امریکہ ، ایران میں کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 21 / فروری / 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلسل یہ اشارے دیے جارہے ہیں کہ امریکہ کسی بھی وقت ایران پر محدود حملہ کرسکتا ہے۔ جمعرات کو واشنگٹن میں غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ’ڈیل‘ کرنے کے لیے10 دن کی مہلت دی تھی۔ البتہ کل شام صدارتی اختیار کے غیر قانونی استعمال کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر تبصرہ کے لیے منعقد پریس کانفرنس میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ایران پر محدود حملہ پر غور کررہے ہیں۔
دریں حالات یہ تو واضح طور سے کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران پر کوئی حملہ اسی صورت میں ’محدود‘ ہوگا اگر یہ ایرانی حکام کی ملی بھگت سے کیا جائے۔ یعنی امریکہ حملہ کرلے اور ایران بھی رسمی طور سے میزائل چلاکر جوابی کارروائی کا دعویٰ کرے۔ یوں دونوں کی فیس سیونگ بھی ہوجائے اور مشرق وسطیٰ میں ایک بہت سنگین بحران بھی ٹل جائے۔ تاہم ریجن میں امریکی فوجی قوت کے اجتماع اور ایران کے ساتھ تصادم کی موجودہ صورت حال میں ایسی ’نورا کشتی‘ کا امکان کم ہے۔ گزشتہ سال جون میں بھی امریکی بمباروں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا تاہم اس کے بعد ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر میزائل پھینکے اور حساب برابر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ البتہ شواہد اور امریکہ کے رد عمل سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں تھا کہ یہ جوابی حملہ کسی ’انڈر اسٹینڈنگ‘ کی بنیاد پر کیا گیا تھا جس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف حملے بند کردیے گئے اور معاملات بیان بازی تک محدود ہوگئے۔
تاہم جون کے تصادم کے بعد عمان میں شروع ہونے والے مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ درحقیقت ٹرمپ کی حکومت ایران سے 2015 کے ایٹمی معاہدے میں حاصل کی گئی سہولتوں یا رعائیتوں سے زیادہ کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ امریکہ کے علاوہ دیگر پانچ بڑی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے اس ایٹمی معاہدے میں ایران اپنے جوہری پروگرام پر قدغن پر راضی ہوگیا تھا اور ایران میں یورینیم افزودگی کے کنٹرول کا مکینزم بھی تیار کرلیا گیا تھا۔ البتہ ٹرمپ نے 2016 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس معاہدے کو ماننے سے انکار کردیا اور ایران کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا ۔اور مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ لیکن ان تمام ہتھکنڈوں سے ایران کو کسی حسب خواہش معاہدے پر آمادہ نہیں کیا جاسکا۔ درحقیقت صدر ٹرمپ کے ایران کے بارے میں عزائم غیر واضح اور مبہم ہیں۔ بظاہر ان کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے ۔ وہ ایک بڑی طاقت کے نمائندے کے طور پر ایران کو دھمکیوں کے ذریعے زیر کرنا چاہتے ہیں یا پھر ان کی خواہش ہوگی کی تہران میں موجودہ رجیم تبدیل کردی جائے۔ البتہ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں قائم اس حکومت کو گرانے کی صورت میں امریکہ کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔
اسرائیل نے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی دوئم کی صورت میں ایک ’متبادل ‘ تلاش کیا ہے اور انہوں نے دسمبر میں شروع ہونے والے احتجاج کے بعد سے اسرائیلی ایجنسی موساد کے تعاون سے سوشل میڈیا پر ایسی مہم چلائی ہے جس سے بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ ایرانی عوام ان کی صورت میں ایک نجات دہندہ کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایرانی عوام ابھی تک ان کے والد محمد رضا پہلوی کے دور میں کیے گئے مظالم کو نہیں بھولے ہیں۔ اس ولی عہد نے گزشتہ نصف صدی میں ایک بار بھی اپنے ’وطن‘ کا دورہ نہیں کیا۔ وہ امریکہ میں ہی رہے۔ انہیں اسرائیلی حمایت کے علاوہ شاہ کے زمانے میں مفادات اٹھانے والے ان مٹھی بھر لوگوں کی تائد ضرور حاصل ہوسکتی ہے جو شاہ کی جلاوطنی کے بعد بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے۔ اور کسی بھی مرحلے پر ایک بار پھر استحصال کرنے کے لیے ایران واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔
