مشرق وسطی ایک نئی جنگ اور بحران کے دہانے پر
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 28 / فروری / 2026
ابھی دنیا افغانستان پر پاکستان کے حملوں اور ان کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں بند کرانے کی باتیں ہی کررہی تھی کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایران پر فضائی حملے شروع کردیے ہیں۔ ایران نے بھی وعدے کے مطابق تمام تر سفارتی نزاکتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیل کے علاوہ بحرین، کویت، قطر، دوبئی اور ابو ظہبی میں میزائل داغے ہیں۔
جنگ کی گرما گرمی میں کسی فریق کے دعوے پر یقین نہیں کیاجاسکتا لیکن فریقین کے درمیان وسائل اور عسکری صلاحیتوں کے واضح فرق کے باوجود یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ یہ نئی جنگ انتہائی تباہ کن اور بے نتیجہ ہوگی ۔ البتہ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک اور ایران کے درمیان سفارتی مفاہمت کا موجودہ ماحول ختم ہوجائے گا۔ ایران ، عرب ممالک پر حملوں کا جواز یوں دیتا ہے کہ وہاں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن کسی بھی عالمی ضابطے اور سفارتی اصول کے مطابق یہ ان تمام ممالک کی خود مختاری اور علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے، جہاں یہ حملے کیے جارہے ہیں۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ خلیجی اور عرب ممالک نے طویل عرصہ تک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی ہے لیکن کسی بھی خود مختار ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس ملک کے ساتھ دفاعی شراکت داری کرتا ہے۔ محض اس عذر پر کسی ملک کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔
ایران دعویٰ کرتا رہاہے کہ اگر امریکہ نے اس پر جنگ مسلط کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ آج متعدد عرب ممالک پر پھینکے گئے میزائل حملوں کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ تہران کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ ایران نے ابھی تک یہ ثبوت پیش نہیں کیاہے کہ ان ممالک میں امریکی اڈوں سے براہ راست ایران پر حملے کیے گئے تھے۔ ایسا ثبوت موجود نہ ہونے کی صورت میں ایرانی حملے تمام عالمی ضابطوں کی ویسی ہی خلاف ورزی قرار پائیں گے جیسی جارحیت امریکہ اور اسرائیل، ایران کے خلاف کررہے ہیں۔ ایران اگر امریکہ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے تو اس نے ایران کے قریب سمندروں میں بھاری بحری بیڑا جمع کیا ہے۔ ایرانی میزائلوں یا حملوں کا پہلا ہدف اس امریکی طاقت کو ہو نا چاہئے تھا۔ تاہم ایران نے متعدد عرب ممالک کو بیک وقت نشانہ بنا کر جنگ کے پہلے ہی مرحلے میں اپنے لیے شدید پیچیدگی پیدا کی ہے۔ یہ جنگ جلد رکنے کا امکان نہیں ہے، اس لیے اگر امریکہ عرب ممالک کے اڈوں کو استعمال کرتا یا یہ ممالک اس کی اجازت دیتے تو ایران جوابی کارروائی کے طور پر انہیں نشانہ بنا سکتا تھا ۔ البتہ ایران نے عرب ممالک کو فوری طور سے جنگ کا فریق بناکر خود ہی جنگ کا دائرہ بہت وسیع کرلیا ہے جس کے اثرات سے نمٹنا اس کی حکومت کے لیے شاید دہائیوں تک مشکل ہوگا۔
ایرانی حکومت واضح کرتی رہی ہے کہ ایران امریکی حملےکے بعد کسی بھی حد تک جائے گا۔ جوابی کارروائی میں اسرائیل کے ساتھ ہی عرب ممالک پر میزائلوں کی بارش سے تہران کی طرف سے تخت یا تختہ والے ارادے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایران کے لیے یہ جنگ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ امریکی صدر واضح کرچکے ہیں کہ وہ تہران حکومت گرانا چاہتے ہیں۔ اس لیے آیت اللہ علی خامنہ ای کی سربراہی میں ایرانی حکومت بھی اپنی بقا کے لیے ہر قسم کی سفارتی ضرورتوں کو بھول کر شدید کارروائی کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ آئیندہ چند روز میں اندازہ ہوسکے گا کہ ایران امریکی مفادات اور عسکری اثاثوں کو کتنا نقصان پہچانے کے قابل ہے۔ عرب ممالک پر حملہ کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بند کرکے ایران نے البتہ واضح کردیا ہے کہ وہ ہر قسم کے تصادم اور اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے پر تیار ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش ان تمام مملک کے ساتھ معاشی اعلان جنگ کے مترادف بھی سمجھا جاسکتا ہے جو اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ نہیں بلکہ اس کی مذمت کرنے والوں میں شامل ہیں۔
