ایران، امریکہ و اسرائیل جنگ کا انجام
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 07 / مارچ / 2026
امریکہ، اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ معلوم نہیں کب تک چلے گی لیکن چند ہی دنوں میں یہ اکیس ممالک تک جا پہنچی ہے۔ جرمنی، برطانیہ و فرانس بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔
امریکی سینیٹ میں اس جنگ کو لگام دینے کی ایک کوشش کی گئی تھی کہ ”امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری تک اس جنگ کو روک دینا چاہیے“۔ قرارداد ناکام ہوگئی ۔اس قرارداد کے حق میں 47جبکہ اس کی مخالفت میں 53ووٹ پڑے اس طرح یہ قرارداد ناکام ہو گئی۔ امریکی رائے عامہ کے سرویز کی رپورٹیں بھی ملے جلے رجحانات ظاہر کررہی ہیں۔ کچھ کانگریس ممبربلا تفریق پارٹی تعلق جنگ کی مخالفت کررہے ہیں۔
امریکہ میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایران چونکہ براہ راست امریکہ کے لئے کوئی خطرہ نہیں، اس لئے اس کے ساتھ براہ راست جنگ امریکی مفاد میں نہیں ہے۔ کچھ لوگ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ اسرائیل کے لئے ہے۔ امریکہ کواس میں شریک نہیں ہونا چاہیےلیکن یہ بھی ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ جنگ میں سب سے بڑی ہلاکت سچ کی ہوتی ہے اور وہ تو ہو چکی۔ امریکی صدر نے جنگ شروع کرنے اور ایران پر حملہ آور ہونے کی جو وجوہات بتائی تھیں وہ بھی درست ثابت نہیں ہوئیں۔ امریکی سی آئی اے بتا چکی ہے کہ ایران امریکی مفادات کے لئے کسی قسم کے خطرات کا باعث نہیں تھااور نہ ہی وہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
امریکی صدر ایران کی جوہری صلاحیت اور میزائل صلاحیت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ رجیم کی تبدیلی کے لئے میدان میں اترے ہیں۔ تاثر یہ ہے کہ انہیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گھیر گھار کر اس جنگ میں اپنے ساتھ ملوث کر لیا ہے۔ امریکی جنگی مشین یہاں خطے میں وارد ہو چکی ہے، جنگ چھڑ چکی ہے ایران نے جنگ کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی میں ہی نہیں سٹاک مارکیٹ میں بھی بھونچال آگیا ہے۔ برنٹ آئل کی قیمت 84ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ 100ڈالر تک بھی جا سکتی ہے۔ گیس کی قیمت میں 40فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ قطر نے دنیا کی سب سے بڑے گیس پیداواری یونٹ کو بند کر دیا ہے۔ تیل کی باربرداری کا بہت بڑا راستہ آبنائے ہرمز ایران نے بند کر دیا ہے۔ تیل کی عالمی تجارت کا 20فیصد اس آبنائے سے گزرتا ہے۔ امریکی صدر نے اسے کھولنے اور کھلا رکھنے کا اعلان کیا تھا لیکن عملاً ایسا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔
ایران، امریکہ پر دباؤ بڑھاتا چلا جا رہا ہے اس پر حملے جاری ہیں۔ راکٹ / میزائل بازی کے ذریعے دھڑا دھڑ حملے کئے جا رہے ہیں۔ 20ہزار ڈالر کے ایک ایرانی ڈرون کو گرانے کے لئے ایک لاکھ ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں ایسا ہی کچھ ایرانی میزائلوں کو گرانے کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کی لاگت/ قیمت خاصی زیادہ ہے۔ ایرانی قوم اپنی بقاکی جنگ لڑ رہی ہے ،وہ آخری فرد اور آخری گولی تک لڑنے کے لئے تیار نظرآ رہے ہیں۔ ایران ایک مملکت ہے جہاں کی آبادی قومیت اور مسلک کے اعتبار سے متحد ہے۔ ایرانیوں کو شیعہ مسلک نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا ہے۔ ایرانی ریاست پر مرجع / آیت اللہ براجمان ہے جس کا حکم آخری سمجھا جاتا ہے۔ مسلکی اعتبار سے شیعہ اسے حرف آخر سمجھتے ہیں۔ یہ عقیدہ نظام کو مضبوط بناتا ہے۔
