ڈاکٹر نجیب جمال اور نصف صدی کا قصہ

یونیورسٹی دور کے کلاس فیلو نے جب مجھے خبر دی کہ استادِ گرامی ڈاکٹر نجیب الدین جمال کی تدریسی زندگی کو پچاس سال یعنی نصف صدی ہو چکی ہے اور یہ کسی استاد کے لئے ایک بہت فخر کی بات ہے۔ تو مجھے یکدم خیال آیا کہ اُن پر لکھنے کے لئے تو میرے پاس بہت سا مواد ہے، بہت سی یادیں ہیں اور بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا تذکرہ ہو تو دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔

 سو یہ کالم آج اسی سرشاری میں لکھا جا  رہا ہے۔یہ1978کی بات ہے، جب میں نے بی اے کا امتحان پاس کیا تو ایم اے اردو بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اساتذہ میں ڈاکٹر اے بی اشرف،ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر عبدالرؤف شیخ، میڈم قیصرہ خانم اور ایک خوبصورت نوجوان ڈاکٹر نجیب مال تھے۔یہ میرا اُن سے پہلا تعارف اور پہلا رابطہ تھا۔ پھر اُس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب میری کلاس فیلو لڑکیاں کہنے لگیں آپ اور ڈاکٹر نجیب الدین جمال  دونوں جڑواں بھائی لگتے ہیں کیونکہ صورتیں بہت ملتی ہیں۔ باتیں چلتے چلتے ڈاکٹر نجیب الدین جمال تک پہنچیں تو ایک دن انہوں نے کلاس میں وضاحت کی۔ نسیم شاہد میرا جڑواں بھائی کیسے ہو سکتا ہے، وہ تو مجھ سے پانچ سال چھوٹا ہے۔ اس پر ایک کلاس فیلو شاہ دین جوئیہ نے کہا سر پانچ سال چھوٹے تو آپ ہیں، نسیم شاہد کے جڑواں لگتے ہیں۔

ڈاکٹر نجیب الدین جمال واقعی ان دنوں جوانِ رعنا تھا یہ اور بات ہے کہ اُن کی شخصیت آج بھی رعنائی کی ہر خوبی سے متصف ہے۔1952میں ملتان اُن کی پیدائش کا شہر بنا اور آج تک اُن کی زندگی و شخصیت کا بڑا حوالہ یہی ہے۔ 1974 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعد وہ1976 میں شعبہ اردو بہاالدین زکریا یونیورسٹی سے بطور لیکچرار وابستہ ہو گئے۔استاد کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے پھر کسی اور کیریئر کی طرف نہیں دیکھا آج2026 میں بھی وہ ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھا رہے ہیں۔ یوں گویا انہیں اب نصف صدی ہو گئی ہے، اس علم کا نور بانٹتے۔ بلاشبہ ہزاروں شاگرد اُن کی چوکٹھ علمی سے فیض یاب ہو کر آج زندگی کے مختلف میدانوں میں موجودہیں۔ اس پچاس برس کے عرصے میں ڈاکٹر نجیب الدین جمال  نے اپنی شخصیت کے کسی رنگ کو بھی ماند نہیں پڑنے دیا۔ وہی خوش مزاجی، شاگردوں سے محبت اور دوستی، وہی ادب پڑھانے کا مختلف انداز، وہی اردو ادب پر  بے پناہ دسترس، وہی محقق اور نقاد کی حیثیت سے اپنی قابلیت و مہارت، وہی ملنساری و عاجزی کا مزاج، غرض ہر معاملے میں انہوں نے اپنی ایک گہری چھاپ اس معاشرے اور اپنے شاگردوں پر چھوڑی ہے۔

