سیاستدان دِل بڑا کریں

سیاستدان جب ایک دوسرے پر طنزو تنقید کے نشتر چلاتے ہیں  تو حیرت ہوتی ہے۔ حیرت اِس لئے ہوتی  ہے کہ سبھی نے تو ایک جیسے کام کئے ہیں مثالیں دونوں طرف سے نکل آتی ہیں، پھر بات ایک دوسرے کے حامیوں تک پہنچ جاتی ہے اور اپنے اپنے حساب سے طبلہ بجانا شروع کر دیتے ہیں۔

 بہتر تو یہی ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف شخصی جملوں سے گریز کریں۔ صدر آصف علی زرداری کے حال ہی میں جیل کے حوالے سے دیئے گئے ارشادات پر خاصی لے دے مچی ہوئی ہے۔ چونکہ اُن کا رُخِ زیبا عمران خان کی طرف تھا اس لئے اُن کے حامی سوشل میڈیا پر خوب گرج برس رہے ہیں۔اس کا فائدہ کسے ہوا؟ وہ باتیں جو پردے میں رہتی ہیں ،ایسے گند اُچھالیں تو بیانات سے باہر آ جاتی ہیں۔صدرِ مملکت کا تو ویسے بھی ایک بڑا مقام ہوتا ہے، ٹھیک ہے وہ اپنی جماعت کے لیڈر بھی ہیں تاہم اُن کی باتوں سے قومی یکجہتی پیدا ہونی چاہئے، نہ کہ انتشار کی نئی لہریں نمودار ہوں۔

کئی دہائیوں کی الزاماتی سیاست کے بعد اب اتنا مواد تو موجود ہے کہ ہر جماعت کا سیاسی کارکن اُس سے اپنی پسند کا مصالحہ تیار کر  لیتا ہے۔پھر ایک  کی دس دس لگائی جاتی ہیں، تماشا در تماشا شروع ہو جاتا ہے۔ایک میثاق اس نکتے پر بھی ہونا چاہئے کہ شخصی حوالے سے کسی سیاستدان کے خلاف گڑے مردے نہیں اکھاڑے جائیں گے۔سیاست میں اس کے بعد یقینا ًایک ٹھہراؤ آ جائے گا، جس ملک میں ایک ہی قسم کے واقعات بار بار دہرائے گئے ہوں۔ اس میں ایک سیاستدان کو استثنا کیسے مل سکتا ہے۔جن الزامات کے تحت بینظیر اقتدار سے نکالی جاتی تھیں ،وہی نواز شریف پر لگ جاتے تھے۔ باقی منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ بھی ایک جیسے الزامات لگائے گئے اور انہیں گھر بھیجا گیا۔سیاستدان کم از کم اس حقیقت کو تو تسلیم کر لیں، پھر شاید سیاست میں ٹھہراؤ بھی آ جائے اور شائستگی بھی۔

عوام بھی اب الزاماتی سیاست سے متاثر نہیں ہوتے۔ غلط سلط ہونے والے واقعات نے انہیں کم از کم اتنا شعور تو دے دیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کرپشن کے الزامات بھی پھسپھسے ہو چکے ہیں۔ اس طرح غدار غدار کی باتیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں۔کوئی سیاستدان پاکستان میں کبھی غدار رہا ہی نہیں۔سب کی حب الوطنی مسلمہ ہے، پھر یہودی ایجنٹ کا نعرہ بھی بے پیندے کا لوٹا بن گیا ہے، جس کا کوئی آگا پیچھا نہیں۔جب سب کچھ مٹ رہا ہے یا مٹ چکا ہے تو پھر پاکستانی سیاست کو ان آلائشوں سے پاک کیوں نہیں کیا جاتا۔ ایشوز پر کیوں بات نہیں کی جاتی۔ عوام تو اب ایک نئے طرز کی سیاست مانگتے ہیں جس میں اُن کے مسائل پر توجہ دی جائے۔ قومی معاملات کو بہتر بنایا جائے۔جان لیوا مہنگائی کم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ بنگلہ دیش ہچکولے کھانے کے بعد دوبارہ جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھ گیا ہے۔ اگر وہاں ماضی کے تجربات نہ دہرائے گئے تو ایک مضبوط اور پائیدار جمہوریت بنگلہ دیشی عوام کا مقدر بن جائے گی،جس کی وہ شدید تمنا بھی رکھتے ہیں۔