ایران پر امریکی حملہ تو قرین قیاس تھا لیکن یہ گمان ہونے کے باوجود کہ اسرائیل بھی ان حملوں میں شامل ہوگا، امید کی جارہی تھی کہ ایران کو تباہ کرنے کے بارے میں تمام تر اسرائیلی گرم جوشی کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے اس جنگ کا حصہ بنانے سے گریزکریں گے۔ اگرچہ اسرائیل سے حملوں میں پہل کروا کے بظاہر ٹرمپ حکومت نے اس قانونی الجھن سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جس کے تحت جنگ شروع کرنے سے قبل امریکی صدر کانگرس کی اجازت لینے کا پابند ہوتا ہے۔ اسرائیل سے پہل کروا کے صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے خلاف ایرانی عزائم کی وجہ سے حق دفاع کرتے ہوئے جوابی حملہ کیا ہے۔ اگرچہ کوئی امریکی یا دنیا کا شہری ایسے امریکی دعوؤں پریقین نہیں کرے گا۔ امریکی کانگرس میں پہلے ہی اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جارہاتھا اور چند روز پہلے ہی ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک ارکان نے ایران کے خلاف جنگ جوئی کے متعلق صدر کے اختیارات محدود کرنے کا بل کانگرس میں پیش کیا تھا ۔ اس بل پر ابھی ووٹنگ نہیں ہوئی لیکن ٹرمپ نے حملوں کا آغاز کردیاہے۔
ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا جواز دیتے ہوئے اسے امریکی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیاہے لیکن وہ اس کا کوئی جواز پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اس پر مستزاد اسرائیل کو شریک کرکے انہوں نے خود امریکہ کی پوزیشن کمزور کی ہے۔ اب عرب ممالک و مسلمان ممالک بظاہر اسے اسرائیل کی جنگ سمجھیں گے جس میں امریکہ پوری طاقت کے ساتھ شریک ہے۔ اس بارے میں جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے دو باتوں پر زور دیا ہے:
ایک: ایران کے میزائل اسرائیل ہی نہیں یورپ اور امریکہ کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ حالانکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو خطرہ کہتے ہوئے اسے بند کرنے کا مطالبہ کرتا رہاتھا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عمان کے توسط سے اس بارے میں مذاکرات بھی ہوتے رہے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ ان مذاکرات کو مثبت کہتے رہے ہیں۔ اب ٹرمپ ایرانی میزائل پروگرام کو تباہ کرنے کا اعلان کررہے ہیں، جو ان کے سابقہ مؤقف سے مختلف ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ بہر صورت ایران پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ اس حملہ سے اسرائیل کے سوا کسی کو براہ راست فائدہ نہیں ہوگا۔
دوئم: ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ تہران کی موجودہ حکومت کو فاشسٹ اور ناقابل قبول مانتے ہیں اور اسے تبدیل کرنا ہی ان کا مقصد ہے۔ حالانکہ ٹرمپ حکومت تہران کی جس حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتی رہی ہے وہ وہی رجیم ہے جس کے خلاف انہوں نے ویڈیو پیغام میں تاریخی تناظر میں اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔ اگر یہ حکومت ایسی ہی ناقابل قبول تھی تو اس کے ساتھ مذاکرات کا ڈھونگ ، محض حملہ کے لیے تیاری مکمل کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ یہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ٹرمپ کی قیادت میں منہ زور امریکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہاہے کہ وہ کسی اصول یا ضابطے کو نہیں مانتا۔
اس حوالے سے یپہ پہلو بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ٹرمپ تہران میں حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس ایران میں کوئی ایسی متبادل قیادت یا اسٹرکچر موجود نہیں ہے جو موجودہ رجیم کی جگہ لے سکے۔ اسرائیل موجودہ حکومت گرا کر سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی کو اقتدار میں لانا چاہتا ہے لیکن صدر ٹرمپ اس متبادل کے بارے میں گرم جوش نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ حکومت سے تمام تر گلے شکووں کے باوجود ایران میں سابق ایرانی ولی عہد کو قطعی طور سے کوئی قبولیت حاصل نہیں ہے۔ ایسی کسی تبدیلی سے ایرانی عوام کا کوئی بھلا نہیں ہوگا بلکہ جارحیت کا سلسلہ ویسے ہی دراز رہے گا جیسا کے سابق شاہ کے جانے کے بعد موجودہ ملا رجیم آنے کے بعد عوامی حقوق غصب کرنے کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ سیکولر ایرانی عوام نے شاہ کے مظالم سے تنگ آکر آیت خمینی کے انقلاب کا ساتھ دیاتھا لیکن اس کے نتیجے میں انہیں مزید پابندیوں، مشکلات اور معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
صدر ٹرمپ صرف فضائی حملوں کے ذریعے تہران حکومت گرانا چاہتے ہیں لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زمینی فوج بھیجے بغیر یہ مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ٹرمپ سیاسی طور سے ایسا اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں بچ جانے والی زخم خوردہ رجیم ایرانی عوام کے لیے زیادہ مشکلات و تکالیف کا سبب بنے گی۔