ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دوں گا: ٹرمپ

  • بدھ 25 / فروری / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس میں سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے مشرق وسطیٰ میں بھاری امریکی فوجی تعیناتی پر زیادہ بات نہیں کی اور کہا کہ پہلے سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کا سب سے طویل ریکارڈ قائم کیا جو تقریباً ایک گھنٹہ اور 50 منٹ طویل تھا۔  ٹرمپ نے بار بار اپنے اقتصادی ایجنڈا پر زور دیا اور کہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں واپس آنے کے پہلے سال میں ’تاریخی تبدیلی‘ کا مشاہدہ کیا۔

ٹرمپ نے ایران کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے گذشتہ سال امریکہ کی ایران میں کارروائی، جسے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کہا جاتا ہے، کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’مڈ نائٹ ہیمر کے بعد انہیں خبردار کیا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار بنانے کے پروگرام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں، مگر پھر بھی وہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت دوبارہ اپنے جوہری عزائم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘

انہوں نے  کہا کہ ایران مزید امریکی حملوں سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک اس بات کا پابند نہیں ہوا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’میری ترجیح یہ ہے کہ اس مسئلے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے لیکن ایک بات یقینی ہے۔ میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد سرپرست، جو کہ وہ بلاشبہ ہیں، کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں ان کا سخت موقف ان کی ’طاقت کے ذریعے امن‘ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں امریکی فوج کو زمین پر سب سے طاقتور بنانے کی کوشش شامل رہی ہے۔

امریکی صدر نے سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب میں ایک بار پھر پاک انڈیا کے مابین مئی کے تنازع پر بیان دیا ہے۔ امریکی پارلیمنٹ (کانگریس) سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جاتی تو بقول وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اگر میں مداخلت نہ کرتا تو تین کروڑ پچاس لاکھ لوگ مارے جاتے۔

اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے دوسرے ممالک میں تنازعات کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے عہدے کے پہلے 10 مہینوں میں ’آٹھ جنگیں‘ ختم کرائیں۔