مظلوم ایرانی عوام کا دکھ
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 05 / مارچ / 2026
افسوس ایران میں بالآخر وہی المیہ وقوع پذیرہوگیا ہے جس کا خدشہ یہ درویش مدت سے بیان کرتا چلا آ رہا ہے۔ امام خمینی کی گدی پر بیٹھے ایرانی ولایتِ فقیہ کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنائی سمیت ایران کی تقریباً پوری ٹاپ قیادت امریکی ٹارگیٹڈ حملے میں اڑا دی گئی ہے یا جان بحق ہو گئی ہے۔
جس کا اہل پاکستان بالخصوص دنیا بھر کی شیعہ کمیونٹی کو بےحد دکھ، کرب اور افسوس ہے۔ ان سب کے لیے یہ ایک طرح سے دوسری کربلا ہے، جو لوگ شیعہ دشمنی یا امریکی محبت وحمایت میں جشن منا رہے ہیں، ان کی خدمت میں بھی گزارش ہے کہ دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا۔ اب تک کے انسانی تجربے وتحقیق کے مطابق بلا شبہ جمہوریت سے بہتر کوئی سیاسی نظام اس دنیا میں نہیں ہے۔ جمہوریت کا بڑا فیضان یہ ہے کہ تگڑی سے تگڑی حکمرانی کو بھی عوام الناس کے سامنے سرنگوں ہونا پڑتا ہے۔ پرامن انتقالِ اقتدار انسانیت کے لیے کسی بلیسنگ یا نعمت سے کم نہیں۔ بصورت دیگر ہم اپنی اسلامی ہسٹری میں ہی یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری پوری چودہ صدیاں انتقالِ اقتدار کے نام پر قتل و غارت گری اور خون ریزی سے لبریز رہی ہیں۔
یہ بلا شبہ مغربی تہذیب کا پوری انسانیت بالخصوص ہماری مسلم امہ پر احسانِ عظیم ہے۔ اگرچہ ہم لوگ آج بھی اس سے کماحقہ مستفید نہیں ہو رہے۔ ہمارے ستاون مسلم ممالک میں کتنے ہیں جہاں آج بھی سچی جمہوریت کا چلن ہے؟ قرون اولی سے تاحال جو ایک مرتبہ کرسی پر بیٹھتا ہے پھر جیتے جی اس کا دل اترنے کو نہیں مانتا۔ اس تحسین کے ساتھ ہی جمہوریت کی ایک خامی بھی تسلیم کرنی پڑے گی۔ بعض اوقات آمر ذہنیت، مکار اور چرب زبان اپنی ہوشیاری چالاکی سے عوام کو شیشے میں اتار لیتے ہیں۔ عوام ان کے ظاہری نعروں سے ان کے دھوکے میں آ کر انہیں چن لیتے ہیں جو آگے چل کر ٹرمپ جیسے ڈکٹیٹر بنتے ہیں۔ البتہ دوسری طرف یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ مخصوص مدت کے بعد جمہوریت ہی انہیں اتار بھی پھنکتی ہے۔ عوام کو سڑکوں پر رونے پیٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ نے ظلم و جبر کے خاتمے کا نام لیتے ہوئے ایران میں جو شدید کارروائی کی ہے، اسے امریکی عوام کی بھی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اور یہ ایرانی عوام کے لیے بھی اس نوع کے ثمرات نہیں لائے گی جس کے سپنے مہذب دنیا کو دکھائے جا رہے ہیں۔ ایرانی ولایت فقیہ اپنی عوام دشمن جنگی و جبری پالیسیوں کی وجہ سے ان دنوں عدم مقبولیت کی آخری حدود کو چھو رہی تھی۔ ایرانی عوام بار بار ان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اٹھ رہے تھے۔ جنہیں ایرانی رجیم مزید جبر و استبداد کے ساتھ کچل رہی تھی۔ مغربی سیٹلائٹ ذرائع کی رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومتی جبر کے خلاف حالیہ مظاہروں میں تیس یا بتیس ہزار سے زائد مظاہرین اسلامی پاسداران کی سیدھی گولیوں سے جلیانوالہ باغ کی طرح مارے گئے ہیں۔ خود ایرانی رجیم کی اپنی رپورٹس کے مطابق مرنے والے احتجاجی مظاہرین کی تعداد تین یا پانچ ہزار سے زائد بتائی جا رہی تھی۔
