افغانستان پر حملوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا!

گزشتہ رات افغانستان پر   پاکستان  کےفضائی حملوں میں  80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ  افغانستان میں تحریک طالبان کے دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر   ان لوگوں کو ہلاک کیا گیا ہے جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث  تھے۔ البتہ کابل حکومت نے اسے اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مناسب وقت پر جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

افغانستان کے ذرائع حسب سابق یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ ان حملوں میں متعدد شہری اور بچے ہلاک ہوئے اور رہائشی علاقوں   کو نقصان پہنچا۔  تاہم پاکستان کا دعویٰ ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ ان حملوں میں شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا تاہم کولیٹرل ڈیمیج  سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان  نے یہ کارروائی پاکستان میں تسلسل سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد کی ہے۔ گزشتہ روز ہی ایک فوجی قافلہ پر حملہ میں ایک کرنل سمیت متعدد فوجی شہید ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے بھی ایک  فوجی چوکی پر خود کش حملہ کیا گیا  تھا  اور حال ہی میں اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ  پر بھی خود کش حملہ ہؤا تھا جس   میں  افغانستان سے   متحرک گروہ  ہی ملوث  بتائے  گئے تھے۔

ملک میں لگاتار دہشت گردی اور بات بار تاکید کے باوجود کابل میں طالبان حکومت کی ناکامی کے سبب یہ توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان سخت کارروائی کرے گا۔   چند روز  قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا   تھا کہ پاکستان ، افغانستان کے علاقوں  میں فضائی حملوں سے گریز نہیں کرے گا۔ گزشتہ رات ہونے والے حملے اس بیان کی روشنی میں درست رد عمل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ پاکستانی ذرائع و  مبصرین یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ  طالبان حکومت کو براہ راست وارننگ ہے۔ اب بھی اگر انہوں نے مسلح گروہوں کو پاکستان میں دہشت  گردی سے باز رکھنے کے لئے مؤثر کارروائی نہیں کی تو مستقبل میں پاکستان کا ردعمل زیادہ سنگین ہوگا۔

پاکستان گزشتہ نومبر میں بھی متعدد افغان علاقوں میں فضائی کارروائی کرچکا ہے تاہم اس وقت اس کا اعلان کابل سے ہؤا تھا  اور اسلام آباد پر غیر قانونی حملے کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ البتہ پاکستان نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا  تھا۔ ان  مبینہ حملوں کے بعد  پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں جن میں دونوں طرف سے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے  کے دعوے کیے گئے تھے۔  یہ جھڑپیں افغانستان کے ساتھ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے نتیجہ میں بند ہوگئی تھیں ۔ قطر اور ترکیہ کے تعاون سے ہونے والی  یہ بات چیت بعد میں استنبول میں جاری رہی لیکن مسائل کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے اور کابل کی اپنے ملوث ہونے تردید  کرتا رہا۔ کابل کا دعویٰ رہا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اسے خود ہی اسے حل کرنا ہوگا۔ جبکہ پاکستان کا  کہناہے  کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ بھارتی امداد و تعاون سے خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں سرگرم ہیں اور دہشت گرد کارروائیوں میں شہری آبادیوں اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کابل کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے اور ایسے ناپسندیدہ گروہوں  کی روک تھام کے قابل تصدیق اقدام کرنے چاہئیں۔

کابل  میں حکمران طالبان ،پاکستان کے ساتھ  مراسم اور  ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ساتھ تعلقات کے سوال پر گہری تقسیم کا  شکار ہیں۔ خبروں کے مطابق  حکمران طالبان ٹولے میں بعض لوگ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ  باہمی تعاون سے یہ مسئلہ حل کرلیا جائے۔ تاہم  طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں نام نہاد قندھاری گروہ  انتہا پسندانہ طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اس کے خیال میں پاکستانی  طالبان کی جد و جہد جائز ہے کیوں کہ وہ شرعی حکومت کے قیام کی کوشش کررہے ہیں۔ اس نظریاتی  تائید کی وجہ سے  افغانستان  میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے عناصر کو کھل کھیلنے اور سرکاری سرپرستی میں منظم ہونے اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیاں کرنے کی آزادی حاصل  ہورہی ہے۔

ان حالات میں پاکستان شدید مشکل  کا شکار ہے۔ وہ افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا  لیکن اس  کے ساتھ ہی پاکستان کے لیے اپنے ملک میں بدامنی کی صورت حال اور تسلسل سے دہشت گرد حملوں کو قبول کرنا بھی  ممکن  نہیں ہے۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان کو  سیاسی طور سے تقسیم شدہ رائے عامہ کا بھی سامنا ہے۔  تحریک انصاف اور خیبر پختون خوا میں اس کی حکومت  افغانستان  کو مکمل سیاسی و سفارتی حمایت فراہم کرتی ہے  اور دہشت گردوں کے خلاف عسکری کارروائی کے خلاف ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس سے شہری آبادیاں متاثر ہوتی ہیں، اس لیے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کا کوئی حل نکالا جائے۔ تاہم پاکستان نے  اس سلسلہ میں جو بھی کوششیں کی وہ بارآور نہیں ہوئیں لیکن تحریک انصاف بہر حال اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹی۔ اس  سیاسی تقسیم کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی جیسے سنگین معاملہ پر بھی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ اس سے حکومت پاکستان کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے اور کابل میں موجود فیصلہ سازوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

