بنگلا دیش میں جمہوریت کی کامیابی؟

بنگلا دیش اسی طرح ہمارے وجود کا حصہ رہا ہے جس طرح ہم صدیوں انڈیا کے وجود کا حصہ رہے ہیں۔ ہمارے لوگوں نے ہندو میجارٹی کے خوف سے اپنے ملک کا بٹوارہ کروا لیا جبکہ بنگالی عوام نے میجارٹی ہونے کے باوجود مینارٹی کے استبداد و استحصال سے نجات پاتے ہوئے آزادی حاصل کر لی۔

انڈیا، پاکستان اور بنگلا دیش میں موجود اس بٹوارے، سرحدی بندشوں اور ان دوریوں کے باوجود قربتیں ختم نہیں ہو سکیں اور ختم ہونی بھی نہیں چاہئیں کیونکہ بنیادی طور پر ہم ایک ہی دھرتی، ایک ہی ڈی این اے، ایک ہی تہذیبی گہوارے کا حصہ ہیں۔ جمہوری حوالوں سے بھی ہمارے سسٹم ملتے جلتے ہیں۔ بھارت کو تو اپنے مضبوط آئینی اور مستحکم جمہوری اداروں کے سبب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان اور بنگلا دیش اس سلسلے میں کوشاں ہیں۔ انیس سو ستر کے پہلے اور آخری متحدہ پاکستانی الیکشن میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ تین سو کے ایوان میں ایک سو باسٹھ سیٹیں لیتے ہوئے واضح اور بھاری مینڈیٹ سے جیت گئی تھی۔ جبکہ ان کے بالمقابل بھٹو کی پیپلز پارٹی محض 81 سیٹیں حاصل کر پائی۔ لیکن جب بنگالی عوام کا مینڈیٹ قبول کرنے کی بجائے ان پر عسکری یلغار کر دی گئی تو انہوں نے ہم سے اپنی راہیں جدا کرلیں۔

شیخ مجیب اور عوامی لیگ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس علیحدگی کے بعد بھی انہوں نے دوبارہ تازہ عوامی مینڈیٹ حاصل کیا جبکہ بھٹو اور ان کی پارٹی نے ایسا رسک لینے سے انکار کر دیا۔ جس طرح پاکستان میں ن لیگ اور پی پی باری باری آتی جاتی رہیں، ساتھ ہی طاقتور بھی اپنا حکم منواتے رہے۔ اسی طرح بنگلا دیش میں بھی عوامی لیگ کی شیخ حسینہ اور بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی کی بیگم خالدہ ضیا بھی تین اور دو مرتبہ پرائم منسٹر بنتی رہیں۔ بیچ میں طاقتوروں کا بھی کچھ نہ کچھ داؤ لگتا رہا۔

اس کے ساتھ بنگلا دیش کی سیاست کو سمجھنے کے لیے وہاں کی مذہبی اور سیاسی تنظیم جماعت اسلامی کے رول پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے، جس کی فکری بنیادیں مولانا مودودی کے نظریات پر استوار ہیں۔ خود مولانا کی قیادت میں اس جماعت نے جس طرح لیگ کے پارٹیشن یا پاکستان پلان کی حمایت نہیں کی تھی، اسی طرح پروفیسر غلام اعظم کی قیادت میں جماعت نے بنگلا دیش کے قیام کی بھی مخالفت کی تھی۔ بالخصوص جماعت کی نظریاتی فکر سے متاثر نوجوانوں نے الشمس اور البدر جیسی تنظیموں کے ذریعے عوامی لیگ اور مکتی باہنی کی جدوجہد آزادی میں قابض پاکستانی فورسز کا جہاد سمجھتے ہوئے نظری ہی نہیں عملی طور پر ساتھ دیا تھا، جس کے باعث شیخ مجیب کی عوامی لیگ لاکھوں بنگالیوں کی ہلاکتوں میں جماعت کو برابر کا شریک سمجھتی چلی آ رہی ہے۔