طویل عالمی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ عوام میں ایرانی حکومت کی پذیرائی میں کمی بھی واقع ہوئی ہے۔ حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے بھی ہوئے ہیں لیکن امریکہ کے رجیم کی تبدیلی کے نعروں نے عوام کو حکومت کی پشت پر کھڑا کر دیا ہے۔ امریکہ کی کال پر ایرانی عوام اٹھ کھڑے نہیں ہوئے۔ اس لئے سردست رجیم چینج کا امریکی خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے بھی اس حوالے سے امریکی منصوبہ سازی کو کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیا۔امریکہ نے اب عراقی کردوں کو ایرانی فوج کے مد مقابل کھڑا کرنے اور لڑانے کی منصوبہ بندی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے اس طرح رجیم چینج کی پلاننگ کامیاب بنانے کی کاوشیں شروع کی جا چکی ہیں۔
دوسری طرف امریکہ اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کاوشیں کررہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو یسوع مسیح کی طرف سے ایک چنیدہ شخصیت قرار دیا جا رہا ہے جنہیں شیطان کے ساتھ لڑنے اور اسے ختم کرنے کا مقدس فریضہ سونپا گیا ہے۔ ویسے امریکی صہیونی عیسائیوں اور صہیونی یہودیوں کو پہلے بھی کبھی شک نہیں تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ لڑنا انہیں تباہ کرنے کی کوشش کرنا ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف دینی جذبے کے ساتھ ہی برسرپیکار ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے عرب بھائی صہیونی، عیسائی امریکیوں و برطانویوں کو اپنا دوست اور مددگار سمجھتے رہے ہیں۔
ویسے حالیہ جنگ نے عربوں پر واضح کر دیا ہے کہ امریکی اڈوں کی موجودگی اور امریکیوں سے دوستی، ان کی سلامتی کی قطعاً ضمانت نہیں ہے۔ امریکیوں کو تو اپنا آپ بچانا مشکل ہو رہا ہے۔ وہ عربوں کو کیسے بچائیں گے۔ ایرانی میزائل بلا تفریق اسرائیل اور عرب ممالک پر برس رہے ہیں۔ قطر ہو یا عمان، سعودی عرب ہو یا امارات، ایرانی میزائل تباہی پھیلا رہے ہیں۔ ایران نے ایک ٹن وزنی وار ہیڈ والے میزائل برسانا شرو ع کر دیئے ہیں۔ خلیج فارس میں امریکی آئل ٹینکر بھی تباہ کرنے کی اطلاعات ہیں جو کچھ بھی ہو عربوں کا کباڑہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ عربوں کی بیچارگی اظہر من الشمس ہو چکی ہے ۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایرانی میزائل اسرائیل پر قیامت صغریٰ برپا کررہے ہیں۔
ایرانیوں کا اسرائیل کو ختم کرنے کا نعرہ حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔ یہ کوئی جذباتی یا ہوائی بات نہیں ہے کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے۔ حالیہ جنگ اسرائیل کے خاتمے کی ایک منی ایچر ہے۔ اسرائیل کوئی ناقابل تسخیر ریاست نہیں ہے۔ عسکری اعتبار سے بھی اسرائیل ناقابل شکست نہیں ہے ۔اس کی پشت پر اگر امریکہ ،برطانیہ اور دیگر عیسائی اقوام نہ ہوں تو اسے پلک جھپکنے میں نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ ایران نے یک و تنہا اس پر جو قیامت برپا کردی ہے، وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے نعرے کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔
ایران نے اسرائیل و امریکہ کی متحدہ اور عربوں کی مشترکہ قوت کو للکارا ہے۔ اس سے جنگ شروع کر دی ہے۔ ایران بقا کی جنگ لڑرہا ہے۔ جنگ اس پر مسلط کی گئی ہے لیکن یاد رہے جنگیں اخلاقیات کے سہارے لڑی تو جا سکتی ہیں جیتی نہیں جا سکتیں۔ دنیا کی عظیم وار مشین کے مقابلے میں میزائلوں کے ساتھ جنگ جیتنا ممکن نہیں ہوگا۔ انجام ہمارے سامنے ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)