ڈونلڈ ٹرمپ کا اسٹیٹ آف یونین خطاب
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 25 / فروری / 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں ایران کے ساتھ سفارتی طور سے معاملات طے کرنے پر زور دیا ہے۔ لیکن ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا لب و لہجہ در شت اور سخت تھا ۔تاہم اس تقریر میں انہوں نے ایران پر ’ برا وقت آنے‘ کی ڈینگ مارنے سے گریز کیا۔
ٹرمپ نے سٹیٹ آف یونین خطاب میں طویل ترین تقریر کرنے کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 107 منٹ تک گفتگو جاری رکھی۔ تاہم اس میں زیادہ تر اپنی کامیابیوں کے دعوے اور ایک ہی سال میں امریکہ کی تقدیر تبدیل کردینے کا اعلان شامل تھا۔ ایک بار پھر انہوں نے 2020 میں جو بائیڈن سے اپنی شکست کو انتخابی دھاندلی کا نتیجہ قرار دیا، جس کی وجہ سے امریکہ پیچھے رہ گیا۔ ڈیموکریٹس پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے تو ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ لیکن ہم نے کامنیاب ہو کر بروقت اس تباہی کا رخ موڑ دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگرس میں اسٹیٹ آف یونین جیسے اہم خطاب میں ٹرمپ کے غلط معلومات اور جھوٹے دعوؤں نے اس خطاب کی اہمیت اور قومی لحاظ سے اس کی حیثیت ختم کردی۔ اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے اس خطاب کصرف اپنی ذات تشہیر یا پارٹی کے مفاد تک محدود نہیں کیا۔ بلکہ عام طور سے اس موقع پر ملک کے صدور قومی یک جہتی کا پیغام دینے اور وسیع تر ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کی باتوں میں یہ رویہ مفقود تھا۔ جب وہ اپنی تعریف میں وقفہ کرتے تو ری پبلیکن پارٹی کے نقطہ نظر کو پیش کرنے کی کوشش کرتے۔
ٹرمپ کی یہ تقریر ایک ایسے موقع پر کی گئی ہےجب انہیں امریکی عوام میں شدید عدم مقبولیت کا سامنا ہے۔ جائزوں کے مطابق انہیں اس وقت صرف 39 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ 56 فیصد ان کی کارکردگی سے ناراض ہیں۔ انتخاب سے ایک سال بعد ہی عوام میں عدم مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ عام لوگوں کی معیشت بہتر بنانے اور داخلی مسائل پر توجہ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی توجہ کا زیادہ تر مرکز خارجہ امور رہے ہیں ۔ گزشتہ کئی ماہ سے تو وہ متعدد جنگیں بند کرانے اور خود کو نوبل امن انعام کا سب سے زیادہ مستحق ثابت کرنے پر اپنی صلاحیتیں صرف کرتے رہے ہیں۔ روزمرہ مسائل سے دوچار لوگوں کو اس قسم کی سیاست سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اسٹیٹ آف یونین ایڈریس میں صدر نے کوئی ٹھوس سیاسی پیغام دینے یا عوام کی پریشان حالی کا حوالہ دینے کی بجائے اس موقع کو اپنے کارناموں کا ذکر کرنے پر ضائع کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پر مستزاد یہ کہ ٹرمپ کے بیشتر دعوے بے بنیاد اور خیالی پلاؤ جیسے لگتے ہیں۔ یہ خطاب ٹرمپ کے پاس اپنی ساکھ بہتر بنانے کا عمدہ موقع تھا لیکن انہوں نے اسے خالصتا ً انتخابی تقریر بنا کر نہ صرف اس اہم قومی خطاب کی قوت و اہمیت کم کی بلکہ عوام کے غصے میں اضافہ کیا۔ اس رائے کے مطابق ٹرمپ زمینی سیاسی صورت حال کو سمجھنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ اسی لیے اندیشہ ہے اس عاقبت نااندیشانہ طرز عمل کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخاب میں ری پبلیکن پارٹی کانگرس میں اکثریت سے محروم ہو سکتی ہے۔
ہر خاص وعام کو امید تھی کہ ٹرمپ نے ایران کا ہوّا دکھا کر مشرق وسطی میں بھاری بھر کم بحری بیڑا اور فوجی طاقت جمع کی ہے۔ اس لیے امریکی صدر اسٹیٹ آ ف یونین خطاب میں ایران کے بارے میں واضح پالیسی بیان دیں گے اور پنی حکمت عملی بیان کریں گے۔ لیکن وہ یہ ابہام دور کرنے میں ناکام رہے۔ ایک طرف ٹرمپ سفارتی طریقہ کو ترجیح بتاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ایران کو خطرناک اور دہشت گردی کا نمبر ایک سرپرست ملک قرار دے کر انتہائی جارحانہ طرز تکلم اختیار کررہے ہیں۔ اس کے برعکس ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو جینوا میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہونے سے پہلے ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اگر سفارت کاری کو موقع دیا گیا تو اطمینان بخش معاہدہ ہو سکتا ہے۔ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کرنے پر تیار ہے لیکن صدر ٹرمپ اس معاملہ کو مسلسل دھمکیاں دینے کے لیے استعمال کرتےرہے ہیں۔ اس سے صرف یہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یا تو ٹرمپ سفارت کاری کے بارے میں دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔ یا ان کی حکومت نے کسی واضح منصوبہ کے بغیر مشرق وسطی میں فوجی طاقت جمع کی ہے۔ اور ایسی طاقت کے بے جا اور بلا سوچےسمجھے استعمال کے اثرات کا مناسب جائزہ نہیں لیا گیا۔
کانگرس سے ٹرمپ کے خطاب میں پاکستان کے لیے بھی سوچنے سمجھنے کے چند پہلو ہیں۔ شہباز شریف نے نہ جانے کس موج میں امریکی صدر سے کہہ دیا تھا کہ اگر وہ مئی میں پاک بھارت جنگ بند نہ کراتے تو کروڑوں لوگ ہلاک ہوجاتے۔ اس فقرے کو ٹرمپ اسکول کے بچے کی طرح ٹرافی سمجھ کر ہر جگہ بیان کرتے ہیں۔ واضح رہے پاکستان مئی میں بھارت کے ساتھ جنگ بند کرانے کا کریڈت صدر ٹرمپ کو دیتا ہےاور اس کا اظہار کرنے کے لیے ہی حکومت نے انہیں امن کا نوبل انعام دینے کے لیے بھی نامزد کیا ہے۔
اسٹیٹ آف یونین خطاب میں بھی ٹرمپ نے دعوی کیا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر میں جنگ بند نہ کراتا تو پاک بھارت جنگ میں ساڑھے تین کروڑ لوگ مارے جاتے۔ ایسا دعوی کرتے ہوئے وہ یہ اشارہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے تنازعہ بڑھنے کی صورت میں جوہری ہتھیار استعمال ہوتے۔ اس قسم کا دعوی برصغیر کے لیڈروں کی ذہانت اور معاملات کی تفہیم کے بارے میں صلاحیت پر شک و شبہ پیدا کرنے کا طریقہ ہے۔ شہباز شریف کو اس بارے میں اپنے لغو اور بے بنیاد دعوے سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ امریکی صدر اسے سند کے طور استعمال کرنا بند کریں۔
مئی کی جنگ بندی کے بارے میں بھارت نے ٹرمپ کے شدید دباؤ کے باوجود یہ قبول نہیں کہ جنگ بندی میں امریکہ کا کوئی کردار تھا۔ اس لیے ایسے دعوے تصدیق شدہ حقیقت کی بجائے حالت و واقعات کی یک طرفہ تصویر دکھانے کے مترادف ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے لیڈر ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے کے باوجود ایٹمی جنگ کی ہلاکت خیزی سے آگاہ ہیں۔ اس لیے گمان غالب ہے کہ کسی تنازعہ کے باوجود دونوں ملکوں کے لیڈر جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں آنے دیں گے۔
البتہ ایٹمن رکھنے والا کوئی بھی ملک اگر کسی اضطراری کیفیت میں ایسا اقدام کر بیٹھا تو اس صورت میں بربادی کا قبل از وقت اندازہ لگانا شاید ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے امریکی صدر ہوں یا برصگیر کے لیڈر انہیں ایسے انسان دشمن ہتھیاروں کے معاملہ پر سیاست گریز کرنا چاہئے۔