کرکٹ میں انڈیا سے شکست پرشکست کیوں؟

آج موضوعات کی بہتات ہے۔ بنگلا دیش میں نیشنلسٹ پارٹی عوامی طاقت سے جماعت اسلامی کو پچھاڑتے ہوئے دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ یہ بہت کرارا موضوع ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد کے خودکش حملے کے حوالے سے کچھ تشنہ پہلوؤں پر توجہ مرکوز کروانی ہے۔ تیسری طرف واشنگٹن میں غزہ بورڈ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے بھی کچھ پہلو قابل غور ہیں۔ چوتھی طرف نیٹ میٹرنگ ختم کرتے ہوئے حکومت سولر صارفین پر جو بم پھوڑنے جا رہی ہے، اس پر خامہ فرسائی کا ارادہ ہے۔

انہی دنوں ایکسپو سینٹر میں شاندار بک فیئر منعقد ہوا ہے۔ جمخانہ کے دلچسپ الیکشن ہوئے ہیں اور الحمرا میں فیض امن میلہ جیسی خوبصورت تقریب میں شرکت کے مواقع میسر آئے ہیں۔ جی چاہ رہا ہے ان سب پر قلمکاری کرتے ہوئے دلچسپ اور قابل توجہ پہلو اجاگر کیے جائیں۔ لیکن سب سے پہلے کولمبو میں ہونے والا پاک بھارت کرکٹ میچ جو ان دنوں عوامی سطح پر سب سے زیادہ ڈسکس ہونے والا موضوع بنا ہوا ہے۔ بلا شبہ کرکٹ ایک خوبصورت مہذب کھیل ہے لیکن نہ جانے کیوں ہم اسے کھیل کی بجائے زندگی موت یا کفر و اسلام کی جنگ بنا لیتے ہیں۔ مقابلہ اگر بھارت سے ہو پھر بھی ہمیں اتنا متشدد نہیں ہونا چاہیے۔ بنیادی طور پر ہم ہر دو ممالک کے عوام ایک ہی خطے، ایک ہی دھرتی کے باسی ہیں۔ دونوں اطراف ایک جیسے ہمارے اپنے ہی بچے ہیں۔ ایک جیسا رہن سہن، بودوباش، ایک جیسے لب و لہجے، ایک جیسی زبان، ایک جیسے گلے شکوے، ایک جیسی بھاونائیں یا تمنائیں۔

وہ جیتیں یا ہم اس میں اتنے غصے والی کون سی بات ہے؟ ظاہر ہے محنت اور لگن سے جو اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا۔ جو غیر ذمہ دارانہ کھیلے گا وہ لازمی ہارے گا۔ نہ جانے کیوں ہمارے لوگ اس قدر مناجاتیں اور دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں کہ یا مولا ہمیں کسی بھی طرح انڈیا سے میچ جتوا دے۔ اور ہمارے کھلاڑی بھی موقع بے موقع اس نوع کی گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں کہ ہم قوم کی دعاؤں سے جیت گئے ہیں یا یہ کہ آپ لوگ ہماری کامیابی کے لیے دعا کریں۔ اور پھر جب ہار جاتے ہیں تو فوری بعد اس طرح کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ پچیس کروڑ میں سے آخر کیوں کسی ایک کی بھی دعا قبول نہیں ہوئی ہے؟

درویش جب گاؤں میں ہوتا تھا تب اس طرح کی کرٹیکل صورت حال میں کئی سیانے، بچہ لوگوں کو بعد نماز فجر مسجد سے اپنے گھروں میں آیت کریمہ پڑھانے کے لیے بلاتے تھے۔ جو کھجوروں کی گٹھلیوں پر پڑھا جاتا تھا اور اچھا کھانا بھی دیا جاتا تھا۔ اگر ناچیز کبھی مولوی صاحب سے کہتا کہ ہمارے علامہ اقبال نے تو کہہ رکھا ہے کہ “تیری دعا سے قضا بدل نہیں سکتی” یا یہ کرکر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی، یا پیر حرم تیری مناجاتِ سحر کیا”۔ تو میرے دادا منع کرتے ہوئے گویا ہوتے، پتر ایسے نہیں کہتے۔ دعاؤں میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ کئی بزرگ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکم ہے تُو حیلہ کر، اوپر والا وسیلہ کرے گا۔

