گریٹ گیم
- تحریر شازار جیلانی
- سوموار 02 / مارچ / 2026
” میں مداخلت کرتا لیکن آپ جانتے ہیں، میرے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان بہت ہی شاندار طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا ہے۔ میں مداخلت نہیں کروں گا۔ پاکستان کے پاس عظیم وزیراعظم اور جنرل ہیں، عظیم قیادت ہے، یہ وہ دو شخصیات ہیں، جن کی میں واقعی بہت زیادہ عزت کرتا ہوں“ ۔
مندرجہ بالا پیراگراف صدر ٹرمپ کا ایک صحافی کا پاک افغان جنگ کے بارے میں کیے گئے سوال کا جواب ہے۔ پاکستان نے عالمی سیاست میں اپنے کردار کی دائمیت کو برقرار رکھنے کے لئے چین کو گوادر پورٹ اور سی پیک سڑک بنانے کی اجازت دے دی۔ اس وقت چین اور امریکہ کے درمیان پوری دنیا میں تجارتی جنگ جاری ہے، جس کے بارے میں ٹرمپ کہتا ہے کہ امریکہ یہ جنگ بہت پہلے ہار چکا ہے۔ آخری کوششوں کے طور پر اب امریکہ چین کے تجارتی راستوں کو غیر محفوظ بنانا چاہتا ہے اور سی پیک جن میں سب سے زیادہ اہم راستہ ہے۔ گوادر سے لے کر بشام تک چین کی مفادات کو زک پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ چین کے لئے اس خطے میں سب سے زیادہ ضروری چیز امن ہے۔ اس لیے اس نے سی پیک میں انڈیا اور افغانستان کو بھی شامل کرنے کی خواہش کا گاہے گاہے اظہار کیا ہے۔
افغانستان اور انڈیا کے رابطوں کے درمیان پاکستان ایک فطری بیریئر ہے، تو پاکستان اور سینٹرل ایشیا کے رابطوں کے درمیان واخان ایک فطری بیریئر ہے۔ انڈیا کو سینٹرل ایشیا اور یورپ تک زمینی راستہ دینے کے لئے پاکستان تیار نہیں۔ پاکستان کو یہی سہولیات مہیا کرنے کے لئے پاکستان کی شرائط پر افغانستان تیار نہیں۔ ان دونوں رکاوٹوں کا نقصان چین کی تجارت یعنی روڈ پہل کاری کو پہنچ رہا ہے۔ چین کو افغانستان سی پیک کی بجائے واخان کوریڈور دینے پر تیار ہو گیا تو ٹرمپ کو سمجھ آ گئی کہ صرف پاکستان نہیں افغانستان سے بھی نمٹنا پڑے گا۔ تب سے بگرام کا مطالبہ شروع ہو گیا، جس کے بارے میں ٹرمپ واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ اسے بگرام چین کے خلاف چاہیے۔ اور بگرام نہیں دیا جاتا تو افغانستان کے ساتھ بہت برا ہوگا۔ یوں پاکستان میں حملے تیز ہو گئے، جس کا اگلا پڑاؤ افغانستان پر حالیہ ہوائی حملے ہیں۔
دوسری طرف بلوچستان میں افراتفری مچی ہوئی ہے، جہاں ایک طرف پاکستان کے اندر حملے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف ایران بارڈر کے ساتھ عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے۔ جس کی انتہا ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی صورت میں سامنے ہے۔ ایران میں حکومت تبدیل، کمزور یا فریکچر کی جاتی ہے، تو پھر بلوچستان میں استحکام آنا قصہ پارینہ بن جائے گا۔ جس کی وجہ سے گوادر بالکل غیر محفوظ اور غیر فعال ہو جائے گا۔ بلکہ عین ممکن ہے، اس علاقے میں بھی کوئی صومالی لینڈ تخلیق کیا جائے۔
پاکستان کہتا ہے کہ افغانستان سے انڈیا کے منصوبے کے طور پر پاکستان میں حملے کیے جاتے ہیں۔ یعنی افغانستان انڈیا کا دوست ہے۔ واخان کوریڈور ڈویلپ کرکے افغانستان چین کو نئی رسائی دے رہا ہے، یعنی افغانستان چین کا دوست ہے۔ لیکن پاکستانی اخبارات اور خبروں میں چین پاکستان کا دوست ہے۔ اگر چین اور انڈیا مل کر افغانستان کے دوست ہیں اور پاکستان افغانستان کو دشمن سمجھتا ہے، تو پھر پاکستان اور چین اس طرح دوست نہیں رہے، جس طرح ہمیں سمجھایا جا رہا ہے۔
اسرائیل ایران پر جس وقت حملے کے لئے تیاری کر رہا ہے، عین انہی دنوں میں انڈیا، اسرائیل میں اعلیٰ سطح کی موجودگی رکھتا ہے۔ یعنی افغانستان میں موجود انڈیا، ایران کے خلاف اسرائیل کا بھی ساتھی ہے۔ یاد رہے، ایران اور افغانستان کے بارڈر ملے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ پاکستان کو دوست اور ہمارے وزیراعظم کو دنیا بھر کے 160 وزرائے اعظم میں سے، سب سے بہترین وزیر اعظم کہتے ہیں۔ لیکن ان کا اصل دوست وزیراعظم نیتن یاہو، ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور نیتن یاہو کا دوست انڈیا، افغانستان کے راستے پاکستان میں حملے کرا رہا ہے۔ اور پاکستان چین کا دوست، چین کو متبادل راستہ دینے والے افغانستان میں ہوائی حملے کر رہا ہے۔ شطرنج لگی ہوئی ہے۔ یہی گریٹ گیم ہے۔ کنفیوژن ہے۔ دوست دوست کے سامنے ہے، اور دشمن دوست بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان افغانستان کے ساتھ گتھم گتھا ہو اور ایران پر حملہ ہو جائے، تو پاکستان، ایران لڑائی کی طرف توجہ نہیں دے سکے گا اور اس کی تمام مغربی سرحدات مخالف قوتوں کے ہاتھ آ جائیں گی۔ مشرق میں پہلے سے ”ازلی دشمن“ موجود ہے۔ گوادر عدم تحفظ کی وجہ سے غیر فعال ہو جائے گا، تو سی پیک ختم اور اس کی وجہ سے ملے ہوئے عالمی کردار سے پاکستان محروم ہو جائے گا۔ ہم سے کوئی مفادات منسلک نہ ہوں، تو پھر چین بھی ہمارے ساتھ اپنے روایتی کردار پر نظر ثانی کرے گا۔ اسرائیل ایران میں اور انڈیا افغانستان میں۔ یہی کچھ ہونے جا رہا ہے۔ اور ہم بن پانی کے مچھلی کی طرح گرم ریت میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں، اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ورزش کر رہے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)