دسمبر و جنوری کے دوران مشکل معاشی حالات کے خلاف ایران میں ملک گیر احتجاج ہؤا تھا۔ اس احتجاج کو موجودہ حکومت نے ظالمانہ سخت کارروائی سے دبا دیا۔ امریکہ ان مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد تیس ہزار بتاتا ہے لیکن ایران اسے مسترد کرتا ہے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے احتجاج کرنے والوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈٹے رہیں، امداد پہنچنے والی ہے۔ اس وقت بھی واضح نہیں تھا کہ امریکی صدر کا کیا مقصد ہے۔ البتہ اس کا یہ نتیجہ ضرور نکلا کہ ایرانی حکومت کے لیےمظاہرین کو دشمن کے ایجنٹ قرار دینا آسان ہوگیا ۔جیسے کہ اسرائیل ایرانی عوام کی برہمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنے ہرکارے بھیج کر مشکل میں اضافہ کرتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان مظاہروں کا زور ٹوٹ گیا اور امریکی امداد یا حملہ بھی نہیں ہؤا۔ اس کے چند ماہ بعد ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کو عذر بنا کر گلف میں بحری بیڑا جمع کرنا شروع کردیا اور دعویٰ کیا جانے لگا کہ اچانک اور بہت سخت حملہ کیا جائے گا۔ البتہ پہلے عمان میں اور گزشتہ ہفتے کے دوران جینوا میں امریکہ و ایران کے مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کے بارے میں ایران کا دعویٰ ہے کہ کامیاب رہے ہیں اور جلد ہی معاہدے کا مسودہ تیار ہوجائے گا۔ لیکن اسی کے ساتھ صدر ٹرمپ نے الٹی میٹم دینے اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ایران کو کسی بھی طرح دباؤ میں لاکر من مانی شرائط منوانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ البتہ ایران ایٹمی پروگرام پر پابندیا ں قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس نے اپنے میزائل پروگرام کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا ہے۔ امریکہ نے اس سوال پر ابھی تک اپنی پوزیشن واضح نہیں کی ۔ اگرچہ میزائل پروگرام محدود کرنے اور پراکسی گروہوں کی مدد بند کرنے کے اشارے دیے گئے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دو بار واشنگٹن کا دورہ کیا ہے۔ وہ امریکہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ کسی بھی طرح ایران کا میزائل پرگرام بند کرایا جائے ورنہ حملہ کیا جائے۔ ٹرمپ شاید اس اسرئیلی مؤقف سے پوری طرح متفق نہیں ہیں۔ اسی طرح وہ ولی عہد رضا پہلوی دوئم کو موجودہ رجیم کا متبادل ماننے پر بھی آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ ان حالات میں بظاہر فوجی طاقت کا رعب دکھا کر ایران سے رعائتیں حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایران تمام امریکی شرائط نہیں مانتا تو امریکہ کیاکرے گا۔
امریکہ کے قریب ترین عرب ممالک بھی ایران پر امریکی حملے کے خلاف ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے حملہ کی صورت میں اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ امریکہ تہران میں حکومت تبدیل کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر امریکہ و اسرائیل کے پاس ایسا امکان ہوتا تو شاید جون کی جنگ کے دوران آیت اللہ خامنہ ای کو ہلاک کرکے یہ مقصد حاصل کر لیا جاتا۔ یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ اگر کسی حملے میں آیت اللہ اور دوسری سول قیادت مار دی جاتی ہے تو پاسبان کے سخت گیر فوجی جرنیلوں کو مکمل اختیار اور اقتدار حاصل ہوجائے گا جو ایرانی عوام اور امریکہ کے لیےموجودہ حکومتی انتظام سے بھی بھی بدتر ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکہ کسی غلط اندازے یاطاقت کے جوش میں اچانک حملہ تو کرسکتا ہے لیکن شاید وہ اس کے نتائج کا سامنا کرنے کے قابل نہ ہو۔ ایرانی عوام بدترین حکومت کے مقابلے میں بھی ایک بیرونی طاقت کی دخل اندازی کی حمایت نہیں کریں گے۔ امریکی حملہ مشرق وسطیٰ میں شدید ہیجان اور بے یقینی پیدا کرے گا اور بدترین حالت میں یہ تنازعہ کئی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے جس ملک میں بھی حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، وہاں بدامنی، بحران اور انتشار ہی پیدا ہؤا۔ عراق، شام اور لیبیا اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ایران پر حملہ بھی اس سے مختلف نتائج کا حامل نہیں ہوگا۔