مصالحت ضروری ہے لیکن متبادل کیا ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 23 / فروری / 2026
دو روز قبل افغانستان میں 7 مقامات پر دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان میں مسلسل یہ موضوع زیر بحث ہے کہ کیا موجودہ تنازعہ کسی مصالحتی فارمولے سے طے ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں عسکری و سیاسی حلقے افغانستان کے ساتھ طویل جنگ کے حامی نہیں ہیں۔ تاہم دریں حالات کوئی ایسی بنیاد بھی دکھائی نہیں دیتی جو کسی ایسے معاہدے کی وجہ بن سکے جس میں پاکستان بھی مطمئن ہو اور کابل حکومت بھی سرخرو ٹھہرے۔
اس کی بنیادی وجہ تو ہے کہ بظاہر مسلح گروہوں پرجن میں سر فہرست تحریک طالبان پاکستان ہے، افغان طالبان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ بعض ماہرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر طالبان حکومت چاہے بھی تو بھی ٹی ٹی پی پر قابو نہیں پاسکتی۔ البتہ اگر کابل اس معاملہ کو اسی زاویے سے دیکھنے پر آمادہ ہو جس سے پاکستان اسے دیکھتا ہے تو شاید اسلام آباد اور افغانستان کے درمیان مفاہمت کا کوئی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ البتہ اس حوالے سے ایک مشکل تو یہ ہے کہ اس صورت میں کابل حکومت کو ماننا پڑے گا کہ وہ دوحہ معاہدے پر عمل کرانے میں کامیاب نہیں ہوئی اور اس کی سرزمین بدستور مسلح جنگجو گروہوں کی پناہ گاہ ہے۔ نام نہاد افغان ’غیرت‘ شاید یہ تسلیم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی۔ البتہ اس صورت میں کابل اور اسلام آباد مل کر انتہاپسند مسلح گروہوں کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی بناسکتے ہیں ۔ اس طرح دوونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تنازعہ کھڑا نہیں ہوگا لیکن تشدد پر آمادہ گروہوں کو قابو کرنے میں تعاون کیا جائے گا۔
اس قسم کا کوئی معاہدہ ہونے کی صورت میں کابل حکومت کو انٹیلی جنس شئیرنگ کے علاوہ اپنے علاقوں میں موجود ایسے افراد اور عناصر سے سے نبرد آزما ہونا پڑے گا جو پاکستان میں کسی قسم کی تخریبی کاری میں ملوث ہوں۔ اس کے علاوہ پاکستان یہ بھی چاہے گا کہ کابل حکومت غیر ملکی ایجنسیوں کو افغانستان میں موجود مسلح گروہوں سے مواصلت اور تعاون کا موقع نہ دے۔ کابل کے لیے اس پہلو سے حالات کو کنٹرول کرنا عملی طور سے ٹی ٹی پی کو غیر مؤثریا غیر مسلح کرنے کے مقابلے میں آسان ہوگا۔ لیکن افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا کرکے متبادل کے طور پر نئی دہلی سے مراسم بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انڈیا بھی بڑھ چڑھ کر طالبان لیڈروں کا استقبال کرنے اور وہاں اثر و رسوخ بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔ کابل حکومت کو بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور کے پی کے اور بلوچستان میں تخریب کاری میں بھارتی ایجنسیوں کے کردار کے بارے میں اسلام آباد کے شہبات کا بخوبی اندازہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود طالبان حکومت پاکستان کی درخواستوں کو مسترد کرکے بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا رہی ہے۔ یہ طرز عمل دونوں ملکوں کے درمیان کسی مفاہمت و مصالحت کے راستے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہورہاہے۔
بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے مسلسل پاکستان کو کمزور کرنے اور وہاں تشدد میں اضافہ کے لیے وسائل اور صلاحتیں صرف کی ہیں۔ اس حوالے افغان سرزمین بھارتی ایجنسیوں کے لیے اہم ہے۔ وہ کابل حکومت کے ساتھ تعلقات وسیع کرتے ہوئے افغانستان میں پاکستان دشمن مسلح گروہوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کا کام آسانی سے انجام دے رہی ہیں۔ نئی دہلی پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی مواصلت میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا۔ مصالحت یا دوستی کے معاملات تو بہت بعد میں آتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نئی دہلی کے مفاد میں ہے۔ اس بارے میں بھی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ بھارت کابل کو پاکستان کے خلاف ’ڈٹ جانے کا مشورہ‘ دینے میں کوئی سفارتی کوشش رائیگاں نہیں جانے دے گا۔ اگرچہ بعض حلقے طالبان کی زیرکی اور سفارتی و سیاسی چابکدستی کی تعریف کرتے ہیں۔ خاص طور سے دوحہ میں امریکہ کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے طالبان کی ہوشیاری کی توصیف کی جاتی رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب طالبان تبدیل ہوچکے ہیں اور انہیں دنیا کے ملکوں سے بات کرنے اور معاملات طے کرنے کا سلیقہ آگیا ہے۔