یہ ہے وہ پس منظر جس میں شیخ مجیب کے سپتری شیخ حسینہ تین مرتبہ پرائم منسٹر بنگلا دیش منتخب ہونے کے باوجود جماعت کے لگائے زخموں کو نہ بھلا پائیں اور اسی انتقامی اپروچ کے مطابق غداری و قتل و غارت گری کے جرائم میں انہوں نے جماعت کی اعلیٰ قیادت کو نہ صرف پھانسیاں دینا ضروری سمجھا بلکہ جو لوگ جنگِ آزادی میں مرے تھے ان کی اولادوں کو نوازنا بھی جاری رکھا۔ آزادی کی جدو جہد میں قربانیاں دینے اور جانیں گنوانے والوں پر حکومتی مہربانی قابل فہم تھی لیکن اس سلسلے کو اولادوں کی اولادوں تک پھیلا دینا عام بنگالی نوجوانوں کے لیے غیر منصفانہ اور ان کے احساس محرومی کو بڑھانے والا طرز عمل تھا۔ جب اس سلسلے میں آوازیں اٹھیں تو ایک عملی سیاستدان اور جمہوری لیڈر کی حیثیت سے شیخ حسینہ کو ان کا ادراک کرتے ہوئے قومی قائد کا منصفانہ رویہ اپنانا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس انہوں نے طاقت سے کچلنے کا روایتی تانہ شاہی حربہ اختیار کیا۔ وہ بنگالی عوام کی شعوری سطح کو سمجھنے سے قاصر رہیں۔ نتیجتاً اسلامی چھاتروشبر کے طلبا کا یہ احتجاج بڑی عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گیا جس میں جماعت اسلامی پیش پیش تھی۔ اسی احتجاجی تحریک کے باعث شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش میں اپنا اقتدار چھوڑتے ہوئے انڈیا فرار ہونا پڑا۔ جبکہ بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ ٹیکنوکریٹ محمد یونس کو چیف ایگزیکٹو بناتے ہوئے نیا عبوری سیٹ اپ قائم کر دیا گیا جس میں جماعت اسلامی کے زیر اثر طلبا ہی نہیں خود جماعت اسلامی بھی پوری طرح پیش پیش تھی۔ اور اس احتجاجی تبدیلی کو انقلاب کا نام دے رہی تھی۔

 اس دوران نہ صرف عوامی لیگ کے دفاتر جلائے گئے بلکہ بنگلہ دیش کی ہندو مینارٹی اور ان کے مندروں پر بھی حملے ہوئے۔ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کے مجسموں اور آزادی کی یادگاروں کو بھی توڑ پھوڑ دیا گیا۔ دوسری طرف چیف ایگزیکٹیو محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری سیٹ اپ پر اندرونی ہی نہیں بیرونی دباؤ بھی تھا کہ عوام کو ان کا حق نمائندگی لوٹاتے ہوئے فوری الیکشن کروائے جائیں۔ یہ ہے وہ پس منظر جس میں بارہ فروری کے پرامن الیکشن منعقد ہوئے ہیں اور انتخابی نتائج، جاری کی گئی سروے رپورٹس کے برعکس اس درویش کی توقعات کے عین مطابق برآمد ہوئے ہیں۔ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی تین سو کے ایوان میں ایک امیدوار کی وفات کے بعد دو سو ننانوے سیٹوں میں سے دو سو بارہ نشستیں لیتے ہوئے ٹو تھرڈ میجارٹی کے بھاری مینڈیٹ سے جیت گئی ہے۔ اور جماعت اسلامی کو محض 76 سیٹوں تک محدود ہونا پڑا ہے۔

ان انتخابات کا سب سے منفی پہلو یہ ہے کہ ان میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو اس کی رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے انتخابی دوڑ سے باہر کر دیا گیا۔ جبکہ جماعت اسلامی پر عائد تمام پابندیاں روز اول ہی ہٹا دی گئیں۔ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا ان کے کنبے اور دیگر لیڈران پر جو مقدمات تھے، سب واپس لے لیے گئے۔ بدقسمتی سے انتخابی مہم کے دوران بی این پی کی بیمار رہنما بیگم خالدہ ضیا وفات پا گئیں۔ اور سترہ سال سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ان کے ساٹھ سالہ بیٹے طارق رحمان کا ڈھاکہ پہنچنے پر والہانہ استقبال ہوا۔ بیگم خالدہ کا جنازہ بھی ریکارڈ توڑ تھا۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اگلا پرائم منسٹر کون ہوگا۔ لیکن محمد یونس کے زیراثر سروے رپورٹس بتا رہی تھیں کہ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان کی قیادت میں قائم گیارہ جماعتی الائنس اور بی این پی کے چئر مین طارق رحمان کی قیادت میں قائم دس جماعتی الائنس میں مقابلہ نیک ٹو نیک ہوگا اور دونوں انیس بیس کے فرق سے جیتیں گے۔

ایسی صورت میں بادشاہگر کی حیثیت اسٹبلشمنٹ کو حاصل ہونا لازم تھی۔ یوں محمد یونس آئینی اصلاحات کے نام پر کروائے گئے ریفرنڈم کی مطابقت میں بندر بانٹ کر سکتے تھے۔ خود جماعت اسلامی اور اس کی زیراثر قائم احتجاجی طلبہ کی تنظیم نیشنل سٹیزن پارٹی جس کی قیادت ناہید اسلام کر رہے تھے، یہی امیدیں پالے بیٹھے تھے۔ لیکن انتخابی نتائج نے ان تمام انقلابی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ جماعت اسلامی کو شکست ہی نہیں ہوئی، احتجاجی طلبا کی نیشنل سٹیزن پارٹی محض چھ نشستیں حاصل کر پائی۔ خود اس کا لیڈر بڑی مشکل، محض دو ہزار کے مارجن سے جیتا۔

طارق رحمان کے ٹو تھرڈ میجارٹی سے پرائم منسٹر منتخب ہونے کے باوجود بنگلہ دیش کی جمہوریت کو اگلا چیلنج کیا درپیش ہے، اس کی بحث اگلے کالم میں۔