وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کا عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا مجھے بانی کی طرف سے سٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات ردی کی ٹوکری میں پھینکے جاتے ہیں، ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جاتی۔ اس لیے ’بانی پی ٹی آئی رہائی فورس‘ قائم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ اس فورس کی رجسٹریشن کریں گے، بانی رہائی فورس پرامن جدوجہد کرے گی۔ عید کے فوراً بعد پشاور میں ہم فورس ممبران سے حلف لیں گے۔ اس فورس کا چین آف کمانڈ ہوگا۔ عمران خان جس کو ذمہ داری دیں گے اس کو اس فورس کی کمانڈ دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے تیاری کریں گے پھر لڑائی کریں گے۔ یہ لڑائی جمہوریت اور آئین کی بالادستی اور آزاد میڈیا کے لئے ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا پی ٹی آئی میں جو مجھے ہٹانےکی خواہش رکھتے ہیں وہ جان لیں عزت و ذلت اللہ دیتا ہے۔ مجھے ہٹانے سے متعلق کس نے پیغام دیا یہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے پوچھ لیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ احتجاج اور مذاکرات کی ذمہ داری علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو دی گئی تھی۔ بانی پی ٹی آئی نے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ذمہ داری انہیں سونپی ہے، جس کے تحت ’عمران خان رہائی فور‘ قائم کی جا رہی ہے۔ اس فورس میں پی ٹی آئی، آئی ایس ایف اور وومن ونگ سمیت تمام طبقات شامل ہوں گے۔ عید کے بعد پشاور میں حلف لیا جائے گا اور پھر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان ہوگا۔
اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں سے متعلق میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی حالت تشویشناک تھی، جیلر نے مجرمانہ کوتاہی کی جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا تاکہ حکومت مزید لاپرواہی نہ کرے۔ پرامن احتجاج کو روکا گیا۔ حکومتی رویہ غیر آئینی تھا۔ اراکین اسمبلی کی گرفتاریاں اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنا قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی کو نقصان پہنچنے پر محمود خان اچکزئی نے بھوک ہڑتال کی دھمکی دی تھی۔ تاہم اب آنکھ میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو رسائی دی جائے۔ خاندان اور وکلا کو آن بورڈ لیا جائے۔