تاہم اب پاکستان نے اعلان کرکے  افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا اقدام کیا ہے۔ اگرچہ پاکستانی حکام کو  امید ہوگی کہ یہ وارننگ طالبان کو  ہوش کے ناخن لینے پر آمادہ کرے گی۔ تاہم گزشتہ چالیس سال کے دوران طالبان  کے طرز عمل کو دیکھنے اور ان کی سخت گیر اور  انتہاپسندانہ کارروائیوں پر نظر رکھتے ہوئے، یہ قیاس کرلینا مشکل ہے کہ ایک فضائی حملہ کے بعد پاکستان، افغانستان کی حکومت یا وہاں سے متحرک دہشت گرد گروہوں کے حوصلے پست کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ ان عناصر کے لیے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ کسی عالمی اصول یا اخلاقی و سفارتی ضابطے کو نہیں مانتے۔

پاکستان نے طویل عرصہ تک امریکہ کی شدید مخالفت کے باوجود افغان طالبان کی مدد کی اور پاکستان ہی کے تعاون کی وجہ سے طالبان دوحہ میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے اور امریکی فوج سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے  تھے۔ دوسری طرف  یہ حقیقت  بھی پاکستان کے  علم میں ہونی چاہیے کہ  امریکہ اور اتحادیوں نے دو دہائی تک کابل میں جنگی کارروائی کی،   اربوں ڈالر کی مالیت سے لاکھوں افراد پر مشتمل افغان فوج منظم کی اور ایک نام نہاد جمہوری نظام  بھی متعارف کرایا لیکن وہ اپنے تمام وسائل اور عسکری برتری کے باوجود طالبان کو مکمل طور سے شکست نہیں دے سکے۔ طالبان  گوریلا جنگ جوئی کے عادی ہیں اور ان کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی قدر  و قیمت نہیں ہے۔ اسی لیے نہ تو وہ دشمن کے شہریوں کو نشانہ بنانے سے چوکتے ہیں  اور نہ ہی  اپنے شہریوں کی  ہلاکت پر انہیں کوئی ملال ہوتا ہے۔

اس پس منظر میں اٖفغانستان پر چند فضائی حملے کسی پائدار حل کا اشارہ نہیں ہوسکتے۔ پاکستان  کو اس مسئلہ سے  نمٹنے کے  لیے کسی دوررس اور پائدار حکمت عملی پر کام کرنا ہوگا۔  اس مقصد کے لیے سب سے پہلے ملک کے اندر وسیع سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ داخلی عدم اتفاق اور انتشار کی صورت حال میں دشمن سے کوئی جنگ جیتنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس مسئلہ کا دوسرا حل افغانستان کی پشتون آبادی کو طالبان کے علاوہ کوئی متبادل  فراہم کرنا  ہوسکتا ہے۔  اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں لگ بھگ 45  ملین پشتون آباد ہیں جبکہ افغانستان میں ان کی آبادی 20 ملین کے قریب ہے۔ یہ سب لوگ پاکستان کے ساتھ  ملنے والے سرحدی علاقوں  میں آباد ہیں اور پاکستانی پشتونوں سے ان کے  قبائیلی اور خاندانی تعلقات  ہیں۔

افغانستان،  پاکستان کے ساتھ  سرحدی تقسیم کو نہیں مانتا اور اس کے  وسیع علاقوں  پر اپنی حاکمیت کا دعویدار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان درحقیقت کو ئی بین الاقوامی سرحد موجود نہیں ہے۔ اس  کمزوری سے فائدہ اٹھاکر پاکستان ، افغانستان میں آباد پشتونوں کو متبادل حکومت کی پیش کش کرکے  انہیں ساتھ ملا سکتا ہے۔ اگرچہ اس مقصد کے لیے نہایت ہوشیاری سے  ایسی منصوبہ بندی کرنا ہوگی جس میں پشتون آبادی کو اپنا مستقبل محفوظ دکھائی دے اور وہ  طالبان جیسی جابر قوت سے نجات بھی حاصل کرسکیں۔ البتہ طالبان کی  جڑیں  بھی پشتونوں ہی میں پیوست  ہیں۔  اس لیے پشتون یک جہتی کو پاکستان کے فائدے میں استعمال کرنے کے لیے   کسی ایسے سیاسی منصوبے کی ضرورت ہوگی جو پشتونوں کو زیادہ خود مختاری،   فیصلوں میں حصہ داری اور  اپنے علاقوں میں فیصلے کرنے کا اختیار دے۔ اس طرح کا کوئی حل پاکستانی سرحدوں کو محفوظ بنا سکتا ہے اور  افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی خوش اسلوبی سے حل ہوسکتا ہے۔ پاکستان اس وقت جن  افغانوں کو ملک سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے، ان کی اکثریت  پشتونوں پر ہی مشتمل ہے۔

اسلام آباد اگر ایسے کسی  انقلابی اور دور رس منصوبے پر عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے طالبان سے دشمنی بڑھانے کی بجائے، مفاہمت کے کسی فارمولے پر اتفاق کرلینا چاہئے۔ یہ فارمولا  دوست ممالک کے تعاون سے طے کیا جاسکتا ہے۔