انہوں نے1989 میں بہا الدین زکریا یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کی،وہ باقاعدہ ڈاکٹر بن گئے۔ اُن کا علمی اور تدریسی قد کاٹھ مزید بڑھ گیا۔ ہمیں وہ1978میں اردو شاعری پڑھاتے تھے، کیا خوبصورت اور دلنشیں انداز تھا جب اُن کی کلاس ہوتی تو کوئی ایک کلاس فیلو لڑکی یا لڑکا غیر حاضر نہ ہوتا۔ میر تقی میر کے72 نشتر جیسے انہوں نے پڑھائے، اُن کی کسک اور چبھن ابھی تک دِل کے اندر محسوس ہوتی ہے۔طالب علمی کے دوران اور اس کے بعد بھی کرکٹ کے بہت شاندار کھلاڑی رہے۔ تاہم جب انہوں نے ادب کو اوڑھنا بچھونا بنایا تو اس کی معراج کو چھونے کا جنون اُن کی زندگی کا محور بن گیا، پھر وہ منزلیں مارتے چلے گئے۔اُن کی پی ایچ ڈی کا موضوع ”مرزا یاس یگانہ چنگیزی، حیات و فن“ ہے۔ یہ ایک ایسا مقالا ہے جس نے تحقیق کے اعلیٰ معیار پر مہر تصدیق ثبت کی۔ اب بھی یہ اس موضوع پر ایک واحد مستند حوالہ ہے۔ ڈاکٹر نجیب الدین جمال  نے1976 میں شعبہ اردو بہا الدین زکریا یونیورسٹی  ملتان سے تدریسی زندگی کے جس سفر کا آغاز کیا تھا وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، پیکنگ یونیورسٹی چین، الاظہر یونیورسٹی قاہرہ مصر، عین شمس یونیورسٹی قاہرہ اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور تک پہنچ چکا  ہے۔ وہ ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اردو میں پروفیسر کے فرائض ادا کر رہے ہیں ۔انہیں 2016 میں صدارتی تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔انہیں اردو زبان و ادب میں اعلیٰ خدمات پر استنبول یونیورسٹی ترکی نے اپنی سو سالہ اردو زبان کی تقریبات کے موقع پر جو ترکی میں اردو زبان کی تدریسی کے حوالے سے منعقد کی گئیں،لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا۔

 ان کی کتاب”یگانہ“ کو یو بی ایل لٹریری ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ لیکچرار سے پروفیسر اور پھر ڈین تک کی ذمہ داریاں سنبھالنے تک ڈاکٹر نجیب الرحمن جمال نے درس و تدریس کا سلسلہ کبھی نہیں چھوڑا۔ انتظامی ذمہ داریاں بھی انہیں کلاس، ڈائس اور طلبہ سے دور نہ رکھ سکیں۔ اساتذہ کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ طلبہ کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر نجیب الدین جمال کے بارے میں یہ بات بالیقین کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے شخصی متانت، عاجزی و انکساری، علمی توقع اور اعلیٰ انسانی اقدار کے حوالے سے اپنے طلبہ پر ہمیشہ گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔ اُن کی نصف سنچری پر محیط بطور ایک استاد زندگی عظمت، احترام اور فہم و ادراک کی ایک ایسی دلآویز داستان ہے کہ جس کی ہر پرت اعلیٰ انسانی و علمی اقدار کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔

اس وقت اردو ادب کے منظر نامے پر بھی ڈاکٹر نجیب الدین جمال جیسی غیر متنازعہ اور قابل قبول شخصیت کوئی نہیں۔اس وقت پاکستان میں ادب کا میدان مختلف گروپوں ،گروہوں اور تنازعات میں بٹا ہوا ہے ۔تاہم ڈاکٹر نجیب الدین جمال  وہ شخصیت ہیں جو ہر جگہ قابل قبول سمجھے جاتے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان میں ایک صاف ستھری کھری تنقید کی بنیاد رکھی ہے۔وہ تخلیق کو اُس کے معیارات پر پرکھتے ہیں۔ وہ تنقید میں اُس روایتی ڈنڈی مارنے کے قائل نہیں جو اپنے ممدوح کے حق اور مخالف کے خلاف ماری جاتی ہے۔وہ نظریاتی طور پر کسی ابہام کا شکار نہیں جو حالات کا تناظر اور جو تاریکی کی آگہی ہے۔ وہ اس سے مدد لے کر اپنی رائے دیتے ہیں۔انہیں بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے وہ بات کر رہے ہوں یا لکھ رہے ہوں، اُن کے نقطہ نظر، اُن کی سوچ سے بغاوت نہیں کرتے۔

اُن کا دل لاہور میں رہ کر بھی اپنے ملتان میں اٹکا رہتا ہے۔ان کا آبائی گھر آج بھی ملتان میں ہے۔ڈاکٹر نجیب جمال کی پچاس سالہ تدریسی زندگی کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے۔ اب دیکھتے ہیں جشن ِ نجیب جمال لاہور میں ہوتا ہے یا ملتان میں یا پھر بہاولپور میں، جہاں وہ اسلامیہ یونیورسٹی میں علم کے چراغ جلاتے رہے۔ ایسی ادبی و علمی شخصیات اس وقت قومی منظر نامے پر کم ہیں۔ڈاکٹر نجیب جمال کا معاشرے پر قرض ہے اور اسے زندہ معاشرے کی طرح اتارنے کی ضرورت  ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)