۔ اس طرح عوام کو درست صورت حال کا علم ہوتا رہتا اور اپوزیشن کو  سیاست کرنے کا موقع نہ ملتا۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ماضی میں بھی اکثر سیاسی  لیڈروں کو قید کے دوران بیماری کی صورت میں ہسپتال  داخل کیاجاتا  رہا ہے بلکہ ملک سے باہر  جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ عمران خان کو یہی سہولت فراہم کرنے  سے انکار حکومت کے ارادوں  کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کررہا ہے اور تحریک انصاف اور  عمران خان کی بہنوں کو بیان بازی کا موقع مل رہا  ہے۔

ہسپتال میں داخل ہونے کے باجود کسی قیدی کو رہائی حاصل نہیں ہوجاتی بلکہ وہ مسلسل حکومت کے زیر نگرانی  اور قید ہی میں ہوتا ہے۔ بس اسے جیل سے ہسپتال میں منتقل کردیاجاتا ہے۔  ہسپتال میں کسی قیدی کے علاج معالجے کے دوران ملاقاتوں پر بھی حکومت کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ تاہم یوں لگتا ہے کہ حکومت اس صورت میں  کسی غیر معمولی صورت حال پیدا  ہونے کے خوف میں عمران خان کو ہسپتال داخل ہونے سے گریز کرتی رہی  ہے۔ حالانکہ  اگر  سیاسی  رسہ کشی کے اس ماحول کو مکمل طور سے ختم کرنے کے لیے بیماری کے دوران عمران خان کو پیرول پر    رہا کرنے میں بھی  کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔  تاکہ علیمہ خان یا پی ٹی آئی کو اس حوالے سے کوئی بھی بات کرنے یا الزام لگانے کا موقع نہ  ملتا۔

اب حکومت بیانات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ عمران خان صحت مند ہیں، ان  کی ’معمولی بیماری‘ کاتسلی بخش علاج ہورہاہے  لیکن ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال داخل ہونے کا مشورہ نہیں دیا۔ اس لیے حکومت کسی سیاسی دباؤ میں انہیں  ہسپتال نہیں بھیجے گی۔ اس مؤقف سے دیکھا جاسکتا ہے کہ  یہ  حکومتی  پالیسی  کسی  اصول  پر استوار نہیں ہے۔ بلکہ حکومت محض ہٹ  دھرمی اور اپنی اتھارٹی دکھانے کے لیے عمران خان کو مناسب سہولت دینے سے انکار کرہی ہے۔ یہ طرز عمل ناقابل قبول اور مسلمہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔  کرکٹ کے درجن بھر سابقہ کپتانوں نے بھی وزیر اعظم کے نام، ایک خط میں اسی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔

دوسری طرف اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ تحریک انصاف کے لیڈر اور عمران خان کی  بہنیں اس معاملہ میں یکسو نہیں ہیں۔ ان کی اپنی اپنی سیاسی ترجیحات  ہیں جن کا عمران خان کی بہبود یاعلاج سے کوئی تعلق نہیں ۔    یہ جیل میں  بند کسی قیدی  کے لیے کوئی خوشی و اطمینان کی خبر نہیں  ہے۔  تحریک انصاف  اس موقع پر احتجاج  یادھرنوں کا طریقہ اختیار کرنے کی بجائے اگر مصالحت  سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتی تو شاید عمران خان کا علاج بھی مناسب طریقے سے ہوسکتا  اور وہ اس مشکل وقت میں ہسپتال کے آرام دہ ماحول میں منتقل بھی کردیے جاتے۔