جرات، مزاحمت اور عوامی وقار کی علامت ممتا بنرجی
- تحریر فہیم اختر
- سوموار 23 / فروری / 2026
خواتین کا عالمی دن اتوار 8 مارچ 2026 کو منایا جائے گا۔یہ دن 1975 میں اقوامِ متحدہ کے ذریعے باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا، تاہم اس کی تاریخ اس سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ درحقیقت، خواتین کا عالمی دن بیسویں صدی کے اوائل ہی سے منایا جا رہا ہے۔ایک ایسا دور جب خواتین مساوی حقوق، سماجی انصاف اور آزادی کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہی تھیں۔
آج کی دنیا ان بے شمار باہمت خواتین کی قربانیوں اور جدوجہد کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے صنفی مساوات کے لیے آواز بلند کی اور عملی میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس کے باوجود، دنیا بھر میں خواتین کو منانے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان میں سرمایہ کاری کی ضرورت بدستورموجودہے۔خصوصاً اس تناظر میں کہ آج بھی لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم ہیں اور صنفی بنیاد پر تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔اسی پس منظر میں، اس کالم کے ذریعے ہم عالمی یومِ خواتین کے موقع پر ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ، ممتا بنرجی، کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ایک ایسی قائدکے طور پر جنہوں نے سیاست، جمہوری اقدار اور عوامی خدمت کے میدان میں خواتین کی قیادت کو مضبوط آواز دی اور ثابت کیا کہ عزم، استقلال اور دیانت کے ساتھ خواتین سماجی تبدیلی کی قیادت کر سکتی ہیں۔
ہندوستانی سیاست میں کچھ نام ایسے ہیں جو صرف عہدوں سے نہیں پہچانے جاتے، بلکہ اپنے مزاج، جرات اور مسلسل جدوجہد سے تاریخ میں جگہ بناتے ہیں۔ ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔ وہ ایک ایسی رہنما ہیں جن کی سیاست اقتدار کی آسائشوں سے نہیں، بلکہ سڑکوں کی خاک، عوامی احتجاج اور ادارہ جاتی مزاحمت سے تشکیل پاتی ہے۔ ممتا بنرجی کی سیاست کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ تنہا کھڑے ہونے سے نہیں گھبراتیں۔ چاہے مرکز کی طاقتور حکومت ہو یا مضبوط آئینی ادارے، ممتا بنرجی نے ہمیشہ سوال اٹھانے کا حوصلہ دکھایا۔ وہ اس روایت کو توڑتی ہیں جس میں ریاستی وزرائے اعلیٰ خاموشی سے ’اوپر‘سے آنے والے فیصلوں کو قبول کر لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست اطاعت نہیں، مکالمہ اور مزاحمت کا نام ہے۔
حالیہ برسوں میں، جب انتخابی عمل، وفاقیت اور ریاستی خودمختاری پر سوالات اٹھے، ممتا بنرجی نے صرف بیانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خود عدالت کے کٹہرے تک پہنچیں۔ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کا اس طرح براہ راست قانونی اور آئینی جنگ لڑنا غیر معمولی بات ہے۔ یہ قدم نہ صرف ان کی ذاتی ہمت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ عوامی مینڈیٹ محض ووٹوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی حفاظت بھی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ممتا بنرجی کی قیادت کا ایک اور اہم پہلو ان کا عوامی رشتہ ہے۔ وہ بنگال کی سیاست میں ’دور سے حکم دینے والی‘ لیڈر نہیں بلکہ زمین سے جڑی ہوئی رہنما کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی زبان سادہ، لہجہ براہِ راست اور انداز بے ساختہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اشرافیہ کی سیاست سے ہٹ کر عام آدمی کی نمائندہ بن کر ابھرتی ہیں،چاہے اس پر انہیں تنقید کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
خواتین قیادت کے تناظر میں بھی ممتا بنرجی ایک منفرد مثال ہیں۔ ایک ایسے سیاسی ماحول میں جہاں طاقت اور اختیار کو اکثر مردانہ غلبے سے جوڑا جاتا ہے، ممتا بنرجی نے ثابت کیا کہ جرات، استقامت اور فیصلہ سازی کسی جنس کی محتاج نہیں۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب وزیر اعلیٰ ہیں بلکہ ایک علامت بھی ہیں۔اس بات کی کہ عورت قیادت کرے تو انداز مختلف ہو سکتا ہے، مگر کمزور نہیں۔
