روس، ترکی اور چین کی طرف سے ثالثی کی پیش کش

  • جمعرات 05 / مارچ / 2026

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور اس دوران دونوں جانب سے شدید جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

بی بی سی پشتو کے مطابق گزشتہ شب بھی مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار اور پکتیا جبکہ جنوبی قندھار اور زابل میں درۂ خیبر لائن کے قریب طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سرحد کے دونوں اطراف رہنے والوں میں شدید بے یقینی اور خوف دیکھا جا رہا ہے۔

اس دوران  روس، ترکی اور چین نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے میں جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے تھے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب پاکستان میں ’جوابی کارروائیوں‘ سے متعلق افغان وزارت دفاع کے بیان میں ڈیورنڈ لائن کے اطراف پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

افغان وزارتِ دفاع وزارت نے دعویٰ کیا کہ لڑائی کے آغاز سے اب تک متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پاکستانی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان انتہائی محتاط رہ کر صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