’عمران خان رہائی فورس‘
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 18 / فروری / 2026
خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی طرف سے ’عمران خان رہائی فورس‘ بنانے کا اعلان ، درحقیقت تحریک انصاف میں قیادت کے فقدان اور درست حکمت عملی میں ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگرچہ انہوں نے کہا ہے کہ یہ فورس ’حقیقی آزادی‘ کے لیے پر امن جد و جہد کرے گی لیکن اس بارے میں بیان دیتے ہوئے جو لب و لہجہ اور الفاظ استعمال کیے گیے ہیں ، انہیں تصادم کی دعوت کے سوا کوئی دوسرا نام دینا مشکل ہے۔
اوّل تو ملک اس وقت کسی بھی قسم کے تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایک اہم صوبے کے وزیر اعلیٰ کے طور پر سہیل آفریدی کو بخوبی اس کا احساس ہونا چاہئے۔اس معاملہ پر بات ہوسکتی ہے کہ عمران خان کے ساتھ کس حد تک زیادتی ہورہی ہے یا ان کے خلاف قائم مقدمات ناجائز ہیں یا ان میں کوئی حقیقت بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اس ملک کی سیاست کا حصہ ہے۔ غلط ہونے کے باوجود اس طریقے کو ہمیشہ اختیار کیا گیا حتی کہ حقیقی آزادی، تبدیلی اور پاکستان کو جنت نظیر بنا دینے کے دعویدار عمران خان بھی اپنے پورا دور اقتدار ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ کا نعرہ لگاتے اور یہ تدبیریں کرتے گزار گئے کہ کیسے سیاسی مخالف لیڈروں کی زندگی اجیرن بنائی جائے۔ غیر جانبدار مبصرین عمران خان کی قید کو ناجائز کہتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ ایک غلط کو درست کرنے کے لیے کسی بھی پارٹی یا افراد کو کچھ ایسا کرنے کی اجازت دے دی جائے جو براہ راست ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
اس معاملہ کا دوسرا پہلو پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی سیاست اور اس میں موجود دھڑوں سے متعلق ہے۔ سہیل آفریدی نہ تو عمران خان کے ترجمان ہیں اور نہ تحریک انصاف کے واحد نمائیندے ہیں بلکہ وہ محض ا س زعم میں مبتلا ہیں کہ انہیں عمران خان نے نامزد کرکے وزیراعلیٰ بنوایا تھا ۔ اس لیے وہ اب اپنی وفاداری ثابت کر نے کے لیے افسوسناک انتہاپسندی کا طرز عمل اختیار کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کی یہی کمزوری درحقیقت اس کے پاؤں کی زنجیر بن چکی ہے۔ جو معاملات سیاسی بات چیت کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیے جاسکتے تھے ، انہیں دھمکی آمیز بیانات دے کر اور تصادم کا راستہ اختیار کرکے مسدود کیا جاتا رہا ہے۔
اس کا تازہ ترین ثبوت عمران خان کی آنکھوں کی بیماری کے سلسلہ میں دیکھا گیا۔ عمران خان کی بینائی کے بارے میں گمراہ کن بیانیہ بنا کر حکومت کو زیر کرنے اور اپنی شرائط پر علاج کرانے کی کوشش کی گئی۔ یہ کسی بیمار شخص سے ہمدردی کا طریقہ نہیں تھا بلکہ اس ہتھکنڈے سے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کی گئی تھی۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی طرح سہیل آفریدی بھی ان کوششوں میں ناکام ہوئے ہیں۔ حکومت نے اپنے طریقے کے مطابق میڈیکل معائنہ کرایا اور مناسب علاج فراہم کیا ۔ یہ اطمیمان بخش رپورٹ اب سپریم کورٹ کو روانہ کردی گئی ہے۔ حالانکہ اگر سپریم کورٹ پر ہی بھروسہ کیاجاتا تو ہو سکتا ہے چیف جسٹس اس رپورٹ کی روشنی میں عمران خان کو ہستپال داخل کرانے کا حکم دیتے۔ تاہم سہیل آفریدی جیسے لوگ سپریم کورٹ ہی کے باہر کھڑے ہوکر دعویٰ کررہے ہیں کہ عدالتیں اپنے احکامات منوانے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ اگر یہ ناکامی ہے تو تحریک انصاف ہی کے وکیل ’فرینڈ آف کورٹ‘ بن کر عمران خان سے ملنے کیوں گئے تھے؟
اپوزیشن کو کھسیانا ہوکر روڈ بلاکس اور پارلیمنٹ کا دھرنا ختم کرنا پڑا۔ کے پی ہاؤس کا دھرنا دو روز پہلے ختم کرایا جاچکا تھا۔ اب سہیل آفریدی ایسی فورس بنانے کا اعلان کررہے ہیں جس کے ارکان بھرتی ہوں گے ، ان سے باقاعدہ حلف لیا جائے گا اور وہ ایک چین آف کمانڈ کے تحت ’لڑائی ‘ کریں گے۔ لیکن سہیل آفریدی کا دعویٰ ہے کہ یہ لڑائی پر امن ہوگی۔ انہیں جاننا چاہئے کہ پر امن جد و جہد ہوتی ہے، امن کے لیے لڑائی نہیں لڑی جاتی۔ سیاسی کارکن رضاکارانہ طور پر ایک خاص سیاسی مقصد کے لیے احتجاج کرتے ہیں اور مطالبے سامنے لاتے ہیں۔ وہ دھمکیاں نہیں دیتے اور سہیل آفریدی کے الفاظ میں یہ اعلان نہیں کرتے کہ ’ہم لڑائی لڑیں گے اور بھرپور تیاری سے لڑیں گے۔ یہ لڑائی حقیقی آزادی کے لیے لڑیں گے‘۔
’عمران خان رہائی فورس‘ قائم کرنے کا اعلان درحقیقت یہ اعتراف ہے کہ تحریک انصاف پارٹی کے طور پر اپنا کوئی تشخص یا وجود نہیں رکھتی۔ چند افراد اور عناصر عمران خان کا نام لے کر زہر اگلتے ہیں اور اپنا اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تحریک انصاف 9 مئی 2023 کو اس قسم کا ریاست دشمن راستہ اختیار کرکے دیکھ چکی ہے۔ اسے کوئی کامیابی نہیں ملی اور پارٹی کا سیاسی راستہ بھی دشوار ہوگیا۔ اس کے باوجود اس سانحہ سے سبق سیکھنے اور سیاسی جد و جہد کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے، اب ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک ایسی فورس قائم کرنے پر مصر ہے جو جتھوں کی صورت میں اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ سہیل آفریدی نے اگرچہ کہا ہے کہ اس کا ’کمانڈر‘ عمران خان نامزد کریں گے لیکن دریں حالات یہ قیاس کیا جاسکتا ہے ہے سہیل آفریدی خود اس فورس کی سربراہی کے امیدوار ہوں گے۔ رکن سازی اور حلف برداری کے بعد یہ فورس کیا کرے گی؟ اگر اس کے نام کے حوالے سے اس مقصد کو جاننے کی کوشش کی جائے تو وہ جتھہ بنا کر اڈیالہ جیل پر حملہ آور ہوگی اور اپنے لیڈر کو رہا کرائے گی۔
کیا واقعی سہیل آفریدی اور تحریک انصاف میں ان کے سرپرست، یہ باور کیے بیٹھے ہیں کہ ریاست اس قسم کی قانون شکنی کو برداشت کرلے گی اور پی ٹی کو زیادہ بڑا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا؟ عمران خان کے حامیوں اور تحریک انصاف کے ہمدردوں کو جان لینا چاہئے کہ ایسے اعلان اور خدانخواستہ ان پر عمل کرنے کی کوشش درحقیقت تحریک انصاف اور عمران خان کی رہی سہی سیاسی حیثیت کو دفن کرنے کی کوشش ہوگی۔