امریکی حملوں میں شدت پیدا ہوگی، زمینی فوج بھیجنے سے گریز
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران کے اندر تقریباً 200 اہداف پر حملے کیے ہیں، جس سے تہران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
بریڈ کوپر نے مزید کہا کہ امریکی فوج اب ایران کے میزائل پروڈکشن کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ کچھ دیر قبل ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے ایرانی میزائل لانچروں اور انفراسٹرکچر کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی تفصیل بتائی۔
سینٹ کام کے کمانڈر نے کہا کہ صرف پچھلے 72 گھنٹوں میں، امریکی بمبار طیاروں نے ایران کے اندر گہرائی میں تقریباً 200 اہداف کو نشانہ بنایا ہے، بشمول تہران کے ارد گرد، اور صرف پچھلے ایک گھنٹے میں بی 2 بمباروں نے گہرے سمندر میں بیلسٹک میزائل لانچ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنانے والے درجنوں 900 کلو وزنی بم گرائے ہیں۔
بریڈ کوپر نے مزید کہا کہ ہم نے ایران کی ایرو سپیس کمانڈ کو بھی نشانہ بنایا۔ ایک ایسا عمل جو ایران کی امریکہ کو دھمکی دینے کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے آپریشن کو دیکھیں تو ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں میں پہلے دن کے مقابلے میں 90 فیصد اور اس کے ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ تل ابیب پر ڈرونز کی مدد سے حملہ بھی کیا ہے۔
دریں اثنا ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن ’وعدہ صادق 4‘ کی 22 ویں لہر شروع کر دی گئی ہے جس میں خرمشہر 4، خیبر اور فتح میزائلوں کی بڑی تعداد اسرائیل پر داغی گئی ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی فوج نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’دشمن کے اہم مقامات کے خلاف حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جنوب مغربی سرحدی علاقے کے قریب ایک امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی افواج نے کہا ہے کہ اس نے رات بھر بیروت پر ’وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے کمانڈ مراکز‘ اور ایک ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا جہاں ڈرون ذخیرہ کیے گئے تھے جو اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ یہ سب دارالحکومت کے ضاحیہ علاقے میں ہوا۔ ایک بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ’اسرائیل کے شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
گزشتہ رات امریکی سینٹرل کمانڈ میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، سینٹرل کمانڈ ایڈمرل بریڈ کوپر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر بریفنگ دی۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’ایران اور تہران پر امریکی حملے نمایاں طور پر بڑھنے والے ہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اس وقت امریکی زمینی فوج بھیجنا وقت کا ضیاع ہوگا اور یہ کوئی ایسا اقدام نہیں جس پر وہ فی الحال غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے جمعرات کو این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وقت کا ضیاع ہے۔ ایران نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ اپنی بحریہ کھو دی ہے۔ جو کچھ کھو سکتے تھے، وہ سب کھو دیا ہے‘۔
ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کو بھی ’بے کار تبصرہ‘ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران امریکی یا اسرائیلی زمینی حملے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کی موجودہ قیادت کا صفایا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول ’ہم چاہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک اچھا لیڈر ہو۔ ہمارے پاس کچھ لوگ ہیں جو اچھا کام کر سکتے ہیں۔‘ تاہم انہوں نے رضا شاہ پہلوی سمیت کسی نام کا ذکر نہیں کیا۔