ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، ایک عہد ساز شخصیت
- تحریر طارق محمود مرزا
- جمعہ 06 / مارچ / 2026
قوموں کی عظمت کا معیار ان کی فلک بوس عمارتیں، وسیع شاہراہیں یا شاندار بازار نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پتھر اور اینٹ سے بنی عمارتیں وقت کی گرد میں گم ہو جاتی ہیں، مگر علم و حکمت سے روشن کیے گئے چراغ صدیوں تک رہنمائی کرتے ہیں۔
کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ اس کے اہلِ علم، صاحبانِ فکر اور باکردار اساتذہ ہوتے ہیں۔ یہی لوگ قوموں کی فکری سمت متعین کرتے، تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھتے اور آنے والی نسلوں کو شعور کی روشنی عطا کرتے ہیں۔ عالم دراصل وہ معمار ہوتا ہے جو اینٹوں سے نہیں بلکہ افکار سے تعمیر کرتا ہے، ادیب وہ فنکار ہے جو لفظوں سے نہیں بلکہ دلوں سے مکالمہ کرتا ہے، اور استاد وہ چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کو منور کرتا ہے۔
ایسی ہی درخشاں شخصیات میں پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کا نام پوری آب و تاب سے سامنے آتا ہے۔ وہ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ علم، حکمت اور کردار کا ایک زندہ استعارہ تھے۔ میں جب ان کی زندگی پر غور کرتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ وہ واقعی ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ ایسا عہد جس میں علم کو وقار حاصل تھا، کتاب کو حرمت حاصل تھی اور استاد کو رہبر کا درجہ حاصل تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی شخصیت بلاشبہ ہمارے عہد کی اُن درخشاں علمی و ادبی شخصیات میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، تحقیقی ژرف نگاہی، تدریسی مہارت اور حبِّ وطن کے جذبے سے اردو ادب، اقبالیات اور قومی فکر کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ وہ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ ایک عہد، ایک دبستانِ فکر اور ایک مکمل علمی تحریک کا نام تھے۔ ان کی ذات میں معلم کی شفقت، محقق کی باریک بینی، شاعر کی حساسیت، ادیب کی لطافت، اسکاؤٹ کی تنظیمی روح اور ایک سچے پاکستانی کی غیرت و حمیت یکجا ہو گئی تھی۔
پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم 2 اکتوبر 1955 کو سرگودھا کی سرزمین پر پیدا ہوئے۔ شاہینوں کے شہر سرگودھا کی مٹی نے ہمیشہ علم و ادب کے چراغ روشن کیے ہیں، اور انہی چراغوں میں ایک تابندہ چراغ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بھی تھے۔ ابتدائی تعلیم سے ہی ان کی ذہانت، مطالعہ سے شغف اور علمی جستجو نمایاں تھی۔ انھوں نے اُردو، سیاسیات، اسلامیات اور تاریخ میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں، جو ان کی علمی وُسعت اور فکری تنوع کا ثبوت ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے اقبالیات میں ایم اے کیا اور پھر جامعہ پنجاب، لاہور سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ جامعہ پنجاب جیسے ممتاز تعلیمی ادارے سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنا ان کے تحقیقی وقار کا مظہر ہے۔ ان کا تحقیقی سفر محض ڈگری کے حصول تک محدود نہ رہا بلکہ انہوں نے عمر بھر علم کی شمع فروزاں رکھی۔