اپنی کرکٹ ٹیم اور کرکٹ کے طاقتوروں کی خدمت میں التماس ہے کہ اوپر والے کو وسیلہ بنانے سے پہلے آپ لوگ حیلہ تو کریں۔ حیلہ سے مراد ہے کہ آپ لوگ کرکٹ میں موجود اپنی خامیاں دور فرمائیں۔ اگرچہ ہار جیت گیم کا حصہ ہے لیکن یہ بھی تو کوئی بات نہ ہوئی کہ جب بھی پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا ہوتا ہے، اس میں ہر بار انڈیا ہی کیوں جیت جاتا ہے؟ اور ہماری قسمت میں خدا نے شکست یا ہار ہی کیوں رکھی ہے؟ انڈیا سے سبکی کرواتے ہوئے آخر ہم ہیٹرک سے بھی کہیں زیادہ بے عزتی کروا بیٹھتے ہیں۔ جب کہ بڑھکیں ہانکنے میں ہم لوگ سب سے آگے ہیں۔ ہر میچ سے پہلے اس نوع کی فضا بناتے ہیں کہ ہم بھارتی سورماؤں کی لسی بنا دیں گے، ہم انہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑیں گ۔ے وغیرہ۔

یوں اپنے پاکستانیوں میں میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے اتنی پھونک بھر دیتے ہیں کہ لوگ بڑے بڑے شہروں میں بڑی بڑی اسکرینیں لگا کر اجتماعی شادیانے بجا رہے ہوتے ہیں کہ اب کے ہندوستان کی خیر نہیں۔ ہمارے کھلاڑیوں نے گویا جہاد سمجھ کر کرکٹ گراؤنڈ میں اترنا ہے۔ اس کے بعد ہمارے شاہینوں کی جو پٹائی ہوتی ہے تو وہی مجمع یہ چاہ رہا ہوتا ہے کہ نہ صرف ان اسکرینوں کو توڑ دیں بلکہ اپنے نام نہاد کرکٹر ہیروز کے بھی دانت خراب کر دیں۔ جنہوں نے اپنی گھٹیا پرفارمنس سے ہماری اتنی زیادہ تذلیل کروا دی ہے۔ ہمارے اخبارات موٹی موٹی سرخیاں لگاتے ہیں کہ “چار ماہ میں بھارت سے چوتھی شکست: ذمہ دار کون؟”

کچھ لوگ نام لے لے کر اپنے کھلاڑیوں کو کوستے ہیں۔ سلمان آغا، بابر اعظم، صاحبزادہ فرحان نے مروا دیا ہے۔ کچھ کہتے ہیں شاہین آفریدی، ابرار اور شاداب کو ٹیم سے نکالو۔ کھیل میں فتح کے ساتھ شکست بھی ہوتی ہے لیکن ایسی ذلت آمیز شکست تو نہیں ہونی چاہیے کہ ہماری ٹیم بیس اوور بھی مکمل نہ کر سکے۔ اور اکٹھے اکسٹھ رنز کی بےعزتی سے ڈھیر ہو جائے۔ ایسا گندا کھیل تو ڈومیسٹک گیمز میں بھی نہیں ہوتا۔ اگر سچائی سے تجزیہ کیا جائے تو ہماری کرکٹ میں نہ کوئی پالیسی ہے نہ ویژن، نہ انفراسٹرکچر، نہ مینجمنٹ۔ ہم انوکھے لوگ ہیں جو بطور ٹیم نہیں انفرادی و مفاداتی کھیلتے ہیں۔

بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایسی کیا مجبوری ہے جو پی سی بی کا چیئرمین بھی کل وقتی نہیں جز وقتی ہے۔ جس ملک کو کے پی اور بلوچستان میں اتنی بڑی دہشت گردی کا سامنا ہے، اس کے وزیر داخلہ کے پاس کیا اتنا فالتو وقت نکل سکتا ہے کہ وہ بیک وقت کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ذمہ داریاں بھی اٹھائے ہوئے ہو۔ آخر دوسرے کس ملک کی کرکٹ کا سربراہ کولمبو پہنچا ہے سوائے ہمارے اور کیوں؟ اس کے باوجود دماغ اتنا اونچا ہے کہ دبئی میچ میں ہمارے بالمقابل جب انڈین کرکٹ ٹیم جیت گئی اور انہوں نے یہ ریکویسٹ کی کہ ہماری مجبوری ہے جب ہم آپ سے ہاتھ نہیں ملا رہے تو اپنی جیت کی ٹرافی بھی آپ کے ہاتھوں نہیں لے سکتے۔ اس پر اسپورٹس مین اسپرٹ کا تقاضا تھا کہ ہم اس ضد پر مصر رہنے کی بجائے کہ جبری عزت افزائی کرواتے ہوئے ٹرافی ہم نے ہی آپ کو پیش کرنی ہے، کسی غیر جانبدار شخصیت کو آگے کر دیتے۔ متحدہ عرب امارات کی کوئی شخصیت یہ فریضہ سرانجام دے سکتی تھی۔ ویسے بھی حکم ہے وہ شخص امامت نہ کرواۓ جسے مقتدی پسند نہ کرتے ہوں۔ لیکن نہیں جی ہم نے تو انڈین ٹیم کو ٹرافی اپنے ہاتھوں سے ہی پیش کرنی ہے۔ یا پھر ان کی جیتی ہوئی ٹرافی اٹھا کر اپنے گھر لے جانی ہے۔ یہ کہتے ہوئے ہم لوگ کتنے ہولے لگ رہے تھے۔

کیا کسی نے ادراک کیا کہ ہماری اس حرکت پر ایک ارب سے زائد انسانوں کےاحساسات کیا ہوں گے؟ انڈین کھلاڑی جب گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، آپ لوگ انہیں بھی سنیے اور پھر جب ہمارے کھلاڑی منہ کھولتے ہیں انہیں بھی سن لیجیے۔ آخر ہمارے لوگوں کا رویہ گنواروں جیسا کیوں ہوتا ہے؟ اگر خدا نخواستہ انڈیا کے بالمقابل ہماری ٹیم کو کامیابی مل جائے تو یوں لگے گا جیسے ایک مرتبہ پھر سومنات کے مندروں کو تہہ و بالا کر دیا گیا ہے۔ ہمارے میڈیا میں ایسی ایسی سرخیاں جمائی جائیں گی کہ جیسے پورے انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ انڈیا کی تذلیل کر دی گئی ہے۔ انڈیا کو پوری دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔ پرائم منسٹر لیول سے اس نوع کے بیانات جاری ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنے ازلی دشمن کو ایسی دھول چٹائی ہے کہ اس شکست کو وہ قیامت تک نہیں بھول سکے گا۔

الفاظ کا ایسا تشدد کہ الا مان و الحفیظ۔ شاید اسی لیے قدرت ہمیں اپنی اوقات میں رکھتی ہے کہ کہیں آپے سے باہر نہ ہو جائیں۔ آخر میں صرف اتنی گزارش ہے کہ انڈیا والوں نے اپنی ٹیم سلیکشن کا جو کڑا معیار قائم کر رکھا ہے، اس کا اندازہ اتنی بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہمارا جٹ بھائی شبھمن گل جو منجھا ہوا بیٹر اور اتنا پاپولر بڑا کھلاڑی ہے کہ نیو کوہلی کہلاتا ہے، اوپر سے رشتے میں ٹنڈولکر کا ہونے والا داماد ہے، اس اہمیت کے باوجود اگر اس کی پرفارمنس میں تھوڑی سی بھی کمی آئی ہے تو ٹی ٹونٹی  سے باہر کر دیا گیا ہے۔ تاوقتیکہ اپنا جھول دور کر لے۔ جبکہ ہمارے آغا سلمان کو چاہے اس کا ادارہ کپتانی کے قابل نہ سمجھے مگر وہ ٹی ٹونٹی کا کپتان ہے کہ نقوی صاحب کے من کو بھاتا ہے۔ لہٰذا ہمارے عوام کا غم و غصہ قابل فہم ہونا چاہیے۔