بنگلا دیش۔ ۔ خون کے دھبے دھلنے کے امکانات
- تحریر عثمان قاضی
- منگل 24 / فروری / 2026
بنگلادیش میں ”عرب بہار“ طرز کے عوامی ابھار، شیخ حسینہ کی حکومت کو اسے جبر سے کچلنے کی کوشش میں ناکامی اور پھر موصوفہ کے ملک کے فرار ہونے کے بعد سے جو سیاسی بے یقینی کی فضا بنگلادیش پر چھائی ہوئی تھی، انتخابات کے کم و بیش پر امن انعقاد اور اس کے نتیجے میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کو واضح اکثریت ملنے اور اس کے سربراہ طارق رحمان کے وزیر اعظم کا حلف اٹھانے سے، استحکام میں بدلتی دکھائی دیتی ہے۔
اسی سلسلے میں، پاکستان اور بنگلادیش کے دوطرفہ تعلقات میں ڈیڑھ عشرے سے پائی جانے والی سرد مہری کا کہرا بھی کچھ کچھ چھٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ فی الحال پاکستان کی جانب سے برادرانہ جوش و جذبے کا اظہار فزوں ہے اور دوسری جانب سے اگرچہ ماضی قریب کی نسبت دوستانہ مگر چندے تکلف میں ملفوف سفارتی رد عمل نظر آ رہا ہے۔
اس خادم نے کوئی ڈیڑھ عشرہ قبل فرائض منصبی کی انجام دہی کے سلسلے میں سال بھر بنگلادیش میں گزارا۔ ملک کے طول و عرض میں بلا غل و غش گھومنے پھرنے، بنگلا بھاشا کو پڑھنے اور اور سن کر سمجھنے کی مبتدیانہ سدھ بدھ اور دنیا بھر کے عام لوگوں کے مانند بنگلادیشی عوام کی مہمان نوازی کے سبب وہاں کے معاشرے، سیاسی حرکیات اور معیشت کے بارے میں کچھ تاثرات بنے۔ اس دور کے بنے دوستوں سے اب تک بلاتعطل رابطہ قائم ہے اور گاہے بگاہے اس سلونے چہروں اور روشن آنکھوں والے دیس کے حالات حاضرہ سے آگاہی تازہ ہوتی رہتی ہے۔
احباب واقف ہیں کہ بنگلادیش کا قیام ایک مرکز گریز سیاسی جدوجہد کا شاخسانہ تھا جو بدقسمتی، بے تدبیری اور بے بصیرتی کے پے در پے جھٹکوں کے بعد ایک خون چکاں صورت اختیار کر گیا، جس میں لاکھوں جانوں، عصمتوں اور وسائل کا زیاں ہوا۔ ہمارے ہاں ان واقعات کی بابت دو قسم کی باہم متضاد آرا زیادہ متداول ہیں۔ دائمی مقتدرہ کے ہم آواز ایک حلقے کے خیال میں یہ سب کچھ اغیار، بلکہ ان کی اصطلاح میں ”مکار ازلی دشمن“ کی سازشوں کے سبب ہوا جس نے کروڑوں بنگالی مسلمانوں کو ہکا کر اپنے کلمہ گو بھائیوں کے خلاف بھڑکا کر علیحدہ ہونے کی طرف دھکیل دیا۔ ایک دوسرے حلقے کے خیال میں ایک خطے اور اس سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ میں قوت کے ارتکاز کا ناگزیر رد عمل تھا جس کی ابتدا پٗرامن آئینی مطالبات کی صورت میں ہوتی رہی مگر اسے، فیض صاحب کی اصطلاح میں ”بند دریچوں پہ بارش سنگ“ سمجھ کر سنی ان سنی کیا جاتا رہا اور جب یہ آوازیں اس قدر بلند ہو گئیں کہ انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہ رہا، تو تشدد کے حربے سے ان کا گلا گھونٹنے کی راہ اپنائی گئی، جس کی ناکامی، بے حد و حساب انسانی المیوں کے ریلے کی زد پر آ کر ملک کے دولخت ہونے پر منتج ہوئی۔
اس خادم کی رائے میں حقیقت اس افراط و تفریط کے بیچ کہیں واقع ہے۔ اغیار کا چھڑکا ہوا تیل ہرگز اس قدر تباہی نہ لا سکتا اگر اپنوں کی بے تدبیریوں نے شعلے نہ بھڑکا رکھے ہوتے۔ بنگلادیش کی سیاست اب تک آزادی کے وقت کے واقعات کی متضاد تعبیرات کے گرد گھومتی ہے۔ عوامی لیگ کا دعوی ہے کہ وہ بنگا بندھو شیخ مجیب الرحمان کے نظریے کی وارث ہونے کے سبب ملک کو چلانے کی زیادہ اہل ہے۔ بنگلادیش نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے بانی جنرل ضیا الرحمان نے بنگلادیش کے قیام کا اعلان ریڈیو پر کرکے آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا تھا، چنانچہ ان کا حق فائق ہے۔