میں جب سکول اور اُس کے بعد کالج جانے کی عمر میں تھا تو ملک پر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی، اُن کے دو تین سال گزر چکے تھے۔اُن دِنوں اپوزیشن ایک نعرہ بھی کرپشن کے حوالے سے نہیں لگاتی تھی۔البتہ بھٹو حکومت کے اپوزیشن مخالف فیصلوں اور بعض اوقات متشدد کارروائیوں کو ہدفِ تنقید بناتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھٹو کے خلاف تحریک چلی تو وہ بھی کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تھی۔اس زمانے میں سب  سے بڑی تنقید یہ ہوتی تھی کہ شہری آزادیوں کو سلب کیا جا رہا ہے۔ بھٹو پر سول مارشل لا  لگانے کے الزامات بھی لگائے جاتے تھے۔ یہ ایسی باتیں تھیں جو جمہوریت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتی تھیں۔

ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کیا تو ساری صورتحال بدل گئی۔ سیاست کو سیاسی موضوعات سے نکال کر سیاستدانوں کے ذاتی معاملات میں لایا گیا،پھر  بڑھتے بڑھتے بات کرپشن کی داستانوں تک چلی گئی۔ اس زمانے میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی رسمِ بد بھی شروع ہوئی۔ بدقسمتی سے ساستدان اُس کی رو میں بہہ گئے، حالانکہ پچھلے78 برسوں میں کوئی ایک سیاستدان نہ تو غدار ثابت ہوا نہ ہی غداری کا مرتکب قرار پایا گیا۔بھارت اور اسرائیل تو ایسے کردار رہے، جن کی بنیاد پر پاکستانی سیاست کو کٹھ پتلی بنایا گیا۔ حالت تو یہ تک رہی کہ کسی نے اگر یہ بیان بھی دیا کہ پاک بھارت کے درمیان مفاہمت خطے کے مفاد میں ہے تو اُسے بھی غداری کی فہرست میں ڈال دیا گیا۔ زمانے نے کیا کیا کروٹیں لینی تھی اُس وقت کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔اس زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ہم غزہ میں اَمن کے لئے اسرائیل کے ساتھ پیس بورڈ میں شامل ہو جائیں گے۔

سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو پالیسیوں کے حوالے سے ایک دوسرے پر تنقید ضروری کرنی چاہئے۔یہ سیاست کا اصل مقصد ہے اور اس سے وہ آگے بڑھتی ہے مگر ایسا رویہ ہر گز نہیں اپنانا چاہئے جو شخصی تصادم کی طرف جاتا ہو۔عمران خان سے ایک غلطی یہ بھی ہوئی کہ وہ اپنی مخالف شخصیات کے پیچھے پڑ گئے۔انہوں نے اپنی تقریروں کا سارا ہدف نواز شریف،آصف علی زرداری اور شہباز شریف کو بنایا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود مخالفین کے نشانے پر آ گئے اگر وہ حکومت میں آنے کے بعد ساری توجہ گڈ گورننس پر دیتے اور”چھوڑوں گا نہیں“کی گردان نہ کرتے تو اُن کے سیاسی قوتوں سے رابطے یکسر منقطع نہ ہوتےجو بعدازاں اُن کی سیاسی تنہائی کا باعث بنے۔

آج کچھ حلقے کہتے ہیں کہ سیاستدانوں کا اب اِس ملک میں کوئی مستقبل نہیں رہا،اُن پر طاقتور حلقے غالب آ چکے ہیں۔میں اس بات کو نہیں مانتا، سیاست اور سیاست دانوں کے بغیر یہ ملک چل نہیں سکتا۔ جس بات کی سیاستدانوں میں کمی ہے اگر وہ اسے پورا کرنے پر توجہ دیں تو سیاست وطن عزیز کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ وہ بات ہے سیاست دانوں کے درمیان مکالمہ اور ہم آہنگی کا فروغ۔یہ ایک دوسرے سے بچوں کی طرح ناراض ہو کر بیٹھ جانا یا مخالفت کو اتنا بڑھا لینا کہ ایک خلاپیدا ہو جائے، جسے پورا کرنے کے لئے کوئی تیسری طاقت سامنے آ جائے۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف کو موجودہ حالات میں مدبرانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ نہ کہ وہ ایسے بیانات دیں جن سے سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو جائے۔

اب اگر صدر آصف علی زرداری ایک بھرے جلسے میں کہیں کہ عمران خان جیل میں بیٹھا رو رہا ہے جبکہ میں نے تو بڑی بہادری سے جیل کاٹی تھی تو اس کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔سوائے فضا میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کے۔ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لئے دِل بڑا کرنے کی ضرورت ہےمگر فی الوقت کوئی ایسا کرنے کو تیار نہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)