کویت میں تین امریکی طیارے گر کر تباہ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پیر کو کہا کہ کویت کی فضائی حدود میں آپریشن کے دوران امریکہ کے تین ایف-15 ای سٹرائیک ایگل طیارے مبینہ طور پر ’فرینڈلی فائر‘ کے واقعے میں تباہ ہو گئے۔
اس سے پہلے کویت کی وزارت دفاع نے بتایا تھا کہ کئی امریکی جنگی طیارے پیر کی صبح کویت میں گر کر تباہ ہوئے، لیکن ان کا عملہ بچ گیا۔ گرنے کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حکام نے فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دیں، عملے کو بچایا اور انہیں طبی معائنہ اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ ان کی حالت مستحکم ہے۔‘
ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے کویت میں امریکی علی السالم ایئر بیس اور بحر ہند میں جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ فوج نے کہا کہ فوج کی زمینی اور بحری افواج کے میزائل یونٹس نے گزشتہ گھنٹوں میں کویت میں امریکی علی السالم ایئر بیس اور شمالی بحر ہند میں دشمن جہازوں کو نشانہ بنایا۔
ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پیر کو کہا ہے کہ امریکی سفارت خانہ کے اوپر سیاہ دھواں اٹھتے دکھائی دے رہا ہے جبکہ سفارتی مشن نے لوگوں کو عمارت کے قریب نہ آنے کی ہدایت کی ہے۔ ایران کی طرف سے خلیجی خطے پر تیسرے روز بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل شہر میں سائرن بجے، جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
حکام کے مطابق اب تک ایران کے حملوں میں خلیج میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک شخص کویت سٹی میں شامل ہے۔ ایران کی جانب سے خطے کے ممالک پر جاری غیر معمولی بمباری نے فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں رہائشی عمارتیں، ہوٹل، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران امریکی فضائیہ کے جنگی طیاروں کو غلطی سے کویت کے فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔
طیاروں کی تباہی پر سینٹ کام نے بترایا ہے کہکویت نے اس واقعے میں غلطی کو تسلیم کر لیا ہے اور ہم کویتی دفاعی افواج کی کوششوں اور جاری آپریشن میں ان کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔ طیاروں میں موجود تمام چھ فضائی اہلکار محفوظ طریقے سے ایجیکٹ ہو کر بازیاب کر لیے گئے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے پیر کو کہا ہے کہ انہوں نے تل ابیب میں اسرائیلی حکومت کے ایک کمپلیکس کے علاوہ حیفا میں سکیورٹی و فوجی مراکز اور مشرقی بیت المقدس پر میزائل داغے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق پاسداران انقلاب کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں کا ہدف اسرائیلی حکومت کے سرکاری کمپلیکس پر ٹارگٹڈ حملہ، حیفا میں فوجی اور سکیورٹی مراکز پر حملے اور مشرقی بیت المقدس پر حملہ شامل ہیں۔ حملے میں خیبر بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا گیا۔
سعودی عرب میں واقع دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو نے ڈرون حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر ایک ریفائنری بند کر دی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آرامکو نے راس تنورہ ریفائنری بند کر دی۔ سعودی وزارت دفاع نے العربیہ ٹی وی کو بتایا ہے کہ اس نے دو راس تنورہ ریفائنری کے قریب دو ڈرون کو مار گرایا ہے۔ روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ریفائنری کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا اور صورت حال قابو میں ہے۔ آرامکو نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ایران کی ہلال احمر نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی اسرائیلی حملوں کے دوران اب تک ملک میں 555 افراد جان سے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے ایران پر ہفتے کی صبح سے اتوار تک ایرانی حکومتی اہداف اور فوجی مقامات پر حملوں میں 2000 سے زائد بم گرائے ہیں۔
جنگ کے پہلے 30 گھنٹوں میں ایران میں اہداف پر گرائے گئے بموں کی مقدار گزشتہ جون 2025 میں 12 روزہ جنگ کے دوران میں گرائے گئے بموں سے تقریبا آدھی ہے۔