ٹرمپ کا ایران پر حملے شدید کرنے کا اعلان

  • ہفتہ 07 / مارچ / 2026

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں میں نئے اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

 امریکی صدر نے ایرانی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ’معافی مانگی ہے اور اپنے مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جبکہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر حملہ نہیں کرے گا‘۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صدر نے یہ وعدہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے کیا ہے۔

ایرانی صدر کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کے اعلان کے باوجود دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب ایک ڈرون گرا جبکہ قطر کا بھی یہ کہنا ہے کہ اس نے ایک میزائل کو روکا ہے۔

بعدازاں ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ آج ایران کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران میں مکمل تباہی اور یقینی موت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ایسے علاقوں اور افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جنہیں اب تک ہدف نہیں بنایا گیا‘۔

دریں اثنا ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز میں جلتے ہوئے جہاز کی یہ تصویر شیئر کی ہے۔ پاسداران انقلاب گارڈز نے اس سے سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے خلیج میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا جو آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔ بیان کے مطابق وہ آئل ٹینکرز اور تجارتی جہاز ’جو دُشمن ممالک کے حمایتی ہیں‘ انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب بی بی سی اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے بھی اعلان کیا ہے کہ تہران اور اصفہان میں ایرانی حکومت کے ’انفراسٹرکچر‘ کے خلاف نئے حملوں کی ’بڑے پیمانے پر لہر‘ شروع کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس خبر کا اعلان چند منٹ قبل ایکس نیٹ ورک پر اپنے فارسی زبان کے اکاؤنٹ پر کیا۔ نئے حملوں کا اعلان اس وقت کیا جا رہا ہے جب تہران میں گزشتہ رات شدید بم دھماکے ہوئے اور دارالحکومت کے مغرب میں واقع مہرآباد ایئرپورٹ پر دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