آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر پاکستان میں مظاہرے 15 افراد کی ہلاک
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف کراچی اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
اتوار کو کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب مشتعل مظاہرین نے گلگت اور سکردو میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔ سکردو کے ریجنل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آصف رضا نے تصدیق کی ہے کہ پرتشدد مظاہروں کے بعد ان کے ہسپتال میں پانچ لاشیں لائی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض افراد گیٹ توڑ کر کراچی میں امریکی قونصل خانے کے اندر داخل ہوئے، جس کے بعد استقبالیہ اور سکیورٹی کمرے کے شیشے توڑے گئے۔ کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ایسٹ زون کا کہنا ہے کہ کچھ مشتعل افراد قونصلیٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پا لیا ہے۔
سول ہسپتال کراچی کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد نو لاشوں اور کم از کم 32 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا تھا۔ نجی ریسکیو سروس ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ اُنہوں نے نو لاشوں اور درجنوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔
اسلام آباد میں احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق آبپارہ چوک پر جمع ہونے والے مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کی جانب مارچ کا اعلان کیا، جس پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی گئی ہے۔
احتجاج کے دوران ایک نجی نیوز چینل کی ڈی ایس این جی پر بھی حملہ کیا گیا جس سے اس کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ مظاہرین کی جانب سے عملے کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسلام آباد پولیس کی سپیشل برانچ کے ایک اہلکار کے مطابق مظاہرین کی تعداد میں کمی آنے کے بجائے ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ریڈ زون، ڈپلومیٹک انکلیو اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر کسی کا قانونی حق ہے لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق لاہورمیں امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین موجود ہیں اور اس دوران پولیس کی جانب سے اُنہیں منتشر کرنے کے لیے شیلنگ بھی کی گئی ہے۔
پاکستان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ’ہم امریکی قونصل خانہ کراچی اور لاہور کے باہر جاری مظاہروں کی اطلاعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے اور پشاور میں قونصل خانہ کے باہر مزید مظاہروں کی اپیلیں بھی سامنے آئی ہیں۔‘
گلگت اور سکردو میں متعدد مقامات پر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا، جس میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ ڈی ایس پی سکردو اور متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ سکردو میں ایس پی ہاؤس، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر پر توڑ پھوڑ کی گئی۔
گلگت میں یو این ڈی پی اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور آگ لگا دی گئی۔ گلگت سے صحافی وجاہت علی کے مطابق دوپہر کے وقت ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔
سکردو میں مظاہرین صبح سے ہی مختلف سڑکوں پر جمع ہو رہے تھے اور انتہائی مشتعل تھے۔ جیسے جیسے تعداد بڑھتی گئی، مظاہرین نے اقوامِ متحدہ کے دفتر پر حملہ کیا اور پولیس پر بھی دھاوا بول دیا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے مرکزی امام بارگاہ سے لال چوک تک مارچ کیا گیا لال چوک میں دھرنا بھی دیا گیا۔ مظاہرین نے مظفرآباد، راولا کوٹ اور دیگر علاقوں میں ریلیاں نکالیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