پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی کرسکتا ہے: وزیر دفاع
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں فضائی کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ خبر رساں ادارے فرانس 24 کے ساتھ ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور انڈیا کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ’پراکسی جنگ‘ کا نتیجہ ہیں۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ پاکستان افغانستان میں نئی فضائی کارروائیاں کرنے میں ’ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا‘ جب تک کہ کابل سے کوئی ’امن کی ضمانت‘ نہیں دے دیتا۔ واضح رہے کہ پاکستانی حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے تسلسل سے یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
گزشتہ برس ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے سبب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متعدد سرحدی جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی تھیں جس کے بعد قطر اور ترکی کی کوششوں سے دونوں ممالک میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جب پاکستان پر حملہ کرنے کی بات آتی ہے تو نئی دہلی اور کابل ’ایک ہی صفحے پر‘ ہوتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ کا ’امکان‘ اب بھی موجود ہے۔