لیکن مسٹر ٹرمپ آپ نے جو احمقانہ اقدام اٹھایا ہے اس کی بدولت اس جابر ایرانی رجیم یا ولایت فقیہ کو ایک طرح سے نئی زندگی مل گئی ہے۔ آج پورے ایران میں اس کے بدترین مخالفین میں بھی یہ تاب نہیں کہ وہ اس رجیم کے خلاف سڑکوں پر نکل سکیں۔ الٹے اس کے ہمدردوں یا حمایتیوں کا جوش و خروش کئی گناہ بڑھ گیا ہے۔ درویش کا برسوں سے استدلال ہے کہ کسی بھی قوم کا گند اس کے اپنے لوگوں کو صاف کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر صفائی والے بیرون سے آئیں گے تو نتیجتاً قومیتی تعصب بھڑک اٹھے گا۔ پھر اس قوم کے اپنے ناپسندیدہ ڈکٹیٹر اس کے ہیروز بن جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر کی شیعہ کمیونٹی اپنے ڈکٹیٹرز کو اپنے نجات دہندہ،مرجع و ماواو مولا خیال کرتے ہوئے ان کی عقیدت میں ابل رہے ہیں۔ ان کی اموات پر سینہ کوبی کر رہے ہیں۔ البتہ ان عقیدتمندان کی خدمت میں درویش کی گزارش ہے کہ وہ اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوۓ قانون کو ہاتھ میں لینے اور تشدد و توڑ پھوڑ سے باز رہیں۔ بالخصوص پاکستان میں جس طرح امریکی سفارت خانوں یا کونصلیٹس پر حملے ہوئے ہیں اکیس یا اکتیس اموات ہوئی ہیں، اپنی املاک کو جتنا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، یہ ایسے ہی افسوس ناک ہے جیسے 1979 میں حرم پر قبضے کا الزام لگاتے ہوۓ امریکی ایمبیسی کو آگ لگائی گئی تھی۔
گلگت بلتستان جیسے پرامن علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر جلا دینا کہاں کی عقیدت ہے؟ حکومت پاکستان کا ایران کے حوالے سے موقف تو ویسے ہی خاصا فراغدلانہ، معتدلانہ و حقیقت پسندانہ ہے، جس کی خود ایران نے کئی مواقع پر تحسین کی ہے۔ ہم نے نہ صرف ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے بلکہ اپنے دوست خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اومان اور جارڈن پر روا رکھے جانے والے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی بھی اسی طرح مذمت کی ہے۔ سعودی عرب اور ان دیگر عرب سنی ممالک کا یہ مؤقف قطعی واضح ہے کہ ہمارے ممالک میں امریکی اڈے موجود ہونے کے باوجود جب یہاں سے ایران پر کوئی حملہ نہیں ہوا تو پھر ایرانی رجیم ہماری ساورنٹی وخودمختاری پر اس قدر اندھا دھند حملے کیوں کر رہی ہے؟ ہماری سول آبادیوں پر آگ کیوں برسائی جا رہی ہے؟
