ایرانی صدر کی معافی، امریکہ کی فتح؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 07 / مارچ / 2026
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہمسایہ عرب ممالک پر حملے کرنے پر معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ اگر ان ممالک سے ایران پر حملے نہیں کیے جاتے تو ان پر حملے نہیں ہوں گے۔ تاہم ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے متعلق صدر ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’آخر تک لڑے گا‘۔
دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں میں شدت لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایرانی صدر کے بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایران نے اپنے پڑوسی ممالک سے معافی مانگ لی ہے۔ ایرانی صدر کے اس بیان کے بعد بھی اگرچہ ایران کی طرف سے عرب ممالک پر میزائل پھینکنے کا سلسلہ جاری رہا لیکن دنیا بھر میں اس بیان کی اہمیت زیر بحث ہے اور غور کیا جارہا ہے کہ یہ بیان کس حد تک ایران کی دفاعی حکمت عملی کو بیان کرتا ہے۔ سوال ہے کہ کیا ایران میزائل اور ڈرونز کا اسٹاک کم ہونے کی وجہ سے اب عرب ممالک پر حملوں سے گریز کی پالیسی کا اعلان کررہا ہے یا پھر اس نے سفارتی کوششوں اور اسٹریٹیجک ضرورتوں کے تحت یہ اقدام کیا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اس بیان کو ویسا ہی ’سرنڈر‘ سمجھا جاسکتا ہے جیسا صدر ٹرمپ نے اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے تو یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بیان کو ایران کا سرنڈر کہہ کر اور دوسری طرف ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور سے تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد امریکہ یک طرفہ طور سے اس جنگ کو بند کرنے کاا علان کرے جس کے بعد اسرائیل بھی امریکی تقلید میں جنگ بندی پر راضی ہوجائے۔ گو کہ یہ سب سے سہل اور خوش کن طریقہ ہوگا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے لیے صرف مسعود پزشکیان کا ایک بیان شاید کافی نہ ہو۔ وہ اس سے پہلے ایران میں من پسند لیڈر کے انتخاب کو بھی جنگ بندی کی اہم شرط کے طور پر پیش کرچکے ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا تھا کہ مرحوم رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای قابل قبول نہیں ہوں گے۔
اب ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ نئے رہبر اعلیٰ کے چناؤ کا عمل آئیندہ چوبیس گھنٹے میں مکمل ہوسکتا ہے اور انتخابی کونسل نئے رہبر اعلیٰ کے چناؤ کا اعلان کرسکتی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے علاوہ کسی بھی شخص کے چناؤ پر صدر ٹرمپ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اعتدال پسند ہے اور اس کی قیادت میں ایران ’دن دوگنی رات چوگنی ’ ترقی کرے گا۔ ٹرمپ جس انداز میں مؤقف تبدیل کرتے ہیں اور جیسے اسم ہائے صفت استعمال کرنے کے عادی ہیں، ان کی روشنی میں ان سے کسی بھی قسم کا بیان متوقع ہے ۔ تاہم جنگ بندی کے ممکنہ اعلان کی امید کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ امریکہ پربند ی کا کتنا دباؤ ہے۔
اس میں تو شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ امریکی صدر جب جنگ کی صورت حال پر قریب ترین رفقا سے مشاورت کرتے ہوں گے تو جنگ بند کرنے کا آپشن لازمی طور سے زیر بحث آتا ہوگا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو کسی بھی ملک کے پاس جنگی اخراجات برداشت کرنے کے لیے لامحدود وسائل میسر نہیں ہوتے۔ امریکی حکومت بھی طاقت ور اور وسائل پر دسترس رکھنے کے باوجود خسارے میں جانے والی معیشت ہے جس پر ہر آنے والے دن کے حساب سے قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جتنی جنگیں لڑی ہیں، ان کا زیادہ تر مالی بوجھ عرب ممالک سے وصول کیا گیا تھا۔ یا امریکہ کے یورپی حلیف ممالک نے یہ بوجھ بانٹنے کے لیے کاندھا فراہم کیا تھا۔ اس بار عرب ممالک خود ایرانی حملوں کی زد میں ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے تیل و گیس کی پیداوار یا تو بند ہوچکی ہے یا اس میں کمی کی گئی ہے۔ جنگ طویل ہونے کی صورت میں خلیجی ممالک کے بارے میں یہ بھروسہ کم ہوتا چلا جائے گا کہ وہ سیاحت ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ترین مقامات ہیں۔ اس معاشی دباؤ سے نہ صرف خلیجی و عرب ممالک متاثر ہوں گے بلکہ فالتو وسائل کو عالمی معاشی نظام میں شامل کرنے اور امریکہ میں سرمایہ کاری جیسے منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔ جنگ کے بعد ان تمام ممالک کو جنگ سے ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے کثیر وسائل سرکار ہوں گے۔ یہ حالات بالواسطہ طور سے امریکی معیشت پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
