سچ کی موت، قیاس آرائیوں کاطوفان
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 05 / مارچ / 2026
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیاہے۔ مشن کا کہنا ہے کہ ایران بین الاقوامی قانون کا احترام کرتا ہے اور جہاز رانی کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم اس علاقے میں امریکی جارحیت کی وجہ سے ضرور مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب میں ایران کے سفیرعلی رضا عنائتی نے تردید کی ہے ایران نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنایا تھا۔
ان دو وضاحتوں کے بعد اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران کیسے سچ کا گلا گھونٹا جارہا ہے اور حقائق چھپانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملہ میں کسی ایک فریق کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ہر جنگ میں سچ چھپانے اور دھوکہ دینے کا طریقہ اختیار کیاجاتا ہے اور انہیں جنگی حربے سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس جنگ میں صرف متحارب ممالک ہی گمراہ کن خبریں پھیلانے اور دشمن کو دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کررہے بلکہ سوشل میڈیا کی سہولت کی وجہ سے عام لوگوں نے بھی اس مہم جوئی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا ہے۔ حالانکہ ایسی خبریں جنہیں بظاہر کسی ایک خاص فریق کو فائدہ پہنچانے کے لیے پھیلایا جاتا ہے، درحقیقت نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز بند کرنے اور ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی اطلاعات اسی زمرے میں آتی ہیں۔
جنگ اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ جاری ہے۔ اپنی بساط کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ، ایران کو ہر قسم کا نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب عسکری ٹھکانوں کے علاوہ ریڈیو و ٹیلی ویژن اسٹیشنوں یا خبررساں ایجنسیوں کے اہداف بھی نشانے پر ہیں۔ ان میں عام طور سے شہری ہی نشانہ بنتے ہیں جنہیں مارنا جنگی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ لیکن جنگ کے دوارن ہر فریقی یہی واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کا اخلاقی معیار بلند ہے جبکہ دوسرا ہر قسم کا ظلم کا روا رکھ رہا ہے۔ جیسے اسرائیل مسلسل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ایرانی میزائلوں کا نشانہ شہری ٹھکانے ہوتے ہیں۔ جبکہ ایرانی حکام بتا رہے ہیں کہ اسرائیلی و امریکی بمباری میں متعدد شہری ٹھکانے بھی شامل ہیں۔
اس جنگ کا کوئی نتیجہ فی الوقت دکھائی نہیں دیتا۔ آیت اللہ علی خامنہ آئی کو ہلاک کرکے تہران میں حکومت تبدیل کرنے کا خواب پورا نہ ہونے کے بعد اب امریکی صدر ٹرمپ نے دو طرح سے دباؤ میں اضافہ شروع کیا ہے۔ ایک طرف کرد علیحدگی پسندوں کو کمک پہنچائی جارہی ہے اور اطلاعات کے مطابق امریکی فضائیہ ان کی پیش رفت میں ائر کور فراہم کررہی ہے۔ تاکہ اگر امریکہ، ایران میں اپنی مرضی کی حکومت لانے میں کامیاب نہیں ہوتا تو مختلف گروہوں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے انتشار پیدا کیا جائے اور خانہ جنگی کی صورت پیدا ہو۔ امریکہ و اسرائیل کو ایسی صورت حال سے کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن خانہ جنگی کی صورت میں ایران ہی نہیں بلکہ پورا خطہ بحران کا شکار ہوگا۔ آمریت سے نجات اور آزادی دلانے کے نام پر عراق، افغانستان، لیبیا اور شام میں ایسی صورت حال پیدا کی جاچکی ہے۔ یہ سارے خطے اس وقت شدید توڑ پھوڑ کا شکار ہیں۔ عراق اور لیبیا جیسے ممالک کے پاس تیل کی آمدنی سے حاصل ہونے والے قیمتی وسائل بھی موجود ہیں لیکن داخلی کشمکش کی صورت حال میں یہ وسائل عوام کی بجائے برسر پیکار گروہوں کی ضرورتیں پوری کرنے پر صرف ہورہے ہیں۔
ایرانی عوام کے سامنے ماضی قریب کی یہ ساری مثالیں موجود ہیں۔ تہران میں برسر اقتدار گروہ کو بھی ان خطرات کا اندازہ ہونا چاہئے۔ جنگ سے ہونے والی تباہی و بربادی کا شاید ازالہ ہوجائے لیکن اگر ملک توڑ دیاگیا اور اس کے مختلف حصوں پر مختلف گروہوں نے قبضہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تو یہ صرف ایران کی تہذیب و ثقافت اور قومی ورثے کے لیے المناک نہیں ہوگا بلکہ ہمسایہ میں موجود پاکستان اور ترکیہ کے لیے بھی شدید تشویش کا سبب ہوگا۔ اس لیے ایک طرف ایرانی لیڈروں کو ہوشمندی سے جنگ کے دوران سب گروہوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن ایران کی موجودہ حکومت کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے والے ایسے عناصر کو بھی ہوشمندی سے کام لینا چاہئے جو ایران اور مسلمان ممالک کی بہتری چاہتے ہیں۔
