ٹرمپ کی توصیف پر بھروسہ نہ کیا جائے!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 19 / فروری / 2026
واشنگٹن میں غزہ کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں صدر ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک دوسرے کی تعریف و توصیف میں فراخدلانہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان کو خبردار رہنا چاہئے کہ ٹرمپ جیسے لیڈر کے توصیفی الفاظ کا رخ کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتا ہے۔ اسے کسی ٹھوس امریکی پالیسی کا اشارہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
امن بورڈ کے اجلاس میں 47 ممالک کے لیڈروں نے شرکت کی لیکن اس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی شامل تھے جبکہ فلسطینی اتھارٹی یا حماس کو اس اجلاس میں نمائیندگی حاصل نہیں تھی۔ اس لیے فی الوقت اس امن بورڈ یا اس کی کارکردگی کے بارے میں کوئی رائے دینا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان نے اپنے عرب دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد اس بورڈ میں شامل ہونے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا تاکہ وہاں غزہ کے مستقبل کے بارے میں فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کی جاسکے۔ البتہ عملی طور سے اس بورڈ کی کارکردگی کا انحصار حماس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر ہوگا تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر غیرمسلح ہونے کا وعدہ پورا کرکےنئی عالمی فورس کو کام کرنے کا موقع دے۔ البتہ اگر اس وعدے پر عمل نہ ہؤا تو امریکہ اور اسرائیل طاقت کے زور پر حماس کو غیر مسلح کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امن بورڈ کے آج منعقد ہونے والے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم نے برملا اور دو ٹوک الفاظ میں اس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا ۔ اگر اس نے خود ہتھیار نہ پھینکے تو طاقت کے زور پر یہ کام کرایا جائے گا۔ اگرچہ اجلاس میں موجود کسی مسلمان ملک نے اسرائیلی وزیر اعظم کے اس تبصرے پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا لیکن ٹرمپ اور نیتن یاہو جانتے ہیں کہ کسی ایسے عسکری گروہ کو جس کی جڑیں مقامی لوگوں میں پیوست ہوں اور جہاں اسرائیل کی مسلسل اور ہولناک جارحیت کی وجہ سے شدید نفرت کا ماحول موجود ہو، وہاں پر ایک نئی عسکری کارروائی بھی کارگر ثابت نہیں ہوگی ۔البتہ خوں ریزی کا ایک نیا دور ضرور دیکھنے میں آئے گا۔
اسی لیے بورڈ آف پیس کا کردار اس حد تک اہم ہوسکتا ہے کہ عرب و مسلمان ممالک مل جل کر فلسطینیوں کے لیے کچھ ضمانتیں حاصل کریں، اسرائیلی توسیع پسندی کی روک تھام ہوسکے اور مسلمہ اصولوں کے مطابق فلسطینیوں کو ایک باوقار قوم کے طور پر زندہ رہنے کا موقع دیا جائے۔ البتہ ایسا کوئی حل نہایت مشکل ہوگا۔ غزہ میں دو سالہ جنگ کی تباہ کاری کے بعد اسرائیل کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں اور وہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی فلسطینی ریاست کے وجود کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ پاکستان سمیت متعدد عرب و مسلمان ممالک نے متنازعہ اور مشکوک بورڈ آف پیس میں شامل ہوکر درحقیقت امریکہ کے منہ زور صدر کے ساتھ تعاون کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تعاون دو بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ ایک یہ کہ غزہ یا دیگر فلسطینی علاقوں سے فلسطینی شہریوں کا جبری انخلا نہ ہو ۔ دوسرے یہ کہ امن کو موقع دیا جائے، غزہ کی تعمیر نو ہو اور استحکام پیدا ہونے کے بعد جب جذبات قابو میں آجائیں تو کسی سفارتی حل کی طرف پیش قدمی کی جائے۔
