شالا نظر نہ لگے
- تحریر یاسر پیرزادہ
- جمعہ 06 / مارچ / 2026
ایک زمانہ تھا کہ گھر میں صبح چھ بجے اخبار آتا تھا جو اُس وقت کا ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام سب کچھ ہوا کرتا تھا، گھر والے سارا دن اسی اخبار سے چِمٹے رہتے تھے۔ اگر کسی دن بہت ہی بڑا کوئی واقعہ رونما جاتا تو شام کو اخبارات ضمیمہ شائع کر دیتے تھے جو چند ہی گھنٹوں میں چوراہوں پر پہنچ جاتا تھا۔
ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی سے بھی خبریں نشر ہوتی تھیں مگر اُن میں چونکہ سرکاری ٹچ ہوتا تھا اِس لیے اُن کی وہ اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ کچھ لوگ بی بی سی ریڈیو سنتے تھے جو اُس زمانے میں خبروں کا واحد آزاد اور مستند ذریعہ سمجھا جاتا تھا مگر اُس کے لیے رات کا انتظار کرنا پڑتا تھا اور اُس کی آواز میں شوں شاں بھی بہت ہوتی تھی۔ لیکن اب تو دنیا ہی بدل چکی ہے۔ اِدھر واقعہ ہوتا ہے اور اُدھر سوشل میڈیا پر اُس کی نہ صرف براہ راست رپورٹنگ شروع ہو جاتی ہے۔ بلکہ ویڈیو کلپس آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اُس واقعے پر نہایت اعلیٰ اور سنجیدہ تبصرے بھی پڑھنے کو مل جاتے ہیں اور منچلے اُس پر چُٹکلے بھی بنا کر ایک دوسرے کو بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جو حملہ کیا ہے اور اُس کے جواب میں ایران نے جو میزائل اور ڈرون پھینکے ہیں، اُس کی خبریں نہ صرف آناً فاناً سوشل میڈیا پر پھیل گئیں بلکہ اُن کے مناظر بھی سامنے آ گئے۔ دبئی کے ہوائی اڈے پر حملے کا احوال اور اُس شہر کے پُرشکوہ ہوٹلوں پر ڈرون حملوں کی ویڈیوز چند ہی گھنٹوں میں ہر شخص کے موبائل فون میں پہنچ چکی تھیں، جبکہ آج سے بیس پچیس سال پہلے یہ باتیں خواب میں بھی نہیں سوچی جا سکتی تھیں۔
میڈیا کی اِس کایا کلپ کا جہاں یہ نقصان ہوا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز مشکل ہو گئی ہے اور جعلی خبروں میں سے مستند خبریں تلاش کرنا جوکھم کا کام بن گیا ہے۔ وہیں اِس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ خبر پر چند اداروں یا افراد کی اجارہ داری ختم ہو گئی ہے۔ پہلے اِس قسم کے واقعات پر صرف چند تجزیہ نگار ہی تبصرہ کیا کرتے تھے مگر اب آپ ایکس کھولیں تو وہاں ایسے ایسے چشم کشا تبصرے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ بندہ اش اش کر اٹھتا ہے۔ اور یہ تبصرے نہ تو ثقیل ہوتے ہیں اور نہ ہی غیر ضروری طور پر طویل۔ اِن میں سادہ اور سمجھ میں آنے والی بات کی جاتی ہے۔ مثلاً جب سے یہ ایران اسرائیل جنگ شروع ہوئی ہے اور اِس کے نتیجے میں دبئی اور امارات کے دیگر شہروں میں خوف کا ماحول طاری ہے اُس پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا اِن فیشن ایبل شہروں کی نسبت جو اپنے دفاع کے لیے دوسروں کے محتاج ہیں، پاکستان جیسی ریاست جس کے پاس طاقتور فوج اور جوہری ہتھیار ہیں، زیادہ محفوظ نہیں ہے؟
یار لوگ دبئی کے ہوائی اڈے کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جن میں مسافر کار پارکنگ میں گدے بچھا کر لیٹے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ کب وہ اپنے گھروں کو جائیں گے اور ساتھ ہی وہ ویڈیوز بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں جن میں دبئی کے ٹرمینل نمبر تین پر حملے کے نتیجے میں دھواں اٹھ رہا ہے اور لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔
یہ وہی دبئی کا ہوائی اڈہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے لیے جہاز اڑان بھرتے تھے مگر اب وہاں ہُو کا عالم ہے۔ ہوائی سفر کے دوران یہاں محض عبوری قیام (ٹرانزٹ) کرتے ہوئے بھی عجیب سا سرور محسوس ہوتا تھا اور اُن لوگوں پر رشک آتا تھا جن کے دبئی میں اپارٹمنٹس تھے۔ امارات نے دنیا کو محفوظ اور پُر آسائش طرز زندگی ہی تو بیچا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو گا، کیا دبئی اور امارات کی چکا چوند ماند پڑ جائے گی یا جب حالات نارمل ہوں گے تو وہی عیاشی واپس آ جائے گی؟ کوئی ٹھوس پیش گوئی کرنا تو مشکل ہے لیکن مجھے یوں لگتا ہے کہ جنگ بندی کے بعد فوری طور پر اِن شہروں کی حالت نہیں سنبھلے گی، انہیں کچھ وقت لگے گا اور محفوظ ریاست کا تاثر بحال کرنے کے لیے انہیں کوئی پائیدار حل تلاش کرنا پڑے گا۔
یہ حل کسی دفاعی معاہدے کی صورت میں ہو سکتا ہے یا پھر اُن ممالک سے ضمانت کی صورت میں جن سے انہیں مستقل خطرہ رہتا ہے، اِس سے کم پر بات نہیں بنے گی۔ ممکن ہے کچھ لوگ اِس تجزیے سے اتفاق نہ کریں اور دلیل دیں کہ یہ وقتی ابال ہے، دنیا میں جنگیں ہوتی ہیں تو ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ویسے بھی لوگوں کی یادداشت مختصر ہوتی ہے، جب جنگ کے بادل چھٹیں گے تو لوگ بھول بھال جائیں گے۔ آخر نیویارک پر بھی تو حملہ ہوا تھا، کیا اُس کے بعد امریکہ ویران ہو گیا! جی ہاں، 9 / 11 ہوا تھا مگر اُس کے بعد پوری دنیا تبدیل ہو گئی۔ امریکہ نے اپنی حفاظت کے لیے روانڈا سے مدد نہیں مانگی بلکہ افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ لوگوں کی یادداشت یقیناً مختصر ہوتی ہے مگر جس خطے کا نام مشرق وسطیٰ ہے وہاں صرف اسرائیل بدمعاشی سے رہ سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار، لڑاکا طیارے اور امریکہ کی حمایت ہے۔ جب تک امارات والے اپنی حفاظت کا ٹھوس بندوبست نہیں کرتے اور خطے کی سیاسی ہیئت نہیں بدلتی، خطرہ بدستور رہے گا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بھی دلچسپ بحث جاری ہے کیونکہ پاکستان کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہے کہ کس کا ساتھ دے اور کس کی مذمت کرے۔ مگر تاحال پاکستان نے کمال دانشمندی سے کام لیا ہے اور اِس وقت ماننا پڑے گا کہ ہماری خارجہ پالیسی کے نمبر پورے ہیں۔ ایکس پر ایک ستم ظریف نے کیا عمدہ تبصرہ کیا ہے : ”پاکستان امارات کے ساتھ کھڑا ہے، ایران کے ساتھ بیٹھا ہے، سعودی عرب کے ساتھ کام کر رہا ہے، امریکہ کے ساتھ گُلچھرے اڑا رہا ہے، کویت کے ساتھ جِم جا رہا ہے اور اِس قدر تھکا دینے والے دن کے بعد انڈیا اور افغانستان کا بینڈ بھی بجا رہا ہے۔“ ایک اور صاحب ہیں جنہوں نے اپنے ایکس کھاتے پر سلطان راہی کی تصویر لگائی ہوئی ہے، اُن کا تبصرہ اِس سے بھی تخلیقی ہے : ”پاکستان ایسی حکمت عملی بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس کی مدد سے وہ افغانستان، بھارت اور ایران کے ساتھ ملنے والی سرحدوں کو محفوظ رکھ سکے، ایران پر حملے کی مذمت کر سکے، جی سی سی کو بھی خوش رکھے، اپنے ملک میں فرقہ واریت سے بھی اجتناب کرے، امریکہ کی خوشنودی بھی حاصل رہے اور اسرائیل سے خود کو بچانے کا بندوبست بھی کرے۔“ یہ ایسا ہی ہے جیسے تنے ہوئے رسّے پر چہل قدمی کی جائے جبکہ پاکستان تو ڈمبل ہاتھوں میں لے کر ٹہل رہا ہے۔
اِس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو دنیا کی اسٹاک مارکیٹیں گِر چکی ہیں، سرمایہ کاروں کا پیسہ ڈوب رہا ہے، اور تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ ائرلائنز نے اپنی پروازیں معطل کر رکھی ہیں، مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بند ہیں، ہوائی اڈوں میں الّو بول رہے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ اب کیا ہو گا۔ لیکن پاکستان میں الحمدللہ سحری اور افطاری کے بوفے لگے ہیں، لوگ قطار میں لگ کر رس ملائی کھا رہے ہیں اور خواتین عید کے جوڑے پسند کرکے ایک دوسرے کو وٹس ایپ کر رہی ہیں۔ خدا کرے کہ ہماری بات ایسے ہی بنی رہے، شالا نظر نہ لگے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)