خاص طور سے پاکستان میں ایران کے لیے ہمدردی دکھانےکے جو طریقے اختیار کیے جاررہے ہیں ، ان سے فائدہ کی بجائے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایران پر امریکی حملے کا سب سے اہم اور بڑا سبق یہ ہونا چاہئے کہ ہر قوم باہمی اتحاد پر زور دے اور ہر سطح پر اہم قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر امریکی قونصل خانوں اور اقوام متحدہ کے دفاتر پر حملے کرنے اور انہیں ایران سے یک جہتی کا نام دینے والے عناصر کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسی حرکتوں سے ایران کی مدد تو نہیں ہوسکتی البتہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خدشات میں اضافہ ہوتا ہے۔ جمعہ کو ایک بار پھر احتجاج و مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان میں ایسے مظاہروں میں بیس سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ پر جوش قیادت نے اگر ایک بار پھر مشتعل اور سوگوار ہجوم کو توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ پر آمادہ کیا تو اس سے نہ تو ایران کی مدد ہوگی اور نہ ہی موجودہ حکومت کمزور ہوسکے گی۔ البتہ پاکستان ضرور کمزور ہوگا۔ پاکستان میں آباد کسی بھی گروہ کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنا درست طریقہ نہیں ہے۔ یہ کام خواہ کسی عقیدے کے نام پر کیا جائے یا سیاسی اختلاف رائے اس کی بنیاد ہو، اس سے صرف پاکستان اور اس کے لوگوں کا نقصان ہوگا۔
سوشل میڈیا پر گپیں ہانکنے والوں کے علاوہ اب بظاہر سنجیدہ تجزیہ نگار اور مبصرین بھی یہ سوال اٹھانا اور اس پر بحث کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ کیا ایران کے بعد امریکہ پاکستان کو نشانہ بنائے گا۔ ایسے مباحث بے بنیاد اورغیر ضروری ہیں اور عوام میں بے وجہ سراسیمگی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کو دنیا کے دوسرے خطوں میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا البتہ ان سے سبق سیکھتے ہوئے پیش بندی کے طور پر ضروری اقدامات کرنا بے حد اہم ہے۔ ایران جنگ کا سب سے اہم سبق تو یہی ہے قومی یک جہتی کے لیے ہر سطح پر کام کیا جائے۔
اس کے علاوہ اس بارے میں آگاہی ہونی چاہئے کہ مسلم امت نام کا کوئی تصور موجود نہیں ہے ۔ ایران سمیت دنیا کا ہر ملک اپنے قومی مفادات کی جد و جہد کرتا ہے۔ ایران کو اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جس محاذ آرائی کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی ملا رجیم نے نظریاتی تقسیم کی بنیاد پر خود کو ایک خاص مسلک کا نمائیندہ بنا کر علاقے کے تمام ممالک کے لیے چیلنج بنانے کی کوشش کی۔ اس کے پراکسی گروہوں نے ایک طرف اسرائیل اور امریکی مفادات کو چیلنج کیا تو دوسری طرف سنی عرب ممالک کو نشانے پر لیاگیا ۔ بظاہر ان ممالک کو کمزور کرکے امریکہ کو نقصان پہنچانا مقصود تھا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ حکمت عملی خود ایرانی ریاست کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوئی۔
ایسے میں اگر پاکستان کی کوئی سیاسی پارٹی یا مذہبی گروہ اس جنگ کو ایک بار پھر اسلام بمقابلہ کفر کی جنگ بنا کر پیش کرتا ہے تو وہ نہ مسلمانوں کا دوست ہے اور نہ ہی اسے پاکستان کا ہمدرد کہا جاسکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایران میں امریکی جارحیت کا موازنہ افغانستان کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں سے بھی کیا جارہا ہے۔ حالانکہ امریکی جنگ استعماری طاقت منوانے کی کوشش ہے جبکہ پاکستان افغانستان سے دہشت گردی کی روک تھام کی خواہش رکھتا ہے۔ امریکہ کی طرح پاکستان نہ تو کابل میں حکومت تبدیل کرنے کی تجاویز پیش کررہا ہے اور نہ ہی طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت اور مفاہمت سے انکار کیا گیا ہے۔ البتہ کئی سال تک شدید دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بعد اب یہ واضح مطالبہ کیا جارہا ہے کہ کابل حکومت پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی سرکوبی میں معاونت کرے اور اپنی سرزمین پر انہیں متحرک ہونے سے روکے۔
امریکی صدر ٹرمپ دوسرے ہتھکنڈے کے طور پر تہران میں من مانی حکومت قائم کرانا چاہتے ہیں۔ وہ اس خواہش کے اظہار میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور رہبر اعلیٰ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔ اور مطالبہ کیا ہے کہ’مُجھے ایران کے اگلے سربراہ کے انتخابی عمل میں شامل کرنا چاہیے، جیسے وینزویلا میں ڈیلسی روڈریگز کے معاملے میں شامل کیا گیا تھا‘۔ ایران پر جنگ مسلط کرنے کا امریکی مقصد مرضی کی حکومت یا قیادت لانا تھا۔ حکومت تبدیل کرنے میں ناکامی کے بعد اب مرضی کا قائد لانے کی خواہش کا برملا اظہار کیا جارہا ہے۔
یہ صورت حال اہل پاکستان کے علاوہ اپنی خود مختاری کی حفاظت کا دعویٰ کرنے والے ہر ملک کے لیے چشم کشا ہونی چاہئے ۔ بصورت دیگر ایران کا انجام سبق آموز تو ہے۔ سامنے رونما ہونے والے واقعات کو قومی حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے پیش نظر رکھنا اہم ہے۔