ہمیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا علم ہے: صدر زرداری

  • سوموار 23 / فروری / 2026

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ شدت پسند کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں اور اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر بچ نہیں پائیں گے۔

صدر زرداری کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری میڈیا پی ٹی وی کے مطابق صدر زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں اپنے عوام کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی سے بچانے کے بنیادی حق کی عکاسی کرتی ہیں۔ افغان حکام مسلسل رابطوں کے باوجود ان عناصر کے خلاف قابل اعتبار اور قابل تصدیق اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائیوں کو سرحدی علاقوں کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رکھا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والے، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔ اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر بچ نہیں پائیں گے۔

صدر زرداری نے اپنے آٹھ فروری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروہوں کو قومی سرحدوں سے باہر جگہ، سہولت یا استثنا دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

پاکستان کے صدر نے الزام عائد کیا کہ کابل میں قائم حکومت جسے اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا ہے، مسلسل دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے جو دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ دوحہ معاہدے میں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ سے پاکستان کے اس موقف کی توثیق ہوتی ہے۔ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ان تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