ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک پر مزید حملے نہ کرنے کا اعلان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پڑوسی ممالک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔ جب تک کوئی دوسرا ملک حملہ نہیں کرتا، ہم بھی حملہ نہیں کریں گے۔ ایرانی صدر نے حملے کرنے پر پڑوسی ممالک سے معذرت بھی کی۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ عبوری لیڈر شپ کونسل نے پڑوسی ممالک کےخلاف کوئی حملہ یا میزائل حملہ نہ کرنےکی منظوری دے دی ہے۔مسعود پزشکیان نے دوٹوک کہا کہ ایران امریکا اسرائیل کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا۔ دشمن کو ایرانی عوام کے ہتھیار ڈالنے کی خواہش کو قبر میں لے جانا پڑے گا۔
اس سے پہلے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تصدیق کی کہ کچھ دوست ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں، ان سے یہی کہا ہے کہ جنہوں نے حملہ کیا ہے ان سے بات کریں۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایران بلاشرط ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے اب تک 6 ہزار 668 سویلین عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ایرانی ہلال احمر کےمطابق 5 ہزار 535 رہائشی عمارتوں پر حملےکیے گئے،ایک ہزار 41 کمرشل عمارتوں پر حملہ کیا گیا، 14 طبی مراکز، 65 سکول اور ہلال احمر کے 13 دفاتر نشانہ بنے۔
عرب لیگ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے بتایا ہے کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کل ایک ہنگامی اجلاس منعقد کریں گے جس میں متعدد عرب ممالک کی سرزمین پر ایران کے حملوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ حسام ذکی نے کہا کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والا یہ اجلاس کویت، سعودی عرب، قطر، عمان، اردن اور مصر کی درخواست پر منعقد کیا جا رہا ہے۔
ادھر بیروت پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حزب اللہ کے داغے گئے متعدد راکٹس دفاعی فضائی نظام کو چکما دیتے ہوئے اسرائیل کے شمالی علاقے میں واقع ایک فوجی کیمپ کے نہایت قریب گرے۔ حزب اللہ کے راکٹس حملوں میں اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹرچ کے بیٹے سمیت 8 فوجی اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیلی پر میزائلوں سے تازہ حملے کیے ہیں۔ ایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں بھی کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 4 کی تیئیسویں لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس مرحلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطین میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اثنا ایک علیحدہ کارروائی میں ایرانی بحریہ نے سمندر میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابرہام لنکن کو نشانہ بنانے کے لیے ساحل سے سمندر میں مار کرنے والا میزائل فائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک 43 ایرانی جنگی جہازوں کو نقصان یا تباہ کیا جا چکا ہے، ایران میں 3 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