16 مارچ 1981 سے انہوں نے کالج میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور یکم اکتوبر 2015 کو گریڈ 20 میں ریٹائر ہوئے۔ اس طویل عرصے میں انہوں نے ہزاروں طلبہ کو علم و ادب کے زیور سے آراستہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ ان کا تدریسی انداز روایتی نہ تھا۔ وہ محض نصاب پڑھانے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ طلبہ میں سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے، کتاب بینی کا شوق جگاتے اور فکری خود اعتمادی پیدا کرتے تھے۔ انہوں نے کالج میں انعام کے طور پر کتاب دینے کی روایت قائم کی۔ ان کے نزدیک کتاب بہترین تحفہ تھی۔ وہ کہتے تھے کہ "کتابیں انقلاب کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔" طلبہ کو لائبریری سے جوڑنا، ادبی نشستیں منعقد کرنا اور نوجوانوں کو لکھنے کی ترغیب دینا ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ ان کی عمدہ اور شستہ اردو ان کے لیکچرز کو ایک ادبی رنگ عطا کرتی تھی۔ زبان پر قدرت، جملوں کی ساخت میں روانی اور اظہار میں شائستگی انہیں ممتاز استاد بناتی تھی۔
گورنمنٹ انبالہ مسلم کالج سرگودھا میں ان کی تدریسی خدمات کو آج بھی عقیدت سے یاد کیا جاتا ہے۔ میں نے خود کئی شاگردوں سے سنا کہ وہ محض استاد نہیں بلکہ ایک مربی، ایک رہبر اور ایک محسن تھے۔ ان کی کلاس میں ادب زندہ ہو جاتا تھا، اقبال بولنے لگتے تھے، تاریخ سانس لینے لگتی تھی اور زبان کی لطافتیں شعور میں اترتی چلی جاتیں۔ پروفیسر تبسم کی تصنیفی خدمات اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہیں۔ ان کی 155 ادبی اور 27 نصابی کتب منظر عام پر آئیں۔ یہ محض تعداد نہیں بلکہ فکری تنوع اور علمی وسعت کی علامت ہے۔ ان کی کتب اقبالیات، پاکستانیات، تنقید، تحقیق، سوانح عمری، ادبی تاریخ اور قومی نظریات جیسے موضوعات پر مشتمل ہیں۔
ڈاکٹر تبسم کا اسلوب شستہ، رواں اور علامتی تھا۔ وہ نہایت کثیر التصنیف ہونے کے باوجود عجلت کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ان کی تحریر میں فکری پختگی اور اسلوبی شائستگی نمایاں تھی۔ ان کی شاعری میں حب الوطنی، عشقِ رسول ﷺ اور قومی غیرت کا جذبہ نمایاں تھا۔ وہ ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے مضامین میں قومیت، نظریۂ پاکستان، ختمِ نبوت، ملی یکجہتی اور اخلاقی تعمیر جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ انھوں نے قائد اعظم محمد علی جناح، مولانا جلال الدین رومی اور فاطمہ جناح جیسی شخصیات پر بھی بصیرت افروز مضامین تحریر کیے۔
علامہ اقبالؒ پر ان کی 37 کتب اقبالیاتی ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کی شاعری، فلسفہ، سیاسی فکر اور ملی نظریات پر گہرے مطالعے پیش کیے۔ ان کی نمایاں کتب میں شامل ہیں: اقبال جو اقبال ہے، حیاتِ اقبال کا سفر، علامہ اقبال بحیثیت ادبی نقاد، فکرِ اقبال میں انسانی مسائل کا حل، فلسفۂ اقبال اور نیا پاکستان، اقبالیات بچوں کے لیے، کلامِ اقبال میں ممتاز شخصیات، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی بحیثیت اقبال شناس۔ ان کتب میں انہوں نے نہ صرف اقبال کی فکر کو عصری تناظر میں پیش کیا بلکہ اقبال شناسوں پر بھی تحقیقی کام کیا۔ ان کے نزدیک اقبال محض شاعر نہ تھے بلکہ ملتِ اسلامیہ کے فکری معمار تھے۔
اقبالیات ان کی تحقیق کا مرکزی میدان تھا۔ انہوں نے شاعرِ مشرق کے افکار کو نہ صرف سمجھا بلکہ نئی نسل تک مؤثر انداز میں منتقل کیا۔ ان کی تحریروں میں اقبال کی فکری گہرائی، خودی کا فلسفہ، ملت کا تصور اور عشقِ رسولﷺ کی حرارت پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ اقبال کو محض شاعر نہیں بلکہ ایک مفکر، مصلح اور عہد ساز رہنما سمجھتے تھے۔ ان کے مضامین میں اقبال کی فکر کو عصرِ حاضر کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے، جس سے قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اقبال آج بھی ہمارے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔
میں اس موقع پر اپنی کتاب ”حیات و افکار اقبال“ کا ذکر نہ کروں تو ناانصافی ہوگی۔ میری خوش نصیبی ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے اس کتاب پر ایک نہایت گہرا، مفصل اور مدلل مضمون تحریر فرمایا۔ انہوں نے میرے کام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تحقیقی نکات کی نشاندہی کی، فکری جہات کو واضح کیا اور اس کا علمی جائزہ پیش کیا۔ ان کا وہ مضمون میرے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔ انہوں نے نہ صرف میری کتاب کی خوبیوں کو اجاگر کیا بلکہ علمی دیانت کے ساتھ اصلاحی پہلو بھی بیان کیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی تحریر نے میری کاوش کو مزید معتبر اور مستند بنا دیا۔ ان کی اچانک رحلت سے مجھے ایک مربّی دوست سے محروم ہونے کا احساس ہوا۔
اپنے ایک اہم مضمون "کتاب بہترین دوست" میں انہوں نے کتاب اور مطالعہ کی اہمیت کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا، اس مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ کتاب انسان کی سب سے مخلص دوست ہے، جو کبھی بے وفائی نہیں کرتی۔ کیا دلکش اندازِ تحریر اور کتنا اہم پیغام ہے:
" مطالعہ کتب ہمارے لیے سانس کی طرح ضروری ہے. کتابیں ہمیں زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہیں. انسان زندگی گزارنے کے لیے دوستوں کا سہارا لیتا ہے. یہ دوست ملتے ہیں پھر بچھڑ جاتے ہیں. زندگی کے سفر میں سب سے مخلص دوست کتاب ہے۔ کتاب ایک اچھے انسان کی شخصیت کا لباس ہے. وہ اپنی شخصیت کا نکھار مطالعہ کتب سے حاصل کرتا ہے. ایک کتاب کا مطالعہ انسان کو تنہائی سے آسمانوں پر اُڑنا سکھاتا ہے. وہ لفظوں کی وجہ سے زندگی کا سرور حاصل کرتا ہے. کتاب حقیقت سے ہٹے ہوئے طالب علموں کو منزلِ مقصود کا پتا دیتی ہے"
انہوں نے قرآن پاک کو سب سے بڑی نعمت اور رہنمائے کامل قرار دیا۔ مطالعہ کتب کو ذہنی ارتقا کا سنگ میل بتایا اور نوجوان نسل کو کتابوں سے رشتہ جوڑنے کی تلقین کی۔ ان کے نزدیک کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیبوں کی امین، تجربات کی محافظ اور قوموں کی تقدیر بدلنے والی قوت ہیں۔ علم کی اہمیت پر ڈاکٹر ہارون رشید تبسم کا ایمان غیر متزلزل تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ قومیں اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب وہ علم سے دور ہو جاتی ہیں۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کا اصل ذریعۂ افتخار اس کے اہلِ علم ہوتے ہیں، نہ کہ بلند و بالا عمارتیں۔ وہ بارہا اس امر پر زور دیتے کہ اگر ہم نے اپنی علمی روایت کو زندہ نہ رکھا تو ہماری شناخت کمزور پڑ جائے گی۔ ان کا ماننا تھا کہ علم محض معلومات کا نام نہیں بلکہ کردار سازی، اخلاقی تعمیر اور فکری بالیدگی کا ذریعہ ہے۔
حب الوطنی ان کی شخصیت کا بنیادی وصف تھا۔ وہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت سمجھتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے حوالے سے ان کے مضامین اور کتب میں گہری عقیدت اور تاریخی شعور جھلکتا ہے۔ وہ محمد علی جناح کو عزم و استقلال کی علامت قرار دیتے اور نوجوانوں کو ان کی سیرت سے سبق لینے کی تلقین کرتے۔ ان کے نزدیک پاکستان محض جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک امانت اور ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم نے اپنے مشاہیر کی تعلیمات کو فراموش کر دیا تو ہماری شناخت دھندلا جائے گی۔