یقیناً ممتا بنرجی پر تنقید بھی ہوتی ہے، اور ہونی بھی چاہیے،یہ جمہوریت کا حسن ہے۔ مگر ان کی نیت، ان کی جرات اور ان کی مزاحمت سے انکار ممکن نہیں۔ وہ سیاست کو محض اقتدار کا کھیل نہیں سمجھتیں، بلکہ اسے ایک مسلسل جدوجہد مانتی ہیں، جہاں ہر دن ریاست اور عوام کے حق میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ پورا معاملہ صرف ایس آئی آر۔ اسپیشل انٹینشیو ریویزن یا ووٹر لسٹ کی تکنیکی جانچ کا نہیں، بلکہ ہندوستانی وفاقیت، جمہوری اعتماد اور ریاستی خودمختاری کے امتحان کا بھی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی حالیہ سماعت میں جو کچھ سامنے آیا، اس نے واضح کر دیا کہ ریاست مغربی بنگال اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے درمیان محض اختلاف نہیں بلکہ گہری بداعتمادی موجود ہے اور یہی بداعتمادی اس پورے بحران کی جڑ ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ دعوؤں اور اعتراضات کے فیصلے کے لیے عدالتی افسران کو تعینات کیا جائے، دراصل ایک غیر معمولی قدم ہے۔ عدالت نے کھلے لفظوں میں تسلیم کیا کہ انتظامی ڈھانچے کے اندر انصاف کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے ہو چکے ہیں۔ جب عدالت کو یہ کہنا پڑے کہ ’ہمارے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا‘، تو یہ لمحہ محض عدالتی نہیں بلکہ سیاسی اور آئینی تشویش کا اعلان بھی ہوتا ہے۔لیکن اس پورے منظرنامے میں ایک شخصیت ایسی ہے جو دفاعی پوزیشن کے بجائے براہِ راست میدان میں اتری،وہ ہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ خود سپریم کورٹ میں پیش ہو، اور وہ بھی صرف سیاسی بیان بازی کے لیے نہیں بلکہ قانونی نکات کے ساتھ، آئینی سوالات اٹھاتے ہوئے۔ ممتا بنرجی نے واضح لفظوں میں کہا کہ بنگال کو ’نشانہ‘بنایا جا رہا ہے، اور ایس آئی آر کے نام پر شامل کرنے کے بجائے حذف کرنے کی مشق چل رہی ہے۔ یہ بیان محض جذباتی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی حقیقت کی نشاندہی تھی کہ انتخابی فہرستیں جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں، اور ان میں ذرا سی بے احتیاطی بھی عوامی اعتماد کو توڑ سکتی ہے۔ممتا بنرجی کی سب سے بڑی جرات یہ ہے کہ وہ اداروں کے سامنے جھکنے کے بجائے ان سے سوال کرتی ہیں۔ ہندوستانی سیاست میں شاذ و نادر ہی کوئی وزیر اعلیٰ ایسا نظر آتا ہے جو عدالت میں کھڑے ہو کر یہ کہنے کی ہمت رکھتا ہو کہ ایک آئینی ادارہ اپنی حد سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس لحاظ سے ممتا بنرجی صرف ایک سیاسی لیڈر نہیں رہتیں، بلکہ وہ ایک آئینی فریق بن کر سامنے آتی ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی ایس آئی آر کے عمل میں ’طریقہ کار کی بے ضابطگیوں‘ پر تشویش ظاہر کی تھی، اور شفافیت کے لیے متعدد ہدایات جاری کی تھیں۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ فیصلہ سازی صرف او ایس آر او/اے ای آر او کریں گے، اور دیگر عہدیدار صرف معاون ہوں گے یعنی خود عدالت بھی اس عمل میں مداخلت کے خدشات کو تسلیم کر رہی تھی۔ایسے ماحول میں ممتا بنرجی کا کردار محض دفاعی نہیں بلکہ علامتی بن جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کی شاید پہلی وزیر اعلیٰ کے طور پر ابھرتی ہیں جو عدالت میں اپنی ریاست کا مقدمہ خود لڑتی دکھائی دیتی ہیں۔وہ بھی پورے اعتماد، آئینی زبان اور سیاسی جرائت کے ساتھ۔ یہ قدم نہ صرف ان کی ذاتی ہمت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ وفاقی ڈھانچے میں ریاستیں اب خاموش تماشائی بننے کو تیار نہیں۔
2025 میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات ایک یادگار اور اثر چھوڑ جانے والا لمحہ تھا، جب وہ یونیورسٹی کی دعوت پر ایک لیکچر دینے آئی تھیں۔ اس موقع پر ان کی شخصیت میں غیر معمولی اعتماد، فکری پختگی اور بے خوف قیادت صاف جھلک رہی تھی۔وہ کسی رسمی پروٹوکول کی محتاج نظر نہیں آتی تھیں بلکہ ایک ایسی لیڈر کے طور پر سامنے آئیں جو اپنے مؤقف، اپنی جدوجہد اور اپنی عوامی سیاست پر پورا یقین رکھتی ہیں۔ جب میں نے انہیں اپنی کتابیں پیش کیں تو ان کا انداز نہ صرف شائستہ بلکہ حد درجہ پُراعتماد تھا، جیسے وہ سننے اور سمجھنے والی قیادت کی علامت ہوں۔ ان کی آنکھوں میں جھجک نہیں، لہجے میں لرزش نہیں اور موجودگی میں کوئی کمزوری محسوس نہیں ہوتی تھی—وہ ایک نڈر، باہمت اور نظریاتی رہنما کے طور پر سامنے تھیں، جو عالمی دانش گاہ میں بھی اسی وقار کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہیں جس وقار کے ساتھ وہ سیاسی میدان میں طاقتور اداروں کا سامنا کرتی آئی ہیں۔
آخرکار، ممتا بنرجی کی سیاست ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت صرف اداروں سے نہیں چلتی، بلکہ ان لوگوں سے چلتی ہے جو ان اداروں کے سامنے کھڑے ہو کر سوال پوچھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اور یہی ہمت انہیں ہندوستانی سیاست کی ایک مضبوط، بے خوف اور ناقابلِ نظرانداز آواز بناتی ہے۔آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مغربی بنگال کا یہ تنازعہ مستقبل کی سیاست کے لیے ایک نظیر بن سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایس آئی آر ہوگا یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت میں فیصلے اعتماد سے ہوں گے یا شبہ سے؟ اور اس سوال کے بیچ کھڑی ممتا بنرجی، ایک ایسی وزیر اعلیٰ کے طور پر نظر آتی ہیں جو طاقت کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