ایران میں حملے جاری، ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ

  • منگل 03 / مارچ / 2026

ایران نے رات گئے مشرق وسطیٰ میں امریکا کے 6 فوجی اڈوں سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائلوں سے حملہ کیا۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے سے 2 ڈرون ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی۔

ریاض میں  امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون ٹکرانے کے بعد ڈپلومیٹک کوارٹر میں دو دھماکے  سنے گئے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق واقعے میں عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، عمارت خالی ہونے کے سبب کو ئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے خبردار یا ہے کہ دہران میں میزائل یا ڈورن حملے یقینی ہیں، جہاں امریکی قونصل خانہ واقع ہے۔ امریکی شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں پناہ لینے اور ’کسی حملے کے نتیجے میں سکیورٹی پر نظرِ ثانی‘ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ دہران سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر واقع ہے، جو کہ ملک کی آئل انڈسٹری میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں سعودی آئل کمپنی آرامکو کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے بحرین، عراق، امارات اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، امریکی فوجی اڈوں کے علاوہ ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں پر بھی میزائلوں سے حملہ کیا۔ ایران نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتراور اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ  کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں حملوں میں خیبر میزائل استعمال کیے گئے۔ تل ابیب، حیفا اور مشرقی بیت المقدس پر بھی حملے کیے گئے۔

خطے میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر اردن میں امریکی سفارتخانہ خالی کروا لیا گیا ہے۔امریکی ایمبیسی کے لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ عملہ محفوظ مقام کی جانب رخ کرے۔ آسٹریلوی وزارت دفاع نے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے دبئی میں امریکی فوجی اجتماع پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ترجمان آسٹریلوی وزارت دفاع کے مطابق ال منہاد ایئر بیس میں آسٹریلوی فوجی موجود تھے، حملے میں تمام  فوجی محفوظ رہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم انسانی حقوق تنظیم کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 85 عام شہری اور 11 فوجی اہلکار  ہلاک ہوئے ۔تنظیم کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد اب تک مجموعی طور پر کم از کم 742 شہری شہید ہو چکے ہیں۔ہرانا کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 176 بچے بھی شامل ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے حملوں میں 6 امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایک بیان میں  امریکی افواج نے اُن دو فوجیوں کی باقیات بھی برآمد کر لی ہیں جو پہلے لاپتہ تھے۔ 2 لاپتہ فوجی ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران مارے گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی بیروت کے دو محلوں کے رہائشیوں کو کئی عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت  کی ہے، کیونکہ وہاں جلد فوجی کارروائی متوقع ہے ۔  ٹیلی گرام پر پیغام  میں کہا گیا ہے کہ لبنان کے 59 علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ہنگامی انتباہ، خصوصاً ان دیہات کے مکینوں کے لیے جن کے نام درج کیے گئے ہیں۔ اپنی حفاظت کے لیے آپ فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کر دیں۔

ادھر امریکی صدر نے ٹرمپ نے کہا  ہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا ردعمل جلد دکھائی دے گا، ردعمل میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ بھی شامل ہوگا۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں نشریاتی ادارے کی عمارت سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حملوں کے بعد تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کی۔

روسی میڈیا کے مطابق اردن کے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی میزائل روکنے کی کوشش ناکام ہوگئی، جس کے بعد اردن کا میزائل اپنے ہی فوجی اڈے سے جا ٹکرایا اور علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔قطری وزارت دفاع نے کہا ہے کہ قطر کی حدود میں اب تک ایران کے 101 بیلسٹک، 3 کروز میزائل، 39 ڈرون طیارے داخل ہوئے، قطری دفاعی نظام نے 3 کروز، 98 بیلسٹک میزائل اور 24 ڈرون فضا میں تباہ کردیے۔ بحرین کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر سے اب تک 73 ایرانی میزائلوں اور 91 ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے آٹھ کروز میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ترجمان کے مطابق ’اس سے کچھ نقصان ہوا، تین اموات ہوئیں اور کچھ لوگوں کو معمولی زخم آئے۔‘

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیپٹل ہل پر 8 ارکان کانگریس کو بریفنگ میں کہا کہ ایران پر اسرائیل حملہ کرنے والا تھا، جواب میں امریکا کے نشانہ بننے کا خدشہ تھا۔  اگر دفاعی رویہ اپنایا جاتا تو امریکا کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا۔رکن کانگریس جواکھم کاسترو نے کہا کہ ایران پر حملے کیلئے اکسا کر اسرائیل نے امریکا کو خطرے میں ڈالا، اسرائیل کو روکنے کے بجائے ٹرمپ انتظامیہ جنگ میں شریک ہوگئی۔

بلومبرگ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر نے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے میں مدد کریں، امارات اور قطر ایک وسیع اتحاد بنانا چاہتے ہیں، تاکہ تنازع کا فوری سفارتی حل نکالا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتے ہیں، اور ایسا حل چاہتے ہیں جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے۔

سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ’ایرانی حملے‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’تمام بین الاقوامی روایات اور قوانین کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔ منگل کو سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’اس ایرانی غیراخلاقی رویے کا دُہرایا جانا اس خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل دے گا۔‘ ایرانی حکام کو معلوم ہے کہ سعودی عرب نے واضح کیا تھا کہ اس کی زمینی اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اپنی ’سکیورٹی، علاقائی تحفظ، شہریوں کے تحفظ اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتی ہے، جس میں جارحیت کو جواب دینا بھی شامل ہے۔‘