بطور اسکاؤٹ بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اسکاؤٹنگ نظم و ضبط، خدمتِ خلق، دیانت داری اور حب الوطنی کی تربیت دیتی ہے، اور ڈاکٹر ہاروں رشید تبسم نے ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنایا۔ وہ نوجوانوں کو کردار سازی، وقت کی پابندی اور اجتماعی شعور کا درس دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ قوموں کی تعمیر محض درسگاہوں میں نہیں بلکہ عملی تربیت گاہوں میں بھی ہوتی ہے۔ اسکاؤٹ کی حیثیت سے انہوں نے نوجوانوں میں خدمتِ انسانیت کا جذبہ بیدار کیا۔
ان کی ذہانت اور حاضر جوابی مشہور تھی۔ علمی مجالس میں وہ مدلل گفتگو کرتے، حوالہ جات کے ساتھ بات پیش کرتے اور اختلافِ رائے کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے۔ ان کی زبان شستہ، اسلوب رواں اور انداز دلنشیں تھا۔ وہ بہترین مقرر بھی تھے اور بہترین لکھاری بھی۔ ان کے مضامین میں سلاست، ترتیب اور استدلال کی قوت نمایاں نظر آتی ہے۔ ادبی حلقوں میں ان کا احترام بے حد تھا۔ وہ نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے، ان کی تحریروں پر رہنمائی فراہم کرتے اور انہیں علمی دیانت کا سبق دیتے۔ ان کا گھر اور ان کا کمرۂ مطالعہ ایک چھوٹی سی لائبریری کا منظر پیش کرتا تھا۔ کتابوں سے ان کی محبت مثالی تھی۔ وہ واقعی کتاب کو بہترین دوست سمجھتے تھے اور اسی دوستی کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیا تھا۔
جب ان کے انتقال کی خبر ملی تو علمی و ادبی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ سرگودھا سے لے کر لاہور تک اور ملک کے مختلف شہروں میں ان کے شاگردوں، رفقا اور اہلِ قلم نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تعزیتی ریفرنسز منعقد ہوئے، اخبارات میں مضامین شائع ہوئے اور سوشل میڈیا پر ان کی خدمات کو یاد کیا گیا۔ ہر شخص یہی کہہ رہا تھا کہ ایک عہد ساز معلم، ایک باوقار محقق اور ایک سچا محب وطن ہم سے رخصت ہو گیا۔ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا وہ مدتوں پُر نہ ہو سکے گا۔
میں جب ان کی حیات پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی زندگی علم، قلم اور کردار کے نام وقف کر دی تھی۔ 118 سے زائد علمی و ادبی کتب اور 27 سے زیادہ نصابی کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انھوں نے وقت کو ضائع نہیں کیا بلکہ ہر لمحہ قوم کی فکری تعمیر میں صرف کیا۔ ان کی تصانیف آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے اقبالیات کو عام فہم انداز میں پیش کیا، تاریخ کو زندہ کیا، اخلاقی اقدار کو اجاگر کیا اور نوجوانوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کی۔ آج جب ہم علمی زوال اور مطالعہ سے دوری کا شکوہ کرتے ہیں تو ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی زندگی ہمارے سامنے ایک مثال بن کر آتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر عزم ہو، نیت خالص ہو اور محنت مسلسل ہو تو ایک فرد بھی فکری انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ ان کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی تحریریں، ان کے شاگرد اور ان کی خدمات ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی علمی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