کیا امریکہ کو ایران میں مرضی کا لیڈر مل گیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں  جنگ ختم کرنے کے لیے کسی ’عذر‘ کی تلاش میں ہیں تاکہ وہ اعلان کرسکیں کہ ان کا ایران مشن کامیاب ہوگیا۔   صدر ٹرمپ نے آج  ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی  کی قیادت پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ’بہتر ہوگا کہ  ایران کے اندر سے ہی کوئی شخص اقتدار سنبھالے‘۔

تو کیا صدر ٹرمپ کو ایران میں ایسا ’معتدل اور قابل قبول ‘لیڈر مل چکا ہے جیسا وینزویلا میں  صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز کی صورت میں مل گیا تھا؟  جو امریکی شرائط پر اقتدار سنبھالنے پر راضی ہوگئی تھیں  لیکن میں اقتدار کا ڈھانچہ برقرار رہا تھا۔   بظاہر ایران پر حملہ کے وقت کسی متبادل لیڈر کی تلاش کو اہم   نہیں سمجھا گیا تھا۔ کیوں کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو یقین دلایا تھا کہ  سپریم لیڈر علی خامنہ ای  مارے گئے تو ایرانی عوام  خود ہی موجودہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور تہران میں اسرائیل اور امریکہ کی خواہش کے  مطابق تبدیلی رونما ہوجائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ انٹیلی جنس معلومات  کی بنیاد پر جب یہ یقین کرلیا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای  کہاں ہوں گے تو ایران پر طے شدہ وقت سے پہلے ہی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دعویٰ تو یہی کیا جاتا ہے کہ  یہ حملہ امریکی دفاع کے لیے ضروری تھا لیکن  ٹرمپ حکومت کسی کویہ یقین دلانے  میں کامیاب نہیں ہوئی ہے کہ ایران ، امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا۔ حتی کہ امریکی عوام بھی اس جنگ کے شدید مخالف ہیں ۔اور ایک حالیہ جائزے کے مطابق 60 فیصد لوگوں نے  حملہ کی مخالفت کی ہے۔ جبکہ اسی جائزہ میں صرف 12 فیصد لوگوں نے صدر کی طرف سے ایران پر حملہ کرنے کے فیصلہ کودرست قرار دیا ہے۔ صدر کو اقتدار میں لانے والی ’ماگا تحریک‘ کے سرکردہ لیڈر بھی صدر کی جنگ جوئی کو انتخابی وعدوں کی خلاف ورزی اور  امریکی مفاد کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔  اسی لیے صدر ٹرمپ کو اندیشہ ہے کہ اگر  ایران کی جنگ طویل ہوئی تو اس کی عوامی ناپسندیدگی میں اضافہ ہوگا اور اس سال نومبر کے مڈٹرم انتخابات پر اس رجحان کا  گہرا اثر مرتب ہوسکتا ہے۔

گو کہ ٹرمپ اور ان کے نمائیندے  یہی دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب  تک اہداف حاصل نہیں  کرلیے جاتے۔ لیکن آج وائٹ ہاؤس میں  جرمن چانسلر کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ  ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے‘۔   اس دعوے کو   گزشتہ روز وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ کے اس دعوے کی روشنی میں دیکھا جائے تو  یوں  لگے کا کہ امریکہ حملہ کے اہداف حاصل کرچکا ہے اور کسی بھی  وقت جنگ کے خاتمہ کا اعلان کرسکتا ہے۔ ہیگ سیتھ کا کہنا تھا کہ’  ٹرمپ حکومت  نے جمہوریت یا نظام تبدیل کرنے کے لیے ایران پر حملہ نہیں کیا بلکہ ہم ایران کی جوہری و میزائل صلاحیت، بحریہ اور عسکری انفرا اسٹرکچر تباہ کرنا چاہتے ہیں‘۔ جب صدر ٹرمپ اب واضح کررہے ہیں کہ ایران میں سب کچھ تباہ ہوچکا ہے تو امریکی نقطہ نظر سے بھی  اس جنگ کا کوئی جواز  باقی نہیں رہتا۔