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری تک کو ٹارگٹ کیا ہے۔ آخر ایران ان سنی ممالک کو اپنا دشمن بنانے پر کیوں تُلا بیٹھا ہے؟ ایرانی دوسرے درجے کی قیادت کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ ساری دنیا کو اپنا دشمن بنا کر وہ امریکا و اسرائیل سے کیسے لڑ سکتے ہیں؟ اب انہوں نے جس طرح برطانوی اہداف کو ٹارگٹ کیا ہے، یہ تو کھلم کھلا نیٹو کو چیلنج کرنے والی بات ہے۔ جبکہ روس پہلے ہی یوکرین میں پھنسا ہوا ہے۔ چین کو آبنائے ہرمز میں اپنے خام تیل کی فکر ہے کہ کہیں اس کی سپلائی بند ہونے سے اس کے لیے مسائل پیدا نہ ہو جائیں۔
معتدل ایرانی قیادت، بالخصوص پریزیڈنٹ مسعود پزشکیان جیسے ہوشمند لیڈران کو چاہیے کہ وہ ان نازک ترین حالات میں آگے بڑھ کر قائدانہ رول ادا کرتے ہوئے ولایتِ فقیہ کی جنونی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ پورے ایران میں نو کروڑ ایرانی عوام اور ان کے ہیومن رائٹس سے زیادہ کوئی شخصیت، کوئی نظریہ، کوئی نعرہ، مقدس نہیں ہے۔ ایرانی عوام کی زندگیوں اور خوشیوں سے آگے کوئی دوسری چیز نہیں۔ آپ لوگوں نے مرگ مرگ کے لاحاصل اور نفرت انگیز نعروں سے کیا حاصل کر لیاہے؟ ” مرگ بر امریکا” اور “مرگ بر اسرائیل” کے شور و غوغا سے کیا امریکا و اسرائیل کی موت ہو گئی ہے؟ یا وہ دن بدن مزید طاقتور بنتا جا رہا ہے؟ ایک متشدد ایرانی لیدڑ احمدی نژاد منصبِ صدارت پر بیٹھے ہوئے جب یہ فرما رہے تھے کہ “ہم دنیا کے نقشے سے اسرائیل کا وجود مٹا دیں گے” اس کے بعد آپ امریکا یا مغرب سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ آپ کو ایٹمی طاقت بننے دیں گے؟
آپ لوگوں نے اسی جنونی اپروچ کے تحت عظیم ایرانی قوم کے سیال سونے، معدنیات گیسوں اور بڑے بڑے وسائل کو اسلحہ بندیوں، ایٹم اور میزائل سازی کے ساتھ ساتھ عرب ممالک میں اپنی شیعہ پراکسیز کی ملیٹینسی میں جھونک رکھا ہے۔ قریباً نصف صدی پر محیط نفرت کی اس جنونی گیم سے امریکا تباہ کیا جا سکاہے نہ اسرائیل سے ایک انچ زمین چھین سکے ہیں۔ البتہ اپنے کروڑوں عوام کا معاشی کچومر ضرور نکال کر رکھ دیا ہے۔ امیر ترین ایرانی قوم کو اس قدر غربت و افلاس میں مبتلا کر ڈالا ہے کہ ایک امریکی ڈالر آج انہیں پندرہ لاکھ ایرانی ریالز میں خریدنا پڑ رہا ہے۔ کبھی کسی نے سوچا انہیں دال روٹی کتنے میں پڑ رہی ہے؟ مذہبی عقیدت، اشتعال اور جنون پھیلا کر آپ نے اگرچہ نو کروڑ عوام میں سے تیس پینتیس لاکھ مذہبی جنونی اپنے ساتھ جوڑ رکھے ہیں جو مخصوص لباس میں سڑکوں پر نکل کر آپ کے لیے جنونی وخوشامدی نعرے بازی کرتے ہیں لیکن جبر سے ڈرے اور سہمے ہوئے کروڑوں عام ایرانی عوام جو مشکل ترین حالات میں بھی امریکا یا آپ کی گولیوں سے مرنا نہیں چاہتے کیونکہ وہ زندگی سے محبت رکھتے ہیں وہ مناسب وقت کی انتظار میں گھروں کے اندر خوف سے چھپے اور دبکے بیٹھے ہیں، کوئی ہے جو ان کے دکھوں کا بھی سوچے؟