چند برس پہلے ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کی ایک دستاویز دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا جس میں تجزیہ کیا گیا تھا کہ عوام دونوں جماعتوں کے ماضی کے ماضی کے مزعومہ کارناموں کے اس مسلسل تذکرے سے بیزار ہیں اور حال اور مستقبل کے بارے میں ان کے ارادے جاننا چاہتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں بڑی جماعتوں کے کم از کم معاشی ویژن میں کوئی فرق نہ تھا۔ دونوں کا اقتصادی مطمح نظر بنیادی طور پر تین ستونوں پر استوار تھا۔ سستی، نیم ہنرمندانہ مزدوری کی پیشکش کر کے کثیر القومی کمپنیوں کو پیداواری عمل بنگلادیش میں منتقل کرنا، مزدوروں کو خصوصاً خلیجی ممالک بھجوا کر زرمبادلہ حاصل کرنا، اور اپنی غربت اور موسمیاتی تبدیلی سے خطر پذیری کے بل پر مغربی منڈیوں تک آسان رسائی۔
عوامی لیگ کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ بھارت کی سمت گردانا جاتا ہے جبکہ بی این پی کو نسبتاً آزاد خارجہ پالیسی کا نقیب سمجھا جاتا ہے جس میں سابق حریف پاکستان سے معمول کے تعلقات استوار کرنا شامل ہے۔ اسی کا ایک مظہر بھارت کے، کرکٹ کے کھیل میں سیاسی تلخی گھولنے کے دیرینہ وتیرے کا پہلے بنگلادیش کی جانب سے، ”سیکیورٹی وجوہات سے“ بھارت میں نہ کھیلنے کے اعلان کی صورت جواب دیا جانا ہے۔ پاکستان نے بھی نئی حکومت سے یک جہتی دکھاتے ہوئے، اور ایک اپنا پرانا حساب چکانے کی فکر میں بھی، بھارت میں کھیلنے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ طارق رحمان صاحب کے بطور وزیر اعظم حلف اٹھانے کی تقریب میں اعلی سطحی وفد کی شرکت بھی خیر سگالی کے فروغ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لیکن اس خادم کے خیال میں یہ اقدامات شاید اعلی حکومتی سطح پر تو کچھ اثر دکھائیں، اصل کام دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو استوار کرنا ہے اور اس کے لیے بھارت دشمنی یا عسکری تعاون سے کہیں زیادہ مضبوط اور کارگر بنیادیں وجود رکھتی ہیں۔
بنگلادیشی عوام میں پاکستانی موسیقی، متحدہ پاکستان کے دور کے فنی سرمائے، فلموں، کھیلوں اور پاکستانی ساختہ زنانہ ملبوسات کی پذیرائی موجود ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے کچھ چینلز پر چلنے والے نوجوانوں کے موسیقی کے مقابلے ”پاکستان آئیڈل“ میں بنگالی نژاد پاکستانی، ثم کینیڈین گلوکار عالمگیر حق اور متحدہ پاکستان کے دور کی بھولی بسری آواز بشیر احمد عرف بی اے دیپ کے بچوں کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔ مجھے بیسیوں بنگلادیشی احباب نے پیغامات بھیج کر اس پر خوشی کا اظہار کیا۔
اقتصادی میدان میں، خصوصاً خواتین کو ہنر مند بنانے اور انہیں باعزت روزگار مہیا کرنے میں بنگلادیش نے اہم پیش رفت کی ہے جس میں ہمارے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ بنگلادیش میں بھی نجی بجلی گھروں کا نظام موجود ہے مگر انہوں نے اسے عفریت کی وہ شکل اختیار نہیں کرنے دی جو ہمارے ہاں ہے۔ اس باب میں بھی شاید ان سے کچھ رہنمائی کا حصول ممکن ہو۔ مختصر یہ کہ ”دشمن کا دشمن“ جیسے عارضی تنکوں کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کی بنیاد رکھنے کے بجائے فنون لطیفہ، تجارت، ہنر اور کھیل جیسے عوامی شعبوں میں تعاون بڑھانے سے شاید ”خون کے دھبے“ کچھ مدھم پڑیں اور سبزے کی بہار شاید کچھ نکھر کر جلوہ افروز ہو۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)