فرض سمجھ کر ایران جنگ رکوانے کی سفارتی کوشش کر رہے ہیں: اسحاق ڈار
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلام آباد ایران جنگ کو روکنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) سے منگل کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جنگ رکوانے کی کوششیں فرض سمجھ کر کی جا رہی ہیں اور پاکستانی عوام کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہیے۔ ’اپنے ملک میں حالات خراب کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ آپ کی حکومت ایران جنگ رکوانے کی ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایران میں خود مختار ملک ہے اور ان سے صرف درخواست کی جا سکتی ہے، حکم دینا ممکن نہیں۔ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں ہیں، اس کے تحت میں نے وہاں کی قیادت سے رابطہ کیا اور انہوں نے کہا کہ ایران کو کہیں اس کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔ جس کی میں نے گارنٹی لے کر دی، اور آپ دیکھیں باقی تمام ممالک کے برعکس سعودی عرب پر سب سے کم کارروائی ہوئی۔
امریکہ نے ابھی تک ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل بحرین میں امریکی بحری اڈے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ایران پر جنگ مسلط کرنے کی وجہ اسرائیلی اثررسوخ پاکستان تک پھیلانے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایران پر حملہ کر کے نیتن یاہو نے بین الاقوامی توجہ غزہ سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ ایران پر مرکوز ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اس عمل سے نیتن یاہو کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ خاموشی کے ساتھ غزہ اور مغربی کنارے میں اپنے مبینہ نسل کشی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ نیتن یاہو کے شیطانی ذاتی عزائم نے فلسطین اور باقی مشرقِ وسطیٰ کو انسانی تاریخ کے بدترین المیے میں دھکیل دیا ہے۔