یہ پہلو بھی صدر ٹرمپ کے پیش نظر ہوگا کہ امریکی عوام میں یہ جنگ مقبول نہیں ہے۔ امریکہ کے بیشتر لوگ اس جنگ کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی سال نومبر میں مڈ ٹرم انتخابات ہونے والے ہیں جن کے لیے انتخابی مہم جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس پس منظر میں اگرچہ ٹرمپ جنگ جوئی کی صلاحیت کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ جب تک چاہے اس جنگ کو جاری رکھ سکتا ہے لیکن زمینی حقائق ان دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔ اس تناظر میں شاید امریکہ کے لیے پانچ چھے ہفتے تک جنگ کو طول دینا بھی آسان نہیں ہوگا۔ جنگ جوئی ہی کے حوالے سے جنگ طول ہونے کے ساتھ ہتھیاروں کی سپلائی بھی اہم مسئلہ بن کر سامنے آنا شروع ہوگا۔ ایران کی طرف سے حیران کن طور سے جیسے جنگ کو پھیلایا گیا ہے، اس کی وجہ سے امریکہ کو کئی محاذوں پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا سامنا ہے۔ انہیں روکنے کے لیے استعمال ہونے والے سسٹم کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہوگا۔ اگر اس میں کہیں بھی کمزوری دکھائی گئی تو ایران اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ امریکہ یا اسرائیل تمام تر عسکری بالادستی کے باوجود ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ ایران کے پاس میزائل اور ڈرونز کا کتنا ذخیرہ ہے اور وہ کس تیزی سے انہیں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بارے میں محض قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں یا اندازے قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن جنگ شروع ہونے پر بیشتر اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں اور میدان جنگ ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کسے کامیابی مل رہی ہے۔
تیل و گیس کے علاوہ دنیا بھر میں اشیائے صرف کی فراہمی میں بھی ایران کے زیر کنٹرول آبنائے ہرمز کا اہم کردار ہے۔ اگرچہ ایران سرکاری طور سے یہی کہتا ہے کہ اس نے یہ سمندری گزرگاہ بند نہیں کی لیکن عملی طور سے پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ دشمن ممالک یا ان کی حمایت کرنے والے ممالک کے جہاز اس راستے سے نہیں گزرنے دے گا۔ اس طرح بحری سفر میں رکاوٹ اور تیل و گیس کی قلت عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوگی۔ امریکہ کے حلیف ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ان عوامل کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا۔
تہران میں حکومت تبدیل کرانے میں ناکامی کی وجہ سے اس حملہ کا اصل امریکی مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔ اس لیے جب تک ایران سے ایک میزائل یا ڈرون بھی دشمن کے اہداف کی طرف بھیجا جارہا ہے، امریکہ اپنی حتمی کامیابی کا اعلان نہیں کرسکتا۔ ایران اگر اپنا نظام بچاتے ہوئے امریکی حملے بند کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ اس کی کامیابی ہی تصور ہوگی۔ لیکن امریکہ اسے ایران کا ’سرنڈر‘ کہہ کر اپنی کامیابی کا اعلان ضرور کرسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کے لیے ناکامی قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ نہ امریکہ جیسی بڑی طاقت یہ اعلان کرے گی کہ اس نے ہفتہ بھر قبل ایران پر حملوں کا آغاز کرکے غلط اقدام کیا تھا، اس لیے اب انہیں بند کیا جارہا ہے۔ اس پس منظر میں سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جو شاید فریقین کو یکساں طور سے اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کی طرف سے معافی مانگنے اور کبھی سرنڈر نہ کرنے کا بیان درحقیقت دوست ممالک کی طرف سے ہونے والی سفارت کاری کی کامیابی بھی ہوسکتی ہے۔ لگتا ہے ایرانی لیڈروں کو باور کرایا گیا ہے کہ عرب ہمسایہ ممالک کو فریق بنا کر ا س نے میدان جنگ بہت وسیع کرلیا ہے۔ اسے محدود کرنا خود اس کے اپنے مفاد میں ہوگا۔ دوسری طرف عرب ممالک کے دارالحکومتو ں میں بھی یہ احساس اجاگر ہؤا ہے کہ امریکہ کے ذریعے ایران کو تباہ کرواکے خود مشرق وسطیٰ کی سیاست میں فیصلہ کن طاقت بننے کا خواب پورا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ عربوں نے ایرانی صدر کی معافی کو اگر درست سفارتی جذبے سے سمجھنے کی کوشش کی تو یہ امکان موجود ہے کہ ان ممالک پر حملے بند ہوجائیں۔ تاہم انہیں یہ ضمانت دینی ہوگی کہ ان کے ملکوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے ایران پر حملے نہیں ہوں گے۔ اس بڑی تصویر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، دفاعی منصوبہ بندی سے زیادہ سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر مسعود پرشکیان کا بیان ایسی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے تو اس بڑے اور خوفناک عالمی تنازعہ میں پاکستان کے کردار اور اثر و رسوخ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
پاکستان کےعرب ممالک کے علاوہ امریکہ کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ پاکستان فریقین کے درمیان بالواسطہ ثالثی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کوششوں میں کامیابی سے نہ صرف ایرا ن جنگ بند ہوسکتی ہے بلکہ پاکستان کے لیے معاشی، سفارتی و اسٹریٹیجک امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