تاہم  یوں لگتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ  ای کی ہلاکت کے باوجود ایران میں عوامی انقلاب کے آثار پیدا نہ ہونے کے بعد اب امریکہ کو شدت سے کسی ایسے لیڈر کی تلاش ہے جو موجودہ نظام ہی کا حصہ ہو لیکن جس کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ  کرسکیں کہ  اس شخص کی قیادت  میں ایران،  امریکہ کے  ساتھ مل کر چلے گا اور اس کی خواہش کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔  جنوری کے شروع میں وینزویلا میں فوجی کارروائی  کے بعد صدر مادرو کو اغوا کرنے کے بعد ایسا ہی انتظام دیکھنے میں آیا ہے۔ نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے صدر مادورو کی دیرینہ ساتھی ہونے کے باوجود یا تو نظام بچانے کے لیے یا کسی درپردہ سمجھوتہ کے نتیجہ میں امریکی شرائط مان کر حکومت سنبھالنے کا  فیصلہ کیا۔ اگرچہ وینزویلا کی سپریم کورٹ  نکولس مادورو کو ہی صدر تسلیم کرتی ہے اور نائب صدر کو عبوری طور سے صدارتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔   اس انتظام سے یہ واضح ہؤا ہے کہ  وینزویلا  کا نظام  اعلیٰ ترین سطح پر کمپرومائز ہو چکا   تھا۔

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی ان کے دفتر میں ہی ہلاکت اور وقت اور مقام کے بارے میں درست معلومات کے علاوہ موت کے بعد ان کی تصاویر اسرائیل اور امریکہ پہنچنے کے واقع سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایرانی حکومتی ڈھانچے میں اسرائیلی و امریکی ایجنٹ بہت اعلیٰ عہدوں پر موجود ہوسکتے ہیں۔ تاہم ایرانی نظام میں کسی ایک فرد کو طاقت ملنے کے مراحل طے ہیں اور سپریم  لیڈر بننے والے شخص کو ایک طرف مذہبی قیادت میں اثر و رسوخ حاصل ہونا چاہئے تو اس کے ساتھ ہی اسے پاسداران انقلاب کا اعتماد بھی حاصل ہونا چاہئے۔    فوری طور پر کوئی ایسا لیڈر سامنے نہیں جو دعوے سے طاقت کے سب مراکز کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔  فوری طور سے آیت اللہ  علی رضا عرافی کو عبوری  سپریم  لیڈر بنایا گیا ہے لیکن وہ صدر اور چیف جسٹس کے ساتھ مل کر سہ رکنی کمیٹی کے ذریعے کام کریں گے۔ ایسے میں کسی ایسے لیڈر کا سامنے آنا جو بیک وقت ٹرمپ، ایرانی  مذہبی  قیادت اور  پاسداران کے لیے قابل قبول ہو ، سہل نہیں ہوگا۔

تاہم ٹرمپ اور ان کے ترجمانوں نے ایسے اشارے دینے شروع کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خود کہا  ہے کہ  ان کی نگاہ میں مستقبل کے لیڈر کے طور پر چند نام تھے لیکن وہ سب مارے جاچکے ہیں۔ دوسری طرف  نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں انہوں نے   ایسے تین لوگوں کے بارے میں بات کی جو ممکنہ طور پر ایران کی قیادت سنبھال کر امریکہ کے ساتھ مل کر چل سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ معاملات طے ہونے سے پہلے وہ کسی کا نام نہیں لینا چاہتے۔ اس دوران سی آئی اے کے سابق سربراہ اور امریکی فوج کے سابق جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے  کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ ایران کے اندر سے ہی کسی ایسے معتدل مزاج لیڈر کو متبادل کے طور پر قبول کرسکتے ہیں جو امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر راضی ہو‘۔  البتہ نئے لیڈر کو امریکہ کی شرائط ماننا ہوں گی۔ 

اس پس منظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ نے ایرانی نظام کے اندر اپنی مرضی کا  لیڈر لانے  لیے بساط بچھائی ہوئی ہے؟ یا ٹرمپ اور ان کے حامی  ایسے دعوے کرکے  ایرانی لیڈروں کو یہ پیغام  دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر  کوئی معتدل مزاج لیڈر سامنے آجائے جو براہ راست امریکہ کو چیلنج نہ کرے تو اسے ٹرپ اپنی کامیابی تصور کرکے جنگ روک دیں گے۔ موجودہ حالات میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ اس جنگ کے دو فریق اسرائیل اور امریکہ، ایران کو تباہ کرنے کے مقصد میں اکٹھے ہونے کے  باوجود مستقبل کی ایرانی قیادت کے بارے  میں متفق نہیں ہیں۔ اسرائیل سابق ولی عہد علی رضا کو  اقتدار دلانا چاہتا ہے جبکہ ٹرمپ کی مجبوری یہ ہے کہ وہ  کسی بھی عذر پر  جلد جنگ  بند کرنا چاہیں گے۔ ورنہ    امریکی رائے عامہ   میں ان کی مخالفت شدید ہوتی چلی جائے گی۔