ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے خلاف سپریم کورٹ کی رولنگ

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے گزشتہ سال کے دوران متعدد ممالک پر عائد کیے گئے  ٹیرف کے خلاف اپیلوں میں فیصلہ سناتے ہوئے  ان محاصل وکو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ البتہ عدالتی فیصلہ میں یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ امریکی حکومت نے ’غیر قانونی‘ صدارتی احکامات کے تحت جو ٹیرف اب تک وصول کیے ہیں،  کیا انہیں واپس کیا جائے گا۔

متعدد امریکی درآمد کنندگان پہلے ہی اس سلسلہ میں عدالتوں میں پٹیشن دائر کرنے کی تیاری کررہے ہیں کہ اس سے حکومت نے ان سے جو غیر قانونی محاصل وصول کیے ہیں، انہیں واپس کیاجائے گا۔  دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی حکومت صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے   تقریباً 170 ارب ڈالر جمع  کرچکی ہے لیکن قیاس ہے کہ اصل رقم اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔   صدر ٹرمپ کی ٹیر ف پالیسی کے خلاف  امریکہ کی 12 ریاستوں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان ریاستوں کا مؤقف ہے کہ صدر کو ایسے ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں تھا اور ان اقدامات کا لوگوں کی معیشت پر منفی اثر مرتب ہؤا ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے آج بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے امریکہ کو ایک بار پھر عظیم  بنا دیا ہے۔

سپریم کورٹ  نے تین کے مقابلے میں  چھے ججوں کی اکثریت سے قرار دیا  کہ صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے  واضح کیاکہ ٹرمپ نے یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت لگائے جو صرف قومی ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص ہے۔ عدالت  کا کہنا ہے کہ ’انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ‘ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے وسیع تجارتی اقدامات کالعدم ہو گئے ہیں۔ خیال ہےیہ فیصلہ امریکی تجارتی پالیسی پر بڑے اثرات مرتب کرے گا ۔  ماہرین کے مطابق مستقبل میں صدر کے اختیارات کی حدود مزید واضح ہو جائیں گی۔ عام طور سے قیاس کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے صدر کے اختیارات کی واضح حدود مقرر کی گئی ہیں۔ اس لیے مستقبل قریب میں امریکی حکومت کے اقدامات اور تجارتی پالیسیوں پر اس کے اثرات دیکھنے میں آسکتے ہیں۔

تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سہ پہر وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو شرمناک، افسوسناک اور قومی مفاد کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض ججوں کے رویہ سے شرمندہ  ہیں۔  ٹرمپ کا کہناتھا کہ  ان سے یہ اختیار واپس لے کر درحقیقت سپریم کورٹ نے غیر ملکی مفادات کا تحفظ کیا ہے کیوں کہ ان محاصل کے ذریعے انہوں نے بعض ممالک کی  امریکی مفادات کے خلاف پالسیاں تبدیل کرائی ہیں۔  امریکی صدر نے اگرچہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا لیکن اس کے ساتھ ہی واضح  کیا کہ کسی کو بہت خوش ہونے کی ضرورت  نہیں ہے۔ ہمارے پاس ٹیرف نافذ کرنے کے دوسرے راستے موجود ہیں۔  یہ  راستے ذرا پیچیدہ ہیں لیکن اب ہم امریکہ کی آمدنی میں مزید اضافہ کریں گے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت نہیں کی لیکن بار بار اس عزم کا اعادہ کیا  کہ ٹیرف پالیسی ختم نہیں ہوگی اور وہ انہیں جاری رکھیں گے۔ بلکہ ایک قانونی شق کے تحت انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ تمام عالمی تجارت پر اب دس فیصد اضافی ٹیرف عائد ہوگااور وہ جلد ہی اس بارے میں حکم نامے پر  دستخط کریں گے۔

امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ ایک طرف ’غزہ پیس بورڈ‘ کے  ذریعے  مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسی کو  نئی شکل دے رہا ہے اور عالمی فورس قائم کرکے غزہ  میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کا اعلان  کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ایران کے خلاف بحری   قوت جمع  کرکے  اعلان کیا جارہا ہے کہ امریکہ کسی بھی وقت ایران کے خلاف جنگی کارروائی کرسکتا ہے۔   سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد یوں لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو بیرونی محاذ کے علاوہ  داخلی محاذ پر بھی شدید قانونی پریشانیوں کا سامنا ہوگا۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں دیکھنا ہوگا کہ وہ اس چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں۔  ابھی تک وہ اس  گمان میں تھے  کہ امریکی سپریم کورٹ میں قدامت ججوں کی اکثریت ہے اور وہ  ان کے ہر فیصلے کی توثیق کرتی  رہی ہے۔   ان ججوں میں سے تین کو تو صدر ٹرمپ نے خود اپنے سابقہ دور میں نامزد کیا تھا۔  تاہم اب انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت بعض اہم معاملات میں ان کے خلاف بھی حکم دے سکتی ہے۔ اس حوالے سے ٹیرف کے معاملہ پر  سپریم کورٹ کے واضح حکم نے امریکی حکومت کے لیے نئی مشکلات پیدا کی ہیں۔ اب  صدر کو یہ سوچ کر احکام جاری کرنا پڑیں گے کہ سپریم کورٹ کے  جج  انہیں مسترد بھی کرسکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس کانفرس میں  ڈونلڈ ٹرمپ غصے میں تھے اور اپنے  اختیار محدود کرنے کا فیصلہ کرنے والے ججوں کو بے نطق سنا رہے تھے۔ لیکن اس طرح کے غصہ  سے شاہد وہ  سپریم کورٹ کے ججوں پر اثر انداز نہیں ہوسکیں گے۔  اور   بظاہر سپریم کورٹ کے فیصلے پر کندھے اچکانے اور اسے غیر مؤثر کرنے کا عزم ظاہر کرنے کے باوجود،انہیں سوچنا پڑے گا کہ سپریم کورٹ کے عتاب سے بچ کر وہ کیسے من مانی کرنے کا راستہ تلاش کریں۔  ٹیرف کے سوال پر وہ کانگرس سے رجوع کرسکتے ہیں جہاں ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ البتہ یہ راستہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج کے مطابق نہیں ہے جو خود ہی ہر قسم کی طاقت کا محور بننا چاہتے  ہیں۔ دوسرے سیاسی عمل کے دوران   ری پبلیکن پارٹی کو تمام ارکان کی حمایت حاصل کرنے یا ڈیموکرٹیک پارٹی کا ووٹ لینے کے  لیے سیاسی  سودے بازی کرنا پڑے گی۔ ٹرمپ ایسے طریقوں  سے مطمئن نہیں ہوتے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے غیر متوقع اور اچانک تھا۔ وہ اس سپریم کورٹ سے اپنے خلاف اتنے سخت اور دو ٹوک حکم کی توقع نہیں کررہے تھے۔  اس فیصلہ کی ٹائمنگ کے لحاظ سے امید کرنی چاہئے کہ ایران کے ساتھ معاملات جیسا اہم فیصلہ کرتے ہوئے، ان کا غصہ انہیں کسی جوشیلے اور غلط فیصلہ  کرنے کی طرف نہیں لے جائے گا۔ ایسا کوئی فیصلہ امریکہ  کے مفادات کے علاوہ دنیا بھر کے امن کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