اس رائے سے اتفاق کرنا البتہ بہت مشکل ہے۔ دوحہ میں افغان طالبان کی کامیابی بلکہ 2021 کابل پر چڑھائی اور وہاں قبضہ کے سلسلہ میں پاکستان کی مدد و سرپرستی کلیدی اہمیت کی حامل تھی۔ پاکستان کی سفارتی و اسٹریٹیجک مدد کے بغیر طالبان نہ دوحہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوتے اور نہ ہی کابل اتنی آسانی سے ان کے قبضے میں آتا ۔ حالانکہ امریکہ بیس سال جنگ کے بعد نڈھال اور بیزار ہوچکا تھا اور کسی بھی طرح افغانستان سے فوجیں نکالنا چاہتا تھا ۔تاہم اس مقصد کے لیے پاکستان نے ہی امریکہ اور طالبان کو تعاون کی بنیاد فراہم کی تھی۔ طالبان اپنے طور پر نہ تو امریکہ کو عسکری لحاظ سے نیچا دکھا سکتے تھے اور نہ ہی سفارتی پیش رفت میں کامیاب ہوتے۔ کابل میں عبوری حکومت قائم کرنے کے بعد طالبان نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ کسی ایک ملک کےساتھ بھی سفارتی تعلقات استوار نہیں کرسکے۔ انہوں نے معاہدے کے برعکس لڑکیوں کی تعلیم اور بنیادی حقوق کے سوال پر نہایت سنگدلی اور احمقانہ انتہاپسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس لیے بھارتی اثر و رسوخ کی موجودہ صورت حال میں کابل کے لیڈروں سے پاکستان کے حوالے سے کسی متوازن اور اعتدال پسندانہ طرز عمل کی امید عبث ہے۔
تاہم یہ اس گنجلک اور پیچیدہ معاملہ کا صرف ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا اور زیادہ سنگین پہلو افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کا نظریاتی تعلق ہے۔ موجودہ جنگ میں جب پاکستان جیسا طاقت ور ملک افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اقدام کرچکا ہے اور پاکستانی صدر آصف زرداری نے واضح کیا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے اور پناہ گاہیں کہاں ہیں اور انہیں نہیں چھوڑا جائے گا‘۔ اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردی کم نہ ہونے کی صورت میں پاکستان سخت کارروائیوں کی وارننگ دے رہا ہے۔ دوسری طرف کابل حکومت نے پاکستانی حملوں کو اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے مناسب وقت پر ان کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ طالبان کسی بھی قسم کی جنگ میں پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکتے لیکن ٹی ٹی پی جیسی پراکسیاں ا س کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے حکومت اور فوج کو زچ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس لیے اگر کابل جنگ پر آمادہ ہے تو وہ ٹی ٹی پی کو اثاثہ سمجھے گاا ور ان کی مزید حوصلہ افزائی کرے گا۔
یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ قندھار میں طالبان قیادت تحریک طالبان پاکستان کی جد و جہد کو عین اسلامی سمجھتے ہوئے ہر قیمت پر ان کی پشت پناہی کا ارادہ رکھتی ہے۔ یعنی پاکستانی حملوں سے قطع نظر وہ بہر صورت پاکستان میں دہشت گردی جاری رکھیں گے اور یہ بیل کسی طرح منڈھے نہیں چڑھے گی۔ پاکستان کی سیاسی صورت حال اور ایک طاقت ور سیاسی لابی کی طرف سے پاکستانی افواج کے مقابلے میں طالبان کی حمایت کی صورت حال بھی کابل حکومت اور قندھار کے لیڈروں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کے پاس مذاکرات یا مصالحت کے زیادہ آپشن موجود نہیں ہیں۔
پاکستان اگر طے کرچکا ہے کہ ملک میں دہشت گردی ختم کرنے کے لیے افغانستان میں عسکری جتھوں کو کنٹرول کرنا ضروری ہے تو اسے ایک باقاعدہ عسکری حکمت عملی کے تحت تسلسل سے سخت فوجی کارروائی کرنی چاہئے۔ اس جنگ کو کسی نتیجہ تک پہنچانے کے مقصد سے لڑا جائے تاکہ کابل حکومت کو علم ہوسکے کہ وہ کسی کمزور اور بے یقینی کا شکار فوج و حکومت کے خلاف سرگرم نہیں ہیں۔ اب افغانستان میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے علاوہ طالبان کی عسکری قوت بھی پاکستان کا جائز نشانہ ہونی چاہئے۔ طاقت کےواضح اور سخت مظاہرے کے بغیر افغانستان کو ہوش کے ناخن لینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