بحر ہند میں امریکی حملہ کا نشانہ والا ایرانی جہاز، بھارت کا مہمان تھا

  • جمعرات 05 / مارچ / 2026

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سری لنکا کے قریب ایرانی بحری جہاز کے تباہ ہونے سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو اس پر پچھتانا پڑے گا۔

عباس عراقچی نے ایرانی جہاز کو ’انڈین بحریہ کا مہمان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ’بغیر کسی وارننگ‘ کے اسے تباہ کیا۔ یاد رہے کہ اس ایرانی جنگی جہاز نے گزشتہ دنوں انڈیا کی میزبانی میں ہونے والی ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026‘ نامی فوجی مشق میں حصہ لیا تھا۔

سری لنکن حکام نے گزشتہ روز اپنی سمندری حدود کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس دینا سے 32 افراد کو ریسکیو کرنے اور 80 لاشیں نکالنے کی تصدیق کی تھی۔

دریں اثنا ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق اس کی بحریہ نے جمعرات کی صبح خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ بیان کے مطابق جہاز کو ’خلیج فارس کے شمال میں ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس اس امریکی ٹینکر کو اب بھی آگ لگی ہوئی ہے‘۔  یہ بات پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سرکاری ٹیلی وژن کو بتائی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ انہیں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے جو خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔

برطانیہ کی یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن نے اس سے قبل کہا تھا کہ جمعرات کی صبح کویت کے ساحل کے قریب خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق ’لنگر انداز ایک ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ انہوں نے جہاز کے بائیں جانب ایک زور دار دھماکہ سنا جس کے بعد ایک چھوٹی کشتی وہاں سے دور جاتی ہوئی نظر آئی۔

ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ جنگ آج چھٹے روز میں داخل ہو چکی ہے اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کی صبح ایران نے اس کی جانب متعدد میزائل داغے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیل کے فضائی حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پہلے دو دن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ افراد تہران چھوڑ گئے۔ ادارے کے مطابق لبنان میں 58 ہزار افراد اجتماعی مقامات پر پناہ لے رہے ہیں جبکہ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 80 ہزار سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں تقریباً 20 ہزار بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔ قطر نے اپنے دارالحکومت دوحہ میں امریکی سفارتخانے کے قریب رہائش پذیر افراد کا انخلا شروع کر دیا ہے۔