غزہ کی تعمیر نو کے لیے مالی وسائل چونکہ عرب ممالک فراہم کریں گے ، اس لیے انہیں اس معاملہ میں اثر و رسوخ بھی حاصل ہے اور امریکی صدر پر ان کا سفارتی اثر بھی موجود ہے۔ تاہم یہ پہلو بدستور جواب طلب رہے گا کہ عرب ممالک پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا جیسے مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر کیسے بورڈ آف پیس میں ایک مضبوط فلسطینی لابی بنا سکیں گے تاکہ فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہ رہے اور یہ واضح ہوسکے کہ مشرق وسطیٰ میں پائدار امن کے لیے فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ البتہ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کرکے جو غلطی کی تھی اس کے زخم مندمل ہونے میں کافی وقت درکار ہوگا۔ غزہ کے باشندوں نے حماس کی اس فاش اسٹریٹیجک غلطی کی بھاری قیمت ہزاروں جانوں اور پورے علاقے کی مکمل تباہی کی صورت میں ادا کی ہے۔ اس لیے فریقین پر لازم ہے کہ صبر وتحمل سے مستقل امن اور بقائے باہمی کا کوئی طریقہ تلاش کیاجائے۔ مسلمان ممالک زیرکی اور سفارتی چابک دستی سے امن بورڈ کا پلیٹ فارم یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ تاہم اس کام میں انہیں حماس جیسے گروہوں کی طرف سے بھی تعاون فراہم ہونا چاہئے۔ ورنہ فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرق وسطیٰ میں امن کا خواب منتشر ہوتے دیر نہیں لگے گی۔
پاکستان نے امن بورڈ میں شمولیت کے باوجود غزہ میں تعینات کی جانے والی امن فورس کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے۔ کیوں کہ ابھی تک یہ ابہام موجود ہے کہ اس فورس کا مینڈیٹ کیا ہوگا۔ پاکستان کسی بھی صورت میں اس فورس میں شامل ہوکر حماس کو غیر مسلح کرنے کا ناپسندیدہ کام کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں صراحت سے بتایا ہے کہ پاکستان نے اپنی ریڈ لائنز واضح کردی ہیں۔ بورڈ کے اجلاس میں شہباز شریف کی تقریر میں بھی اس کا عکس موجود تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’فلسطینی عوام طویل عرصے سے غیر قانونی قبضے اور بے پناہ مصائب برداشت کرتے آئے ہیں۔ دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ختم کی جائیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ہو سکے ، تعمیرِ نو کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے اور مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو‘۔ اس بیان میں پاکستان کی سرکاری پوزیشن وضاحت سے بیان کردی گئی ہے۔
البتہ پاکستانی میڈیا میں اس بورڈ کے حوالے سے ہونے والی رپورٹنگ میں صدر ٹرمپ کی طرف سے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی توصیف اور پاک بھارت جنگ میں بھارتی طیاروں کی تباہی کا ذکر نمایاں رہا۔ ٹرمپ نے اب یہ تعداد بڑھا کر 11 کردی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ انہوں نے بتایا کہ اگر میں جنگ بند نہ کراتا تو اڑھائی کروڑ لوگ مارے جاتے۔ واضح رہے بھارت صدر ٹرمپ کے اس کردار کو نہیں مانتا لیکن امریکی صدر مصر ہیں کہ انہوں نے جنگ بند کرائی۔ شہباز شریف نے تقریر کرتے ہوئے ٹرمپ ان دعوؤں کی تائد کی کہ اگر جنگ بڑھتی تو کروڑ وں لوگ ہلاک ہوسکتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹرمپ کی توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے اور انہیں امن کا دیوتا قرار دیا جس کا اجر اللہ ہی انہیں دے گا۔
ٹرمپ خودستائی کے مرض میں مبتلا ہیں اور شہباز شریف کو ’خوشامد‘ میں ید طولی حاصل ہے۔ البتہ کسی اجلاس میں کی گئی تقریروں سے قطع نظر حکومت پاکستان کو فلسطین اور ریجن میں اپنے اسٹریٹیجک اور سفارتی اہداف کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اور نہ ہی ٹرمپ کی مبالغہ آرائی کو حقیقت سمجھ کر امریکہ کو سرپرست اور دوست سمجھنے کی غلطی کرنی چاہئے۔ امریکہ کی طرح ٹرمپ بھی تعریف یا تنقیص کرتے ہوئے خاص مقاصد کے لیے کام کررہے ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ بے معنی ہے کہ ٹرمپ نے کس لیڈر کے لیے کیا الفاظ استعمال کیے۔