آپریشن غضب الالحق میں 352 طالبان اہلکار ہلاک، 130 چیک پوسٹیں تباہ اور 26 پر قبضہ

  • ہفتہ 28 / فروری / 2026

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان کی جانب سے افغانستان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جس میں اب تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک ہوگئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا ہر ہفتے کی رات 9 بجے تک کے اعداد و شمار اور نئی پیشرفت شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ میں افغانستان کا بھاری جانی مالی نقصان ہوا، دو روز میں افغانستان کے352 فوجی ہلاک جبکہ 535 زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کی 130 چیک پوسٹیں تباہ جبکہ 26 پوسٹوں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق جوابی کارروائیوں میں 171 ٹینک، فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں جبکہ افغانستان میں 41 مقامات پر کامیابی کے ساتھ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی جانب سے 28 فروری صبح 9 بجے جاری تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا جس میں افغان طالبان رجیم کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے ننگرہار کی مہمند دھارا بیس میں 2 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ننگرہار میں افغان فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بناکر تباہ کردیا گیا۔ پاک فضائیہ نے قندھار میں افغان فوج کا ہیڈ کوارٹرز تباہ کردیا۔

افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف پاک فوج کی بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ پاک افواج کامیابی سے افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کو تباہ کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ ترین کارروائیوں میں پاک افغان سرحد پر غلام خان سیکٹر میں افغان پوسٹ کو تباہ کردیا گیا، اعظم وارسک سیکٹرمیں بھی افغان طالبان کی شاگا پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

افغان طالبان کی جانب سے جمعرات کی شب شروع کی گئی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضب الالحق کا آغاز کیا تھا۔ افواج پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور موثر انداز میں منہ توڑ جواب دیا گیا۔

افغان طالبان کے حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے اینٹی ڈرون سسٹمز نے تمام ڈرونز کو گرا دیا، ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ان واقعات نے ایک بار پھر افغان طالبان رجیم اور پاکستان میں دہشت گردی کے درمیان گھناؤنے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